ARTICLESشرعی سوالات

جہری نماز میں ترکِ جہر کا حکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد حرام میں اپنی علیحدہ جماعت کروانے کی صورت میں امام نے جہری نماز میں فتنے کے خوف سے قرأت میں آواز کو بلند نہ ہونے دیا کبھی کبھی آواز بہت آہستہ ہو جاتی تو اس صورت میں نماز کا حکم کیا ہو گا؟ اور مسجدِ نبوی شریف میں چالیس نمازیں پرھنے کی جو فضیلت وارد ہے وہ باجماعت نماز پڑھنے والے کے لئے ہے یا تنہا نماز پڑھنے والے کو بھی حاصل ہو گی؟

(سائل : محمد خرم عبد القادر، رنچھوڑلائن، کراچی)

جواب

باسمہ سبحانہ وتعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں جو نمازیں ادا کی گئیں ان میں امام نے اگر اتنی آواز کے ساتھ قرأت کی تھی کہ جسے صف اول میں سُنا جاسکتا تھا تو وہ نمازیں درست ہوگئیں ۔چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : ’’جہر کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی جو صفِ اول میں ہیں سُن سکیں یہ ادنیٰ درجہ ہے اور اعلیٰ درجہ کے لئے حد مقرر نہیں اور آہستہ یہ کہ خود سُن سکے ‘‘ ۔ (136) اور علامہ محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1198ھ میں ہے :

وأدنی الجھر إسماع غیر ممن لیس بقربہ کأھل الصف الأول و أعلاہ لاحد لہ فافھم۔ (137)

یعنی، ادنی جہر اپنے اس غیر کو سُنانا ہے جو قریب نہ ہو جیسے پہلی صف والے اور اعلیٰ جہر کی کوئی حد نہیں ۔ اور صفِ اول تک کے تمام افراد تک بھی امام کی قرأت کی آواز پہنچنا شرط نہیں چنانچہ علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی متوفی 1231ھ لکھتے ہیں :

قولہ (ویجب جھر الإمام) الواجب منہ أدناہ وھو أن یسمع غیرہ، ولو واحداً وإلا کان اسراراً، فلو أسمع اثنین من أعلی الجھر۔ حموی عن ’’الخزانۃ‘‘۔ (138)

یعنی، علامہ شرنبلالی کا قول کہ امام پر جہر واجب ہے واجب کا ادنی یہ کہ دوسرے کو سُنائے اگرچہ ایک ہی ہو ورنہ اخفا ہوگا پس اگر دو نے سُنا تو اعلیٰ جہر ہے ۔ اب اگر امام نے ایسا جہر کیا جسے صف اول میں موجود چند افراد سن سکتے ہوں تو واجب ادا ہوجائے گا ورنہ ادا نہ ہوگااور سجدہ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ اور اگر عمداً اسے ترک کیا تو سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز درست نہ ہوگی۔ جہری نمازوں میں امام پر جہر واجب ہے جیسا کہ علّامہ محمد بن عبداللہ غزی حنفی تمرتاشی متوفی 1004ھ لکھتے ہیں :

ویجھر الإمام وجوباً فی الفجر و أولیی العشائین أدائً و قضائً إلخ (139)

یعنی، اور امام فجر، اور مغرب و عشاء کی پہلی دورکعتوں میں جہری قرأت کرے خواہ ادا ہو یاقضاء۔ اور امام نے اگر جہری نماز میں ایسا جہر کیا جسے صف اول میں نہ سنا جاسکتا ہوتو وہ جہر نہیں ہے لہذا سجدہ سہو لازم ہوگا بشرطیکہ عمداً ایسا نہ کیا ہو ۔چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

لو جھر الإمام فیما یخافت أو خافت فیما یجھر تلزمہ سجدتا السھو لأن الجھر وموضعہ والمخافۃ فی موضعہ من الواجبات۔ (140)

یعنی، امام نے آہستہ پڑھنے کی جگہ جہر کیا اور جہر کی جگہ آہستہ پڑھا تو اسے دو سجدے سہو لازم ہوں گے کیونکہ جہر اپنی جگہ پر اور اخفاء اپنی جگہ پر واجبات میں سے ہیں ۔ اور اگرسجدہ سہو نہ کیا تو نمازیں لوٹانی ہوں گی جیسا کہ علامہ حصکفی لکھتے ہیں :

وتعاد وجوباً فی السھو إن لم یسجد لہ ملخصاً (141)

یعنی، سجدہ سہو واجب ہونے کی صورت میں اگر سجدہ نہ کیا تو نماز کو لوٹانا واجب ہے ۔ یہ تو سہوا ً ترک جہر کا حکم تھااب اگر جان بوجھ کر جہری نماز میں جہر کو ترک کرتا ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے تو اس پر نماز کا اعادہ لازم ہو گا، سجدہ سہو کافی نہ ہو گا جیسا کہ ’’بہار شریعت‘‘ (1/3/73) میں ہے ۔ یہ مسئلہ کہ جہاں نہ جماعت ملتی ہو اور الگ جماعت قائم کرنے کی صورت میں فتنے کا قوی امکان ہو وہاں نماز پنجگانہ کے لئے جماعت کروائی جائے یا انفرادی طور پر پڑھی جائے تو اس کے جواب میں حضرت ضیاء الملت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’احتیاط اسی میں ہے کہ اپنی نماز اگر ممکن ہوسکے تو الگ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے اور اگر بہتر ہو تو انفرادی طور پر ادا کرے ویسے فساد سے بچنے کے لئے ‘‘۔ (143) اور ایسی صورت میں جہاں جماعت نہ ملے اور نہ خود قائم کی جا سکتی ہو تنہا نماز پڑھنے والا گنہگار نہیں ہوتا کہ گناہ ترکِ واجب پر ہے اور وہاں یہ واجب ہی نہیں ۔

واللہ تعالی أعلم بالصواب و إلیہ المرجع والماٰب

20 جمادی الأولٰی 1422ھ۔ 11 اغسطس 2001م (Ref : 090-2001 JIA-111)

حوالہ جات

136۔ بہار شریعت، حصہ سوم، کتاب الصلاۃ، قرآن مجید پڑھنے کا بیان، 1/544

137۔ رد المحتار،کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، مطلب فی الکلام إلخ، وأدی الجھر إسماع غیرہ ….إلخ،2/309

138۔ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ وارکانھا، فصل فی بیان واجب الصلاۃ، ص252۔253

139۔ تنویر الأبصار وشرحہ الدرالمختار،کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ص73

140۔ الھدایہ،کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، 1۔2/158

141۔ تنویر الأبصار وشرحہ الدرالمختار،کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ص456

143۔ امام حرم اور ہم، مصنفہ علامہ فیض احمد اویسی، قطب مدینہ کا فتویٰ، ص15

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button