ARTICLESشرعی سوالات

جمرات سے کنکریاں اُٹھانا مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ جمرات کے پاس سے بھی کنکریاں اٹھانے میں تأمل نہیں کرتے جب کہ ہم نے پڑھا اور علماء کرام سے یہی سنا ہے کہ جمرات کے پاس سے کنکریاں اٹھانا مکروہ ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی کیونکہ اگر کراہت تحریمی ہو گی تو ارتکاب کرنے والا گنہگار ہوتا ہے جس کے لئے اس پر توبہ لازم آتی ہے جبکہ تنزیہی میں نہیں ؟

(السائل : خرم عبدالقادر، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : رمی کے لئے جمرات کے پاس سے کنکریاں اٹھانا مکروہ ہے ، چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

یأخذ الحصی من أیّ موضع شاء إلا من عند الجمرۃ فإن ذلک یکرہ، لأن ما عندہا من الحصی مردود و ہکذا جاء فی الأثر (249)

یعنی، جمرات کے پاس پڑی ہوئی کنکریوں کے علاوہ جہاں سے چاہے کنکریاں اُٹھائے بیشک وہاں سے کنکریاں اُٹھانامکروہ ہے کیونکہ جمرات کے پاس جو کنکریاں ہیں وہ مردود ہیں اسی طرح حدیث میں آیا ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

و نیز مکروہ است برداشتن سنگریزہ از نزد جمرہ زیرانکہ سنگریز ہا کہ موجود اند در جمرات علامات آن است کہ مردُود ہستند چہ وارد شدہ کہ برداشتہ می شود سنگریز ہائے مقبولہ را برائے تثقیل میزان صاحب آنہا (250)

یعنی، نیز جمرہ سے کنکری اٹھانا مکروہ ہے کیونکہ جو کنکریاں جمرات میں موجود ہیں اس کی علامات ہیں کہ وہ غیر مقبول ہیں اس لئے کہ احادیث میں آیا کنکریاں مارنے والے کے میزان کو (قیامت میں ) بھاری کرنے کے لئے مقبول کنکریاں اٹھائی جاتی ہیں ۔ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی متوفی 1088ھ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

و یکرہُ أخذُہا مِن عندِ الجمرۃِ لأنہا مرودۃٌ لحدیثِ (251) ما رواہ ’’الدار قطنیُّ‘‘ (252) و ’’الحاکم‘‘ (253) و صحَّحَہ عن ’’أبی سعیدِ الخدریِّ‘‘ قال : قلتُ یا رسول اللہ! ہذہ الجمارُ التی نرمی بہا کلَّ عامٍ فَنَحْسِبُ أنَّہَا تنقصُ، فقال : إِنَّ مَا یُقْبَلُ مِنْہَا رُفِعَ وَ لَوْ لَا ذٰلِکَ لَرَأَیْتَہَا أَمْثَال الْجِبَالِ (254)

یعنی، جمرہ کے پاس کنکریاں اُٹھانا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ مردود کنکریاں ہیں حدیث شریف میں ہے جسے امام دار قطنی نے روایت کیا اور اسے امام حاکم نے صحیح قرار دیا، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ جمرات جنہیں ہم ہر سال کنکریاں مارتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ کم ہو جاتی ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ مقبول کنکریاں اٹھائی جاتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تم ایک پہاڑ کنکریوں کا دیکھتے ۔ امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ھمام حنفی متوفی 861ھ لکھتے ہیں :

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما أنہ کان یأخذہا من جمعٍ، بخلاف موضع الرمی لأن السلف کرہوہ لأنہ مردود (255)

یعنی،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ مزدلفہ سے کنکریاں لیتے ، برخلاف موضع رمی (یعنی جمرات) کے کیونکہ سلف نے اسے مکروہ قرار دیا کیونکہ وہ مردود ہیں ۔ اور کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی نے جمرہ کے پاس سے اور نجس جگہ سے کنکری اٹھانے کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

و کراہت درین ہر دو صورت تنزیہہ است (256)

یعنی، ان دونوں صورتوں میں کراہت تنزیہہ ہے ۔ اس لئے حاجیوں کو چاہئے کہ جمرات سے کنکریاں نہ اٹھائیں لیکن اس سے مراد وہ کنکریاں ہیں جو جمرات کو مار دی گئیں فی زمانہ جو کنکری جمرات کو مار دی گئی بہت کم ہے کہ اسے دوسراکوئی اٹھا سکے کیونکہ جمرات کے گرد چھوٹی دیوار اتنی دُور ہے کہ کنکری لگ کر بمشکل باہر آ سکتی ہے یاپھر اتنی دُور سے کسی نے پھینکی ہو جو اس چھوٹی دیوار کے اندر ہی نہ گری ہواس لئے وہاں پڑی ہوئی کنکری میں احتمال بہر حال موجود ہے کہ یہ ماری ہوئی کنکری ہے نہ کہ گری ہوئی۔ لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ وہاں پڑی ہوئی کنکری رمی کے لئے نہ اُٹھائی جائے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 12ذی الحجۃ 1428ھ، 21دیسمبر 2007 م (New 25-F)

حوالہ جات

249۔ الہدایۃ، کتاب الحج، باب الإحرام، مع قولہ : ویأخذ الحصی الخ، 1۔2/178

250۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ہشتم در بیان آنچہ متعلق است از مناسک منی، فصل اَوّل دربیان چیدن سنگریزہا، ص200

251۔ الدرالمختار، کتاب الحج، مع قولہ التنویر : ویکرہ من عند الجمرۃ، ص163

252۔ سنن الدار قطنی، کتاب الحج، برقم : 2763،1/ 2/263

253۔ المستدرک للحاکم، کتاب المناسک، یرفع ما یقبل الخ برقم : 1795، 2/137

أیضاً المعجم الأوسط، برقم : 1750، 1/474

أیضاً السنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الحج، باب أخذ الحصی لرمی جمرۃ العقبۃ و کیفیۃ ذلک، برقم : 9545، 5/210

أیضاً المصنّف لابن أبی شیبۃ، کتاب الحج، باب فی حصی الجمار ما جاء فی ذٰلک، برقم : 15572، 8/677، وفیہ : عن أبی سعید الخدری قال : ما تقبل من حصی الجمار رفع

أیضاً مجمع الزوائد للہیثمی، کتاب الحج، باب رمی، برقم : 5589، 3/443

254۔ ردّ المحتار، کتاب الحج، فصل فی الإحرام، مطلب : فی رمی جمرۃ العقبۃ، تحت قولہ : لحدیث الخ، 3/610

255۔ فتح القدیر،کتاب الحج، باب الