ARTICLES

حائضہ اور حج تمتع

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ہم لوگ پاکستان سے ائے تھے مکہ مکرمہ ائے عمرہ ادا کرکے مدینہ منورہ چلے گئے اب ہم مدینہ شریف سے حج کے ارادے سے مکہ مکرمہ کے لئے نکل رہے ہیں ہمارے ساتھ خواتین بھی ہے ان میں سے ایسی خواتین کہ جن کے ایام ماہواری قریب ہیں کہ شاید ان کو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کرنے کی بھی فرصت نہ ملے کہ ماہواری شروع ہوجائے اور پھر وہ عورت کیا کرے اگر وہ عمرہ کا احرام باندھتی ہے تو عمرہ ادا نہ کرپائی گی کہ یوم عرفہ اجائے گا اور اگر صرف حج کا احرام باندھ کر اتی ہے تو اس کا حج تمتع رہے گا یانہیں ؟

(السائل : حافظ فاروق امجدی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں ایسی عورت کو چاہیئے کہ صرف حج کا احرام باندھے اور وہ اگروہ عمرہ کا احرام باندھے گی پھرعمرہ ادا نہ کرسکی یوم عرفہ اگیا تو عمرہ کو چھوڑنا اور حج کا احرام باندھنا ہوگا جس پر چھوڑے ہوئے عمرے کی قضاء اور عمرہ ادا کئے بغیر عمرہ کا احرام کھولنے کا دم لازم ائے گا۔ اور یہ عور ت چونکہ پاکستان سے ائی ہے اور عمرہ کا احرام باندھ کر ائی تھی اتے ہی عمرہ ادا کیا پھر مدینہ شریف روانہ ہوئی اب اگر وہاں سے حج کا احرام باندھ کر ائی ہے تو اس کا حج تمتع ہی رہے گا کیونکہ وہ احرام کھولنے کے بعد اپنے وطن کو نہیں لوٹی صرف مدینہ شریف گئی ہے اور وہ اس کا وطن نہیں ہے ۔چنانچہ متمتع کا ذکر کرتے ہوئے علامہ حسن بن منصور اوزجندی حنفی متوفیٰ : 295 ھ لکھتے ہیں :

المتمتع عندنا من یاتی باعمال العمرۃ او یطوف اکثر طوافھا فی اشھر الحج ثم یاتی بالحج ویحج من عامہ ذلک قبل ان یلم باھلہ بینھما الماما صحیحا وان احرم بالعمرۃ قبل اشھرالحج وطاف لھا فی اشھر الحج وحج فی عامہ ذلک عندنا یکون متمتعا لان اداء افعال العمرۃ فی اشھر الحج بمنزلۃ ابتداء الاحرام فی اشھر الحج۔‘‘ (56)

یعنی : متمتع ہمارے نزدیک وہ ہے جو اشہر حج میں تمام افعال عمرہ یااکثر طواف عمرہ ادا کرے اوراسی سال اپنے اہل کو المام صحیح کئے بغیر حج ادا کرے اور اگر عمرہ کا احرام حج کے مہینوں سے قبل باندھا تھا اور عمرہ کا طواف حج کے مہینوں میں کیا اوراسی سال حج کیا تو وہ متمتع ہوگا کیونکہ حج کے مہینوں میں افعال عمرہ ادا کرنا اشہر حج میں احرام باندھنے کے مرتبے میں ہے ۔ اور علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161 ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے مزید لکھا :

یحج من عامہ ذلک قبل ان یلم باھلہ بینھما الماما صحیحا۔ (57)

یعنی : اور وہ عمرہ اور حج کے مابین اپنے اہل کو المام صحیح کرنے سے قبل اسی سال حج ادا کرے ۔ اورا لمام صحیح کے بارے میں علامہ نظام الدین حنفی1161ھ اور علماء ہند کی ایک جماعت نے لکھا :

والاالمام الصحیح ان یرجع الیٰ اھلہ ولایکون العود الی مکۃ مستحقًا علیہ کذافی ’’المحیط‘‘ (58)

یعنی : المام صحیح یہ ہے کہ (عمرہ اداکرنے کے بعد)اپنے اہل کو لوٹ جائے اور مکہ کو لوٹنا اس پر واجب نہ ہواسی طرح ’’محیط ‘‘ میں ہے اور مذکورہ خاتون عمرہ ادا کرکے مدینہ شریف گئی ہے جو اس کا وطن نہیں ہے اس لئے جب وہ مدینہ شریف سے حج کا احرام باندھ کر ائے گی اورحج ادا کرے گی تو اس کا حج تمتع ہی رہے گا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

ذو الحجۃ 1436ھـ، ستمبر 2015 م 977-F

حوالہ جات

56۔ فتاوی قاضیخان علی ھامش الفتاوی الھندیۃ،کتاب الحج،فصل فی التمتع،1/304

57۔ الفتاوی الہندیۃ، کتاب المناسک، الباب السابع فی القران والتمتع،1/238

58۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب السابع فی القران والتمتع، 1/238

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button