بہار شریعت

جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

یاایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعو الی ذکر اللہ و ذرو البیع ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون

(اے ایمان والوں جب نما زکے لئے جمعہ کے دن اذان دی جائے تو ذکر خدا کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو)

فضائل روز جمعہ

حدیث ۱،۲: صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں ہم پچھلے ہیں یعنی دنیامیں آنے کے لحاظ سے اور قیامت کے دن پہلے سوا اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب ملی اور ہمیں ان کے بعد یہی جمعہ وہ دن ہے کہ ان پر فرض کیا گیا یعنی یہ کہ اس کی تعظیم کریں وہ اس کے خلاف ہو گئے اور ہم کو اللہ تعالی نے بتا دیا دوسرے لوگ ہمارے تابع ہیں یہود نے دوسرے کو وہ دن مقرر کیا یعنی ہفتہ کو اور نصاری نے تیسرے دن کو یعنی اتوار کو اور مسلم کی روایت انہیں سے اور حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ ہے فرماتے ہیں ہم اہل دنیا سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن پہلے کہ تمام مخلوق سے پہلے ہمارے لئے فیصلہ ہو جائے گا۔

حدیث ۳: مسلم و ابودائود و ترمذی و نسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ بہتر دن کہ آفتاب نے اس پر طلوع کیا جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ الصلوۃ والسلام پیدا کئے گئے اور اس میں جنت میں داخل کئے گئے اور اسی میں جنت سے اترنے کا انہیں حکم ہوا۔ اور قیامت جمعہ ہی کے دن قائم ہو گی۔

حدیث ۴،۵: ابودائود و نسائی و ابن ماجہ و بیہقی اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ تمہارے افضل دنوں سے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی میں انتقال کیا اور اسی میں نفخہ ہے (دوسری بار صور پھونکا جانا) اور اسی میں صعقہ ہے (پہلی بار پھونکا جانا) اس دن میں مجھ پر درود کی کثر ت کرو کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اس وقت حضور ﷺ پر ہمارا درود کیونکر پیش کیا جائے گا جب حضور ﷺ انتقال فرما چکے ہوں گے فرمایا کہ اللہ تعالی نے زمین پر انبیاء کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مجھ پر جودرود پڑھے گا پیش کیا جائے گا۔ ابو دائود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اور موت کے بعد۔ فرمایا بے شک اللہ نے زمین پر انبیاء کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے اللہ کا نبی زندہ ہے، روزی دیا جاتا ہے۔

حدیث ۶،۷:ـ ابن ماجہ ابو لبابہ بن عبدالمنذر اور احمد سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ کے نزدیک عیدالضحی و عید الفظر سے بڑا ہے اور اس میں پانچ خصلتیں ہیں ۔ (۱) اللہ تعالی نے اسی میں آدم علیہ السلام کو یپدا کیا (۲) اور اسی میں زمین پر انہیں اتارا (۳) اور اسی میں انہیں وفات دی (۴) اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے وہ اسے دے گا جب تک حرام کا سوال نہ کرے (۵) اور اسی دن میں قیامت قائم ہو گی۔ کوئی فرشتۂ مقرب و آسمان و زمین اور ہوا اور پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔

حدیث ۸ تا۱۰: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی فرماتے ہیں ﷺ جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ مسلمان بندہ اگر اسے پالے اور اس وقت اللہ تعالی سے بھلائی کا سوال کرے تو وہ اسے دے گا اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ وقت بہت تھوڑا ہے رہا یہ کہ وہ کون سا وقت ہے اس میں روایتیں بہت ہیں ان میں دو قوی ہیں ایک یہ کہ امام کے خطبہ کے لئے بیٹھنے سے ختم نماز تک ہے اس حدیث کو مسلم ابوبردہ بن ابی موسی سے وہ اپنے والد سے وہ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں ۔ اور دوسری یہ کہ وہ جمعہ کی پیچھلی ساعت ہے ، امام مالک و ابو دائود و ترمذی و نسائی و احمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی وہ کہتے ہیں میں کوہ طور کی طرف گیا اور کعب احبار سے ملا ان کے پاس بیٹھا، انہوں نے مجھے توریت کی روایتیں سنائیں اور میں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان کیں ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر دن کہ آفتاب نے اس پر طلوع کیا جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی میں انہیں اترنے کا حکم ہوا اور اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی میں ان کا انتقال ہوا اور اسی میں قیامت قائم ہو گی اور کوئی جانور ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن صبح کے وقت آفتاب نکلنے تک قیامت کے ڈر سے چینختا نہ ہو سوا آدمی اور جن کے، اور اس میں ایک ایسا وقت ہے کہ مسلمان بندہ نماز پڑھنے میں اسے پا لے تو اللہ تعالی سے جس شے کا سوال کرے وہ اسے دے گا کعب نے کہا سال میں ایسا ایک دن ہے میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں ہے کعب نے توریت پڑھ کر کہا رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ۔ پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور کعب احبار کی مجلس اور جمعہ کے بارے میں جو حدیث بیان کی تھی اس کا ذکر کیا اور یہ کہ کعب نے کہا تھا یہ ہر سال میں ایک دن ہے عبد اللہ بن سلام نے کہا کعب نے غلط نے کہا میں نے کہا پھر کعب نے توریت پڑھ کر کہا بلکہ وہ ساعت ہر جمعہ میں ہے کہا کعب نے سچ کہا پھر عبداللہ بن سلام نے کہا تمہیں معلوم ہے یہ کون سی ساعت ہے میں نے کہا مجھے بتائو اور بخل نہ کرو کہا جمعہ کے دن کی پچھلی ساعت ہے، میں نے کہا پچھلی ساعت کیسے ہو سکتی ہے حضور نے تو فرمایا ہے مسلمان بندہ نماز پڑھنے میں اسے پائے اور وہ نماز کا وقت نہیں عبداللہ بن سلام نے کہا کیا حضور ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو کسی مجلس میں انتظار نماز میں بیٹھے وہ نماز میں ہے میں نے کہا ہاں فرمایا تو ہے، کہا تو وہ یہی ہے یعنی نماز پڑھنے سے نماز کا انتظار مراد ہے۔

حدیث ۱۱: ترمذی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن جس ساعت کی خواہش کی جاتی ہے اسے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔

حدیث ۱۲: طبرانی اوسط میں بسند حسن انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ اللہ تبارک و تعالی کسی مسلمان کو جمعہ کے دن بے مغفرت کئے نہ چھوڑے گا۔

حدیث ۱۳: ابو یعلی سے راوی کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں جمعہ کے دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں کوئی گھنٹہ ایسا نہیں جس میں اللہ تعالی جہنم سے چھ لاکھ آزاد نہ کرتا ہو جن پر جہنم واجب ہو گیا تھا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button