احادیث قدسیہ

جنتی نعمتيں کیسی ہوں گی؟

جنتی نعمتيں کیسی ہوں گی؟ اس سوال کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں جنتی نعمتيں کیسی ہوں گی؟ اس سوال کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

جنتی نعمتوں کے متعلق حدیث قدسی:

.

عَنْ أبِي هُرَيرةَ رَضي الله عَنْهُ أنَّ رَسُوْلَ الله – صلى الله عليه وسلم – قَال: "قَال الله تَعَالَى: أعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِيْنَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأتْ ولاَ أذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ علَى قَلْبِ بَشَرٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

ميں نے اپنے نيك بندوں كے ليے وه انعام تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی نکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ ہی کسی بشر کے دل میں اس کا خیال گزرا۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں جنتی نعمتيں کیسی ہوں گی؟ کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. اللہ تعالی جنتی نعمتوں کی مثال یوں بیان فرماتا ہے:”مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اُكُلُهَا دَآىٕمٌ وَّ ظِلُّهَاؕ-تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا “ ترجمہ:احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے ۔

  2.”یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍۚ-وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُۚ-وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ(۷۱)“ ترجمہ: ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذّت پہنچے  اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔

حدیث شریف کا حوالہ:

1:صحیح بخاری، كتاب بدء الخلق ، باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة ، جلد4، صفحہ118، حدیث نمبر 3244، دار طوق النجاہ،لبنان

2:سنن الترمذی، ابواب تفسیر القران، باب من سورۃ السجدۃ، جلد5، صفحہ 346، حدیث نمبر3197، مطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔ امام ترمذی نے اس حدئث شریف کے متعلق فرمایا: ” هذا حديث حسن صحيح“

۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button