بہار شریعت

جواب دعوی

جواب دعوی

مسئلہ ۱: ایک شخص نے دوسرے پر دعوی کیا کہ یہ چیز جو تمھارے پاس ہے میری ہے مدعی علیہ نے کہا میں دیکھوں گا غور کروں گا ۔ یہ جواب نہیں ہے ۔ جواب دینے پر مجبور کیا جائے گا ۔ یوہیں اگر یہ کہا مجھے معلوم نہیں یا یہ کہا معلوم نہیں میری ہے یا نہیں یا کہا معلوم نہیں مدعی کی ملک ہے یا نہیں ان سب صورتوں میں دعوے کا جواب نہیں ہوا جواب دینے پر مجبور کیا جائے گا اور ٹھیک جواب نہ دے تو اسے منکر قرار دیا جائے (عالمگیری)

مسئلہ ۲: جائداد کا دعوی کیا مدعی علیہ نے جواب دیا اس جائداد میں منجملہ تین سہام دوسہام میرے ہیں جو میرے قبضہ میں ہیں اور ایک سہم فلاں غائب کی ملک ہے جو میرے ہاتھ میں امانت ہے ۔ مدعی علیہ کا جواب مکمل ہے مگر خصومت اس وقت دفع ہوگی کہ ایک سہم کا امانت ہونا گواہ سے ثابت کردے (عالمگیری)

مسئلہ ۳: مکان کا دعوی کیا کہ یہ میرا ہے مدعی علیہ نے غصب کرلیا ہے ۔ مدعی علیہ نے کہا کہ یہ پورا مکان میرے ہاتھ میں بوجہ شرعی ہے مدعی کو ہرگز نہیں دونگا ۔یہ جواب غصب کے مقابل میں پورا ہے کہ غصب کا انکار ہے مگر ملک کے متعلق نا کافی ہے (عالمگیری)

مسئلہ۴: مکان کا دعوی تھا مدعی علیہ نے کہا مکان میرا ہے پھر کہا وقف ہے یا یوں کہا کہ یہ مکان وقف ہے اور بحیثیت متولی میرے ہاتھ میں ہے یہ مکمل جواب ہے مدعی علیہ کو گواہوں سے وقف ثابت کرنا ہوگا (عالمگیری)

دوشخصوں کے دعوے کرنے کے متعلق مسائل

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کے دو حقدار ایک شخص ( یعنی ذی الید) کے مقابل میں کھڑے ہوجاتے ہیں ہر ایک اپنا حق ثابت کرتا ہے ۔ یہ بات پہلے بتائی گئی ہے کہ خارج کے گواہ کو ذوالید کے گواہ پر ترجیح ہے مگر جب کہ ذوالید کے گواہوں نے وہ وقت بیان کیا جو خارج کے وقت سے مقدم ہے تو ذدالید کے گواہ کو ترجیح ہوگی مگر بعض صورتیں بظاہر ایسی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے ذدالید کی تاریخ مقدم ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم نہیں مثلاً کسی نے دعوی کیا کہ یہ چیز میری ہے ایک مہینہ سے میرے یہاں سے غائب ہے ذوالید کہتا ہے یہ چیز ایک سال سے میری ہے مدعی کے گواہوں کو ترجیح ہوگی اور اسی کے موافق فیصلہ ہوگا مدعی نے ملک کی تاریخ نہیں بیان کی ہے تاکہ ذوالید کے گواہوں کوترجیح دی جائے بلکہ غائب ہونے کی تاریخ بتائی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ملک مدعی کی تاریخ ایک سال سے زیادہ کی ہو (درمختار) ۔

مسئلہ۱: ہر ایک یہ کہتا ہو کہ یہ چیز میرے قبضہ میں ہے اگر ایک نے گواہوں سے اپنا قبضہ ثابت کر دیا تو وہی قابض مانا جائیگا دوسرا خارج قرار دیا جائے گا پھر وہ شخص جس کو قابض قرار دیا گیا اگر گواہوں سے اپنی ملک مطلق ثابت کرنا چاہے گا مقبول نہ ہوں گے کہ ملک مطلق میں ذوالید کے گواہ معتبر نہیں اور قبضہ کے گواہ نہ پیش کرے تو حلف کسی پر نہیں (بحر)

