ARTICLESشرعی سوالات

حائضہ کا بوقت رخصت کعبہ کی زیارت کرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ عورت دورانِ حیض مسجد حرام میں کہاں تک جا سکتی ہے جیسا کہ علماء کرام نے لکھا ہے کہ حیض والی وقتِ رُخصت حسرت بھری نگاہوں سے خانہ کعبہ کو دیکھے نیز صفا و مروہ پر جا سکتی ہے یا نہیں ؟

(السائل : محمد فیاض از لبیک حج گروپ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حالتِ حیض میں عورت کو مسجد میں داخل ہونا ممنوع ہے اور کعبہ معظمہ کو دیکھنا ممنوع نہیں ہے اور اِس وقت مسجد حرام کے چند دروازے ایسے ہیں کہ جن سے کعبہ معظمہ نظر آجاتا ہے جیسے بابُ العُمرہ اور باب عبدالعزیز وغیرہما۔ اسی لئے علماء کرام نے حیض والی عورت کے لئے لکھا ہے کہ وہ رُخصت کے وقت مسجدِ حرام کے کسی دروازے سے کعبہ معظمہ کی زیارت کرے اور دعا مانگ کر رُخصت ہو چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبد الغفورٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

حائض و نفساء در وقت وداع از کعبہ در حال ارادہ خروج برائے سفر داخل نہ شود در مسجد بلکہ بایستد بردروازہ مسجد ہر دروازہ کہ باشد باب حزورہ، وہو الأفضل و دعا خواند باُمورِ خیریہ إلخ (75)

یعنی، حیض اور نفاس والی عور ت کعبہ معظمہ سے وداع ہوتے وقت جب وہ سفر پر نکلنے کا ارادہ کر لے مسجد میں داخل نہ ہو بلکہ وہ مسجد کے کسی بھی دروازے پر کھڑی ہو جائے ، برابر ہے کہ باب حزورہ (76)ہو اور وہ افضل ہے اور اُمورِ خیر کی دعا کرے ۔ ایسی عورت صفا و مروہ دونوں پہاڑیوں اور مسعیٰ پر جا سکتی ہے کیونکہ مسعیٰ مسجد سے خارج ہے چنانچہ علامہ ابو الولید محمد بن عبد اللہ احمد ازرقی متوفی 250ھ لکھتے ہیں : علامہ ازدی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ہم کتاب اللہ عزّ وجلّ میں پاتے ہیں کہ مسجد حرام کی حدّ حزورہ سے مسعیٰ تک ہے ۔ (77) اور علامہ محمد بن اسحاق خوارزمی حنفی متوفی 827ھ لکھتے ہیں : جان لیجئے کہ بیت اللہ مسجد حرام کے وسط میں ہے اور مسجدِ حرام مکہ معظمہ کے وسط میں ہے اور صفا مشرق کی جانب مسجدِ حرام سے خارج اور مروہ اسی طرح جانبِ شمالی میں ہے ۔ (78)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 21 ذو القعدہ 1429ھ، 19نوفمبر 2008 م 474-F

حوالہ جات

75۔ حیاۃ القلوب فی زیارت المحبوب، باب یازدہم، فصل چہارم دربیان کیفیت وداع علی الدجال، ص229

76۔ مفتی وقاضی مکہ امام ابوالبقاء محمد ابن الضیا ء مکی حنفی متوفی 854ھ لکھتے ہیں : ’’باب الحزورہ‘‘ سے مراد وہ دروازہ ہے جواجیادکبیر سے ملے ہوئے منارے سے متصل ہے ، مکہ مکرمہ کی عوام اسے ’’ باب عزورہ‘‘ کے نام سے پکارتی ہے یعنی ’عین‘‘ کے ساتھ لیکن صحیح یہی ہے کہ ’’حزورہ‘‘ حا کے ساتھ ہے ، اس کے دوطاق ہیں : علامہ ازرقی نے فرمایا : اسے ’’باب حکیم بن حزام‘‘ اور ’’ باب بنی الزبیر بن العوام‘‘ کہاجاتاہے اور اس پر ’’باب الحزامیہ‘‘ (کانام) غالب ہے ۔

اور ’’البحر العمیق‘‘ کے محقق نے لکھا ہے کہ ’’محقّق ازرقی استاد ملحس نے کہا کہ یہ وہ دروازہ ہے جیسے ’’باب الوداع‘‘ کے نام سے پکارا جاتاہے ۔(البحر العمیق، الباب التاسع عشر، ذکر عددأبواب المسجد الخ، 5/2591)

اور محقق عبدالفتاح حسین نے لکھا کہ ’’حزورہ‘‘یہ مکہ مکرمہ کا ایک بازار تھا سعودیہ حکومت کی آخری توسیع میں اسے مسجد حرام میں داخل
کرایاگیا۔(الافصاح علی مسائل الایضاح علی مذاھب الائمۃ الأربعۃ وغیرھما، ص389، مطبوعۃ : دارالبشائر الاسلامیہ ، بیروت، الطبعۃ الثانیۃ : 1414ھ ، 1994م)

77۔ أخبار مکۃ، باب ذکر غور زمزم و ما جاء فی ذلک، ذکر حدّ مسجد الحرام، 2/63

78۔ إثارۃ التّرغیب و التّشویق، القسم الأول، الفصل الخامس و الخمسون فی ذکر ما جاء فی بناء المسجد الحرام، ص302

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button