ARTICLESشرعی سوالات

حائضہ عورت اور طوافِ وداع

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ طوافِ وداع واجب ہے ، ایک عورت نے طوافِ زیارت کیا تو اس کے ایام شروع ہو گئے اسے اتنا موقع نہ ملا کہ اور طواف کرتی یہاں تک کہ اس کی وطن روانگی کا وقت آ گیا یا مدینہ منورہ روانہ ہو گئی تو اس صورت میں کیا کرے ؟

(السائل : محمد سہیل قادری از لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں عورت کو چاہئے کہ وہ طوافِ وداع نہ کرے اور وطن یا شیڈول کے مطابق مدینہ منورہ چلی جائے یہ طواف اگرچہ آفاقی کے لئے واجب ہے مگر حائضہ اور نفاس والی عورت سے یہ واجب ایسی صورت میں ساقط ہو جاتا ہے اور نہ اس واجب کے ترک پر گنہگار ہوتی ہے اور نہ ہی دم لازم آتاہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

دو از دہم آنکہ اگر زن حائض گشت قبل از اداء طوافِ وداع و ہنوزپاک نشدہ است کہ رفقاء او قصد رجوع ببلدہ او کردند و تا طہارت این زن فرصت نمی کنند پس ساقط گردد طوافِ وداع ازین زن و لازم نمی آید چیزے بروے بترک آن الخ (231)

یعنی، بارہواں یہ کہ اگر عورت کو طوافِ وداع ادا کرنے سے قبل ماہواری آ گئی اور وہ ابھی حیض سے پاک نہ ہوئی تھی کہ اس کے رفقاء نے اس کے شہر رجوع کا قصد کر لیا اور اس عورت کے پاک ہونے تک فرصت نہ دی تو اس عورت سے طوافِ وداع ساقط ہو جائے گا اور اُس پر اس کے ترک کی وجہ سے کچھ لازم نہ آئے گا۔ اور صدر الشریعہ محمد امجد علی متوفی 1367ھ ’’عالمگیری‘‘ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : حیض والی مکہ سے جانے سے قبل پاک ہو گئی تو اس پر یہ طواف واجب ہے اور اگر جانے کے بعد پاک ہوئی تو اسے یہ ضرور نہیں کہ وہ واپس آئے اور واپس آئی تو طواف واجب ہو گیا جب کہ میقات سے باہر نہ ہوئی تھی۔ (230) یاد رہے کہ طوافِ زیارت کے بعد اگر کوئی نفلی طواف کیا تھا تو اس سے طوافِ وداع ادا ہو گیا تھا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الثلاثاء، 13ذوالحجۃ 1427ھ، 2ینایر 2007 م (338-F)

حوالہ جات

231۔ حیاۃ القلوب فی زیارہ المحبوب، باب اول ، فصل پنجم، ص83

232۔ بہار شریعت، حج کا بیان،طواف رخصت، ص1152

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button