مسئلہ۲: ایک شخص نے دوسرے سے چیز چھین لی جب اس سے پوچھاگیا تو کہنے لگا میں نے اس لئے لے لی کہ یہ چیزمیری تھی اور گواہوں سے اپنی ملک ثابت کی یہ گواہ مقبول ہیں کہ اگرچہ اس وقت یہ ذوالیدہے مگرحقیقت میں ذوالید نہ تھا بلکہ خارج تھا اس سے لے لینے کے بعد ذوالید ہوا (بحر)

مسئلہ۳: ایک شخص نے زمین چھین کر اس میں زراعت بوئی دوسرے شخص نے دعوی کیا کہ یہ زمین میری ہے اس نے غصب کرلی اگر گواہوں سے اس کا غصب کرنا ثابت کرے گا ذوالید یہ ہوگا اور کھیت بونے والا خارج قرار پائے گا او راگر اس کا قبضۂ جدید نہیں ثابت کرے گا تو ذوالید وہی بونے والا ٹھہرے گا ۔ ان مسائل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظاہری قبضہ کے اعتبار سے ذوالید نہیں ہوتا (بحر)

مسئلہ۴: دو شخصوں نے ایک معین چیز کے متعلق جو تیسرے کے قبضہ میں ہے دعوی کیا ہر ایک اس شے کو اپنی ملک بتاتا ہے اور سبب ملک کچھ نہیں بیان کرتا اور نہ تاریخ بیان کرتا اور اپنے دعوے کو ہر ایک نے گواہوں سے ثابت کردیا وہ چیز دونوں کو نصف نصف دلادی جائے گی کیونکہ کسی کو ترجیح نہیں ہے ۔(درمختاروغیرہ)

مسئلہ۵: زید کے قبضہ میں مکان ہے عمرو نے پورے مکان کا دعوی کیا اور بکرنے آدھے کا اور دونوں نے اپنی ملک گواہوں سے ثابت کی اس مکان کی تین چوتھائی عمرو کو دی جائے گی اور ایک چوتھائی بکر کو کیونکہ نصف مکان تو عمرو کو بغیر منازعت ملتا ہے اس میں بکر نزاع ہی نہیں کرتا نصف میں دونوں کی نزاع ہے یہ نصف دونوں میں برابر تقسیم کردیا جائے گا۔ اور اگر مکان انھیں دونوں مدعیوں کے قبضہ میں ہے تو مدعی کل کو نصف بغیر قضاملے گا کیونکہ اس نصف میں دوسرا نزاع ہی نہیں کرتا اور نصف دوم اسی کو بطور قضاملے گا کیونکہ یہ خارج ہے اور خارج کے گواہ ذوالید کے مقابل میں معتبر ہوتے ہیں (ہدایہ)

مسئلہ۶: مکان تین شخصوں کے قبضہ میں ہے ایک پورے مکان کا مدعی ہے دوسرا نصف کا تیسرا ثلث کا یہاں بھی مکان ان تینوں میں بطور منازعت تقسیم ہوگا(درمختار) یعنی اس مکان کے چھتیس(۳۶) سمام کیے جائیں گے جو کل کا مدعی ہے اس کو پچیس سہام ملیں گے اور مدعی نصف کو سات سہام اور مدعی ثلث کو چار سہام ۔

مسئلہ۷: جائداد موقوفہ ایک شخص کے قبضہ میں ہے اس پر دو شخصوں نے دعوی کیا اور دونوں نے گواہوں سے ثابت کردیا وہ جائداد دونوں پر نصف نصف کردی جائے گی یعنی نصف کی آمدنی وہ لے اور نصف کی یہ مثلًا ایک مکان کے متعلق ایک شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ مجھ پر وقف ہے اور متولی مسجد یہ دعوی کرتا ہے کہ مسجد پر وقف ہے اگر دونوں تاریخ بیان کردیں تو جس کی تاریخ مقدم ہے وہ حقدار ہے ورنہ نصف اس پر وقف قرار دیا جائے اور نصف مسجد پر یعنی وقف کا دعوی بھی ملک مطلق کے حکم میں ہے یونہی اگر ہر ایک کا یہ دعوی ہے کہ وقف کی آمدنی واقف نے میرے لیے قرار دی ہے اور گواہوں سے ثابت کردے تو آمدنی نصف نصف تقسیم ہوجائے گی (بحر)

