ARTICLES

جو شخص بلا احرام مکہ ائے پھر حج کا احرام باندھے

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص میقات کے باہر سے بلا احرام مکہ مکرمہ پہنچ گیا اگر وہ میقات سے بلا احرام گزرنے کا دم دے دیتا ہے تو وہ حج افراد کر سکتا ہے ؟

(السائل : محمد عبد اللہ، جدہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اگر اس نے حج کے مہینوں میں عمرہ ادا نہیں کیا تھا اور اس نے صرف حج کا احرام باندھا ہے تو اس کا حج حج افراد ہو گا یا وہ حج کے مہینوں میں عمرہ تو ادا کر چکا ہے مگر عمرہ ادا کرنے کے بعد وہ بلا احرام اپنے وطن گیا تھا تو بھی اس کا حج حج افراد ہو گا۔ اور اگر اس نے حج کے مہینوں میں عمرہ کر لیا تھا پھر اپنے وطن واپس نہ گیابلکہ میقات کے اندر جیسے جدہ یا میقات سے باہر کسی جگہ گیا جیسے مدینہ طیبہ یا طائف تو اس صورت میں اس کا حج حج تمتع ہو گا۔ کیونکہ حج تمتع یہی ہے کہ اشہر حج میں عمرہ ادا کرے اور اسی سال حج کرے درمیان میں المام صحیح نہ پایا جائے یعنی وہ بلا احرام اپنے وطن نہ جائے جیسا کہ امام عبد اللہ بن محمود بن مورود موصلی حنفی متوفی 683ھ لکھتے ہیں :

وصفتہ : ان یحرم بعمرۃ فی اشھر الحج و یطوف ویسعی، و یحلق او یقصر و قد حل، ثم یحرم بالحج یوم الترویۃ و قبلہ افضل و یفعل کالمفرد (32)

یعنی، تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے طواف اور سعی کرکے حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام کھول دے پھر یوم ترویہ یا اس سے قبل حج کا احرام باندھے اور مفرد کی طرح افعال حج ادا کرے ۔ اور حافظ الدین ابو البرکات احمد بن عبد اللہ نسفی حنفی متوفی 710ھ لکھتے ہیں :

وھو ان یحرم بعمرۃ من المیقات فیطوف لھا و یسعی و یحلق او یقصر و قد حل منھا، ثم یحرم بالحج یوم الترویۃ من الحرم (33)

یعنی، تمتع یہ ہے کہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھے پھر اس کا طواف و سعی کر کے حلق یا تقصیر کرکے عمرہ سے فارغ ہو پھرترویہ کے روز حرم سے حج کا احرام باندھے ۔ امام عبد اللہ بن محمود موصلی حنفی ’’المختار‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں :

وھو الجمع بین افعال العمرۃ والحج فی اشھر الحج فی سنۃ واحدۃٍ باحرامین بتقدیم افعال العمرۃ من غیر ان یلم باھلہ الماما صحیحا، حتی لو احرم قبل اشھر الحج و اتی بافعال العمرۃ فی اشھر الحج کان متمتعا و لو طاف طواف العمرۃ قبل اشھر الحج او اکثرہ لم یکن متمتعا والالمام الصحیح ان یعود الی اھلہ بعد افعال العمرۃ حلالا (34)

یعنی، تمتع ایک ہی سال میں حج کے مہینوں میں دو احراموں کے ساتھ افعال عمرہ کی تقدیم کے ساتھ اپنے اہل سے المام صحیح کئے بغیر عمرہ اور حج کے افعال کو جمع کرنا ہے یہاں تک کہ اگر حج کے مہینوں سے قبل عمرہ کا احرام باندھا اور افعال عمرہ حج کے مہینوں میں ادا کئے تو متمتع ہوگا، اور اگر عمرہ کا مکمل یا اکثر طواف حج کے مہینوں سے قبل ادا کیا تو متمتع نہ ہو گا۔ اور المام صحیح یہ ہے کہ افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول کر اپنے اہل کو لوٹے ۔ اور اسے بلا احرام مکہ مکرمہ انے کا دم دینا ہوگا کہ میقات سے احرام باندھنا واجب ہے اور ترک واجب گناہ ہے اس لئے اسے توبہ کرنی ہوگی جیساکہ ہمارے دیگر فتاوی میں اس کی تفصیل مذکورہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

ذو الحجۃ 1436ھـ، ستمبر 2015 م 969-F

حوالہ جات

32۔ المختارالفتوی، کتاب الحج، باب التمتع، ص : 82

33۔ کنز الدقائق ، کتاب الحج، باب التمتع، ص 234

34۔ الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الحج، باب التمتع، 1/205

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button