ARTICLES

حاجی بچی ہوئی کنکریوں کا کیا کرے اور کیا نہ کرے ؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ لوگ رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں اور احتیاطا زیادہ ہی لیتے ہیں جب رمی کے ایام پورے ہوجاتے ہیں تو کچھ کنکریاں بچ جاتی ہیں ان کا کیاکیا جائے اور کچھ لوگ بھول کر اگر وہ کنکریاں ،عزیزیہ،مکہ مکرمہ لے ائیں تو اس صورت میں کیا حکم ہوگاکچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کو دفن کیا جائے اس کی حقیقت کیا ہے اور جو بچی ہوئی کنکریاں جمرات کو ماردے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

(السائل : مولانا انوار الحق نعیمی،مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں جو کنکریاں بچ جائیں وہ کسی دوسرے کو دے دے جسے اس کی ضرورت ہو۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ لکھتے ہیں :

واذا ارادان ینفر ومعہ حصی دفعھا الی غیرہ ان احتاج۔(62)

یعنی،جب کوئی اس حال میں (منیٰ سے ) لوٹنے کا ارادہ کرے کہ اس کے پاس کنکریاں ہوں تو اگر کسی کو حاجت ہو تو اسے دے دے ۔ اور اگر کوئی لینے والا نہ ملے تو اسے کسی پاک جگہ رکھ دے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملاعلی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(والا فیطرحھا فی موضع طاھر) ای خشیۃ تنجسھا عبثا۔(63)

یعنی،اگر کوئی لینے والا نہ ہو تو وہ اسے کسی پاک جگہ ڈال دے یعنی اس کے بلاوجہ ناپاک ہونے کے خوف سے ۔ باقی رہا دفن کرنا تو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور ملا علی قاری لکھتے ہیں :

(ودفنھا لیس بشیء) ای کما یفعلہ بعض العوام۔(64)

یعنی،اسے دفن کرنے کی کوئی حقیقت نہیں جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں ۔ اور انہیں جمرات پر مارنا مکروہ ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور ملا علی قاری لکھتے ہیں :

(ورمیھا علی الجمرۃ)ای زیادۃ علی العدد المسنون (مکروہ) ای لمخالفۃ السنۃ۔(65)

یعنی،اور ان بچی ہوئی کنکریوں کو جمرات پر مارنا یہ عدد مسنون پر زیادتی ہے جو کہ سنت کی مخالفت کی وجہ سے مکروہ ہے ۔ اور یہاں کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی کیونکہ فقہائ کرام نے صراحت کی ہے کہ ’’سنت کی مخالفت کی وجہ سے مکروہ ہے ‘‘

واللٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم السبت،28،ذوالحجۃ،1439ھ۔1،سبتمبر 2018م FU-43

حوالہ جات

(62) لباب المناسک و عباب المسالک، باب رمی الجمار واحکامہ ،فصل فی رمی الیوم الرابع، ص164

(63) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط،باب رمی الجمار واحکامہ ،فصل فی رمی الیوم الرابع ، ص : 344

(64)لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط،باب رمی الجمار واحکامہ ،فصل فی رمی الیوم الرابع ، ص : 344

(65) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب رمی الجمار واحکامہ ،فصل فی رمی الیوم الرابع ، ص : 344

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button