مسئلہ ۸: دوشخصوں نے شہادت دی کہ فلاں شخص نے اقرار کیا ہے کہ اس کی جائداداولا د زید پر وقف ہے اور دوسرے دو شخصوں نے شہادت دی کہ اس نے یہ اقرار کیا کہ اس کی جائداد اولادعمرو پر وقف ہے اگر دونوں میں کسی کا وقت مقدم ہے تو اس کے لیے ہے اور اگر وقت کے متعلق مسائل ہی نہ ہو یا دونوں بیانوں میں ایک ہی وقت ہو تو نصف اولاد زید پر وقف قرار دی جائے اور نصف اولاد عمرو پر اور ان میں سے جب کوئی مر جائے گا تو اس کا حصہ اسی فریق میں ان کے لیے ہے جو باقی ہیں مثلًا زید کی اولاد میں کوئی مرا تو بقیہ اولاد زید میں منقسم ہوگی اولاد عمرو کو نہیں ملے گی ہاں اگر ایک کی اولاد بالکل ختم ہوگئی تو دوسرے کی اولاد میں چلی جائے گی کہ اب کوئی مزاحم نہیں رہا (بحر)

مسئلہ ۹: دعوائے عین کا یہ حکم جو بیان کیا گیا اس وقت ہے کہ دونوں نے گواہوں سے ثابت کیا ہواور گواہ نہ ہوں تو ذوالید کو حلف دیا جائے گا اگر دونوں کے مقابل میں اس نے حلف کرلیا تو وہ چیز اس کے ہاتھ میں چھوڑ دی جائیگی یوں نہیں کہ اس کی ملک قرار دی جائے یعنی اگر ان دونوں میں سے آئندہ کوئی گواہوں سے ثابت کردے گا تو اسے دلادی جائے گی اور اگر ذوالید نے دونوں کے مقا بل میں نکول کیا تو نصف نصف تقسیم کردی جائے گی اب اس کے بعد اگر ا ن میں سے کوئی گواہ پیش کرنا چاہے گا نہیں سنا جائے گا (بحر)

مسئلہ ۱۰: خارج اور ذوالید میں نزاع ہے خارج نے ملک مطلق کا دعوی کیا اور ذوالید نے یہ کہا میں نے اسی سے خریدی ہے یا دونوں نے سبب ملک بیان کیا اور وہ سبب ایسا ہے جو دو مرتبہ نہیں ہوسکتا مثلًا ہر ایک کہتا ہے کہ یہ جانور میرے گھر کا بچہ ہے یا دونوں کہتے ہیں کپڑا میرا ہے میں نے اسے بنا ہے یا دونوں کہتے ہیں سوت میرا ہے میں نے کاتا ہے ۔دودھ میرا ہے میں نے اپنے جانور سے دوہا ہے ۔اون میری ہے میں نے کاٹی ہے ۔غرض یہ کہ ملک کا ایسا سبب بیان کرتے ہیں جس میں تکرار نہیں ہوسکتی ہے ان میں ذوالید کے گواہوں کو ترجیح ہے مگر جب کہ ساتھ ساتھ خارج نے ذوالید پر کسی فعل کا بھی دعوی کیا ہو مثلاً یہ جانور میرے گھر کا بچہ ہے ذوالید نے اسے غصب کر لیا یا میں نے اس کے پاس امانت رکھی ہے یا اجارہ پر دیا ہے تو خارج کے گواہ کو ترجیح ہے (ہدایہ ،درمختار) مگر ظاہری طور پر اس کو خارج کہیں گے حقیقۃ ًخارج نہیں بلکہ یہی ذوالید ہے جیسا کہ ہم نے بحر سے نقل کیا ۔

مسئلہ۱۱: اگر خارج و ذوالید دونوں اپنی اپنی ملک کا ایسا سبب بتاتے ہیں کو مکرر ہو سکتا ہے جیسے یہ درخت میرا ہے میں نے پودا نصب کیا تھا یا وہ سبب ایسا ہے جو اہل بصیرت پر مشکل ہو گیا کہ مکرر ہوتا ہے یا نہیں تو ان دونوں صورتوں میں خارج کو تر جیح ہے(درمختار)

مسئلہ ۱۲: سبب کے مکرر ہو نے نہ ہونے میں اصل کو دیکھا جائے گا تا بع کو نہیں دیکھا جائے گا ۔ دو بکریاں ایک شخص کے قبضہ میں ہیں ایک سفید دوسری سیاہ ایک شخص نے گواہوں سے ثابت کیا کہ یہ دونوں بکریاں میری ہیں اور اسی سفید بکری کا یہ سیاہ بکری بچہ ہے جو میرے یہاں میری ملک میں پیدا ہوا۔ ذوالید نے گواہوں سے ثابت کیا کہ یہ دونوں میری ملک ہیں اور اس سیاہ بکری کا یہ سفید بکری بچہ ہے جو میری ملک میں پیدا ہوا اس صورت میں ہر ایک کو وہ بکری دیدی جائے گی ۔ جس کو ہر ایک اپنے گھر کا بچہ بتاتا ہے (بحر)

مسئلہ۱۳: کبوتر مرغی چڑیا یعنی انڈے دینے والے جانور کو خارج اور ذوالید ہر ایک اپنے گھر کا بچہ بتاتا ہے۔ ذوالید کو دلایا جائے گا ۔(بحر)

مسئلہ۱۴: مرغی غصب کی اس نے چندانڈے دئے ان میں سے کچھ اسی مرغی کے نیچے بٹھائے کچھ دوسری کے نیچے اور سب سے بچی نکلے تو وہ مرغی مع ان بچوں کے جواس کے نیچے نکلے ہیں مغصوب منہ (مالک) کو دی جائے اور یہ بچے جو غاصب نے اپنی مرغی کے نیچے نکلوائے ہیں غاصب کے ہیں (عالمگیری )

مسئلہ ۱۵: ایک جانور کے متعلق دو شخص مدعی ہیں کہ ہمارے یہاں کا بچہ ہے خواہ جانور دونوں کے قبضہ میں ہو یا ایک کے قبضہ میں ہو یا ان میں سے کسی کے قبضہ میں نہ ہو بلکہ تیسرے کے قبضہ میں ہو اگر دونوں نے تاریخ بیان کی ہے کہ اتنے دن ہوئے جب یہ پیدا ہوا تھا اور دونوں نے گواہوں سے ثابت کردیا تو جانور کی عمر جسکی تاریخ سے ظاہر طور پر موافق معلوم ہوتی ہو اس کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر تاریخ نہیں بیان کی تو ان میں سے جس کے قبضہ میں ہو اسے دیا جائے اور اگر دونوں کے قبضہ میں ہویا تیسرے کے قبضہ میں ہو تو دونوں برابر کے شریک کردیے جائیں گے اور اگر دونوں نے تاریخیں بیان کردیں مگر جانور کی عمر کسی کے موافق نہیں معلوم ہوتی یا اشکال پیدا ہوگیا پتہ نہیں چلتا کہ عمر کس کے قول سے موافق ہے تو اگر دونوں کے قبضہ میں ہے یا ثالث کے قبضہ میں تو دونوں کو شریک کردیا جائے اور اگر انھیں میں سے ایک کے قبضہ میں ہوتو اسی کے لیے ہے جس کے قبضہ میں ہے (درمختار)

مسئلہ۱۶: ایک شخص کے قبضہ میں بکری ہے اس پر دوسرے نے دعوی کیا کہ یہ میری بکری ہے میری ملک میں پیدا ہوئی ہے اور اسے گواہوں سے ثابت کیا جس کے قبضہ میں ہے اس نے یہ ثابت کیا کہ بکری میری ہے فلاں شخص سے مجھے اس کی ملک حاصل ہوئی اور یہ اسی کے گھر کا بچہ ہے اسی قابض کے موافق فیصلہ ہوگا (عالمگیری)

مسئلہ ۱۷: خارج نے گواہ سے ثابت کیا کہ جس نے میرے ہاتھ بیچا ہے اس کے گھر کا بچہ ہے اور ذوالید نے ثابت کیا کہ خود میرے گھر کا بچہ ہے ذوالید کے گواہوں کو ترجیح ہے (عالمگیری)

مسئلہ ۱۸: دو شخصوں نے ایک عورت کے متعلق دعوی کیا ہر ایک اس کو اپنی منکوحہ بتاتا ہے اور دونوں نے نکاح کو گواہوں سے ثابت کیا تودونوں جانب کے گواہ متعارض ہوکر ساقط ہوگئے نہ اس کا نکاح ثابت ہوا نہ اس کا اور عورت کو وہ لے جائے گا جس کے نکاح کی وہ تصدیق کرتی ہو بشرط یہ کہ اس کے قبضہ میں نہ ہو جس کے نکاح کی تکذیب کرتی ہو یا اس نے دخول نہ کیا ہو اور اگر اس کے قبضہ میں ہو جس کی عورت نے تکذیب کی یااس نے دخول کیا ہو دوسرے نے نہیں تو اسی کی عورت قرار دی جائے گی ۔ یہ تمام باتیں اس وقت ہیں جب کہ دونوں نے نکاح کی تاریخ نہ بیان کی ہو اور اگر نکاح کی تاریخ بیان کی ہو تو جس کی تاریخ مقدم ہے وہ حقدار ہے اور اگر ایک نے تاریخ بیان کی دوسرے نے نہیں تو جس کے قبضہ میں ہے یا جس کی تصدیق وہ عورت کرتی ہو وہ حقدار ہے (درمختار)

مسئلہ ۱۹: دو شخص نکاح کے مدعی ہیں اور گواہ ان میں سے کسی کے پاس نہ تھے ۔ عورت اس کو ملی جس کی اس نے تصدیق کی اس کے بعد دوسرے نے گواہ سے اپنا نکاح ثابت کیا تو اس کو ملے گی کیونکہ گواہ کے ہوتے ہوئے عورت کی تصدیق کوئی چیز نہیں (درمختار،ردالمحتار)

مسئلہ ۲۰: ایک نے نکاح کا دعوی کیا اور گواہ سے ثابت کیا اس کے لیے فیصلہ ہوگیا اس کے بعد دوسرا دعوی کرتا ہے اور گواہ پیش کرتا ہے اس کو رد کردیا جائے گا ہاں اگر اس نے گواہوں سے اپنے نکاح کی تاریخ مقدم ثابت کردی تو اس کے موافق فیصلہ ہوگیا (درمختار)

مسئلہ۲۱: عورت مرچکی ہے اس کے متعلق دوشخصوں نے نکاح کا دعوی کیا اور گواہوں سے ثابت کیا چونکہ اس دعوے کا محصل طلب مال ہے دونوں کو اس کا وارث قرار دیا جائے گا اور شوہر کا جو حصہ ہوتا ہے اس میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے اور دونوں پر نصف نصف مہر لازم ۔( درمختار)

مسئلہ۲۲: ایک شخص نے نکاح کیا دوسرا شخص دعوی کرتا ہے کہ یہ عورت میری زوجہ ہے مدعی علیہ کہتا ہے تیری زوجہ تھی مگر تو نے طلاق دیدی اور عدت پوری ہوگئی اب اس سے میں نے نکاح کیامدعی طلاق سے انکار کرتا ہے اور طلاق کے گواہ نہیں ہیں ۔ عورت مدعی کو دلائی جائے گی اور اگر مدعی کہتا ہے میں نے طلاق دی تھی مگر اس سے پھر نکاح کرلیا اور مدعی علیہ دوبارہ نکاح کرنے کا انکار کرتا تو مدعی علیہ کو دلادی جائے گی (عالمگیری)

مسئلہ۲۳: مرد کہتا ہے تیری نا بالغی میں تیرے باپ نے مجھ سے نکاح کردیا عورت کہتی ہے میرے باپ نے جب نکاح کیا تھا میں بالغہ تھی اور نکاح سے میں نے ناراضی ظاہر کردی تھی اس صورت میں قول عورت کا معتبر ہے اور گواہ مرد کے (خانیہ)

مسئلہ۲۴: مرد نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں نے اس عورت سے نکاح کیا ہے اور عورت کی بہن نے دعوی کیا کہ میں نے اس مرد سے نکاح کیا ہے مرد کے گواہ معتبر ہوں گے عورت کے گواہ نا مقبول ہیں (خانیہ)

مسئلہ ۲۵: مرد نے نکاح کا دعوی کیا عورت نے انکار کردیا مگر اس نے دوسرے کی زوجہ ہونے کا اقرار نہیں کیا پھر قاضی کے پاس اس مدعی کی زوجہ ہونے کا اقرار کیا یہ اقرار صحیح ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۶: مرد نے دعوی کیا کہ اس عورت سے ایک ہزار مہر پر میں نے نکاح کیا ہے عورت نے انکار کر دیا مرد نے دو ہزار مہر پر نکاح ہونے کا ثبوت دیا گواہ مقبول ہیں دوہزار مہر پر نکاح ہونا قرار پائے گا (خانیہ)

مسئلہ۲۷: مرد نے نکاح کا دعوی کیا ۔ عورت کہتی ہے میں اس کی زوجہ تھی مگر مجھے اس کی وفات کی اطلاع ملی میں نے عدت پوری کرکے اس دوسرے شخص سے نکاح کرلیا وہ عورت مدعی کی زوجہ ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۸: ایک شخص کے پاس چیز ہے دوشخص مدعی ہیں ہر ایک یہ کہتا ہے کہ میں نے اس سے خریدی ہے اور اس کا ثبوت بھی دیتا ہے ہر ایک کو نصف نصف ثمن پر نصف نصف چیز کا حکم دیا جائے اور ہر ایک کو یہ بھی اختیار دیا جائے گا کہ آدھا ثمن دے کر آدھی چیز لے یا بالکل چھوڑ دے ۔ فیصلہ کے بعد ایک نے کہا کہ آدھی لے کر کیا کروں گا چھوڑتا ہوں تو دوسرے کو پوری اب بھی نہیں مل سکتی کہ اس کی نصف بیع فسخ ہوچکی اور فیصلہ سے قبل اس نے چھوڑدی تو یہ کل لے سکتا ہے (ہدایہ)

مسئلہ۲۹: صورت مذکورہ میں اگر ہر ایک نے گواہوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پورا ثمن ادا کر دیا ہے تو نصف ثمن بائع یعنی ذوالید سے واپس لے گا اورا گرصورت مذکورہ میں ذوالید ان دونوں میں سے ایک کی تصدیق کرتا ہے کہ میں نے اس کے ہاتھ بیچی ہے اس کا اعتبار نہیں ۔ یونہی بائع اگر مشتری کے حق میں یہ کہتا ہے کہ یہ چیز میری تھی میں نے اس کے ہاتھ بیع کی ہے اور وہ چیز مشتری کے سوا کسی دوسرے کے قبضہ میں ہے تو بائع کی تصدیق بیکار ہے (بحر )

مسئلہ۳۰: دو شخصوں نے خریدنے کا دعوی کیا اور دونوں نے خریداری کی تاریخ بھی بیان کی تو جس کی تاریخ مقدم ہے اس کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر ایک نے تاریخ بیان کی دوسرے نے نہیں تو تاریخ والا اولی ہے۔ اور اگر ذوالید اور خارج میں نزاع ہو دونوں ایک شخص ثالث سے خریدنا بتاتے ہوں اور دونوں نے تاریخ نہیں بیان کی یا دونوں کی ایک تاریخ ہے یا ایک ہی نے تاریخ بیان کی ان سب صورتوں میں ذوالید اولی ہے (بحر)

مسئلہ۳۱: دونوں نے دو شخصوں سے خریدنے کا دعوی کیا زید کہتا ہے میں نے بکر سے خریدی اور عمرو کہتا ہے میں نے خالد سے خریدی ان دونوں نے اگر چہ تاریخ بیان کی ہو اور اگرچہ ایک کی تاریخ دوسرے سے مقدم ہو ان میں کوئی دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں بلکہ دونوں نصف نصف لے سکتے ہیں (بحر)

مسئلہ ۳۲: کچی اینٹ اس کے قبضہ میں ہے ۔ دوسرے شخص نے دعوی کیا کہ یہ اینٹ میری ملک میں بنائی گئی ہے اور ذوالید ثابت کرتا ہے کہ میری ملک میں بنائی گئی ہے خارج کو ترجیح ہے اور اگر پکی اینٹ یا چونا یا گچ کرنے کے مسالے کے متعلق یہی صورت پیش آجائے تو ذوالید کو ترجیح ہے (بحر الرائق)

مسئلہ۳۳: ایک دوسرے کا نام لے کر کہتا ہے میں نے اس سے خریدی ہے مثلاً زید کہتا ہے میں نے عمرو سے خریدی ہے اور عمرو کہتا ہے میں نے زید سے خریدی ہے چاہے یہ دونوں خارج ہوں یا ان میں ایک خارج ہو اور ایک ذوالید اور تاریخ کوئی بیان نہیں کرتا دونوں جانب کے گواہ ساقط اور چیز جس کے قبضہ میں ہے اسی کے پاس چھوڑ دی جائے گی ۔ پھر اگر دونوں جانب کے گواہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ چیز خریدی اور ثمن ادا کر دیا تو ادلا بدلا ہوگیا یعنی کوئی دوسرے سے ثمن واپس نہیں پائے گا ۔ دونوں فریقوں نے صرف خریدنا ہی بیان کیا ہو یا خریدنا اور قبضہ کرنا دونوں باتوں کو ثابت کیا ہو دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے یعنی دونوں جانب کے گواہ ساقط اور اگر دونوں جانب کے گواہوں نے وقت بیان کا ہے اور جائداد متنازع فیہا غیر منقولہ ہے اور بیع کے ساتھ قبضہ کو ذکر نہیں کیا ہے اورخارج کا وقت مقدم ہے تو ذوالیدمستحق قرار پائے گا یعنی خارج نے ذوالید سے خرید کر قبل قبضہ ذوالید کے ہاتھ بیع کردی اور قبضہ سے قبل بیع کردینا غیر منقول میں درست ہے اور اگر ہر ایک کے گواہ نے قبضہ بھی بیا ن کر دیا ہو جب بھی ذوالیدکے لئے فیصلہ ہوگا کیونکہ قبضہ کے بعد خارج نے ذوالید کے ہاتھ بیع کردی اور یہ بالا جماع جائز ہے اور اگر گواہوں نے تاریخ بیان کی اور ذوالید کی تاریخ مقدم ہے تو خارج کے موافق فیصلہ ہوگا یعنی ذوالید نے اسے خرید کر پھر خارج کے ہاتھ بیع کردیا ۔ (ہدایہ، بحر )

مسئلہ۳۴: بکر نے دعوی کیا کہ میں نے عمرو سے یہ مکان ہزارروپے میں خریدا ہے اور عمرو کہتا ہے میں نے بکر سے ہزار روپے میں خریدا ہے اور وہ مکان زید کے قبضہ میں ہے زید کہتا ہے میں نے عمرو سے ہزار روپے میں خریدا ہے اور سب نے اپنے اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کیا مکان زید ہی کو دیا جائے گا ان دونوں کو ساقط کردیا جائے گا ۔(بحر)

مسئلہ ۳۵: دوشخصوں نے دعوی کیا ایک کہتا ہے میں نے یہ چیز فلاں سے خریدی ہے دوسراکہتا ہے اسی نے مجھے ہبہ کی ہے یا صدقہ کی ہے یا میرے پاس رہن رکھی ہے اگرچہ ساتھ ساتھ قبضہ دلانے کا بھی ذکر کرتا ہو اور دونوں نے اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کردیا ان سب صورتوں میں خریدنے کو سب پر ترجیح ہے یہ اس صورت میں ہے کہ تاریخ کسی جا نب نہ ہو یا دونوں کی ایک تاریخ ہو اور اگر ان چیزوں کی تاریخ مقدم ہے تو یہی زیادہ حقدار ہیں اور اگر ایک ہی جانب تاریخ ہے تو جدہر تاریخ ہے وہ اولی ہے یہ اس وقت ہے کہ ایسی چیز میں نزاع ہو جو قابل قسمت نہ ہو جیسے غلام، گھوڑا وغیرہ اور اگر چیز قابل قسمت ہے جیسے مکان تو اگر مشتری کے لیے اس میں حصہ قرار دیا جائے گا تو ہبہ باطل ہوجائے گا یعنی جس صورت میں دونوں کو چیز دلائی جاتی ہے ہبہ باطل ہے کہ مشاع قابل قسمت کا ہبہ صحیح نہیں (درمختار)

مسئلہ۳۵: خریداری کو ہبہ وغیرہ پر اس وقت ترجیح ہے کہ ایک ہی شخص سے دونوں نے اس چیز کا ملنا بتایا اور اگر زید کہتا ہے میں نے بکر سے خریدی ہے اور عمرو کہتا ہے مجھے خالد نے ہبہ کی کسی کو ترجیح نہیں دونوں برابر کے حقدار ہیں (بحر)

مسئلہ۳۷: ہبہ میں عوض ہے تو یہ بیع کے حکم میں ہے یعنی ایک خریدنے کا مدعی ہے ۔ دووسرا ہبہ بالعوض کادونوں برابرہیں نصف نصف دونوں کو ملے گی ہبۂ مقبوضہ اور صدقۂ مقبوضہ دونوں مساوی ہیں ۔(بحر)

مسئلہ۳۸: ایک شخص نے ذوالید پر دعوی کیا کہ اس چیز کو میں نے فلاں سے خریدا ہے اور ایک عورت یہ دعوی کرتی ہے کہ اس نے اس چیز کو میرے نکاح کا مہر قرار دیا ہے اس صورت میں دونوں برابر ہیں ۔ مہر کو رہن وہبہ وصدقہ سب پر ترجیح ہے (بحر)

مسئلہ۳۹: رہن مع القبض ہبہ بغیر عوض سے قوی ہے اور اگر ہبہ میں عوض ہے تو رہن سے اولی ہے(بحرور)

مسئلہ۴۰: زید کے پاس ایک چیز ہے ۔ عمرودعوی کرتا ہے کہ اس نے مجھ سے غصب کرلی ہے اور بکر دعوی کرتا ہے کہ میں نے اس کے پاس امانت رکھی ہے یہ دیتا نہیں اور دونوں نے ثابت کردیا دونوں برابر کے شریک کر دئیے جائیں کیونکہ امانت کو دینے سے امین انکار کر دے تو وہ بھی غصب ہی ہے (درمختار)

مسئلہ۴۱: دو خارج نے ملک مورخ کا دعوی کیا یعنی ہر ایک اپنی ملک کہتا ہے اور اس کے ساتھ تاریخ بھی ذکر کرتا ہے یا دونوں ذوالید کے سوا ایک شخص ثالث سے خریدنے کا دعوی کرتے ہیں اور تاریخ بھی بتاتے ہیں ان دونوں صورتوں میں جس کی تاریخ مقدم ہے وہی حقدار ہے خارج اور ذوالید میں نزاع ہے ہر ایک ملک مورخ کا مدعی ہے تو جس کی تاریخ مقدم ہے وہی حقدار ہے اور اگر دونوں مدعیوں نے دو بائع سے خریدنا بتایا تو چاہے وقت بتائیں یا نہ بتائیں تقدم تاخر ہو یا نہ ہو بہر حال دونوں برابر ہیں ترجیح کسی کو نہیں (درمختار)

مسئلہ۴۲: ایک طرف گواہ زیادہ ہو ں اور دوسری طرف کم مگر ادھر بھی دوہوں تو جس طرف زیادہ ہوں اس کے لیے ترجیح نہیں یعنی نصاب شہادت کے بعد کمی زیادتی کا لحاظ نہیں ہو گا مثلاً ایک طرف دو گواہ ہوں دوسری طرف چار تو چار والے کو ترجیح نہیں دونوں برابر قرار دئیے جائیں گے اس لئے کہ کثرت دلیل کا اعتبار نہیں بلکہ قوت کا لحاظ ہے یوہیں ایک طرف زیادہ عادل ہوں مگر دوسرے طرف والے بھی عادل ہیں ان میں ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں (ہدایہ، درمختار)

مسئلہ ۴۳: انسان جتنے ہیں سب آزاد ہیں جب تک غلام ہونے کا ثبو ت نہ ہو آزاد ہی تصور کیے جائیں گے کہ یہی اصل حالت ہے مگر چارمواقع ایسے ہیں کہ ان میں آزادی کا ثبوت دینا پڑے گا۔ ۱)شہادت ۔۲)حدود۔ ۳)قصاص۔ ۴) قتل۔مثلاً ایک شخص نے گواہی دی فریق مقابل اس پر طعن کرتا ہے کہ یہ غلام ہے اس وقت اس کا فقط کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ میں آزاد ہوں جب تک ثبوت نہ دے یا ایک شخص پر زنا کی تہمت لگائی اس نے دعوی کردیا کہ یہ کہتا ہے کہ وہ غلام ہے تو حد قذف قائم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی آزادی ثابت کرے ۔ اسی طرح کسی کا ہاتھ کاٹ دیا ہے یا خطاً قتل واقع ہوا تو اس دست بریدہ یا مقتول کے آزاد ہونے کا ثبوت دینے پر قصاص یا دیت کا حکم ہوگا۔ ان چار جگہوں کے علاوہ اس کا کہہ دینا کافی ہو گا کہ میں آزاد ہوں اسی کا قول معتبر ہو گا(درمختار،ردالمحتار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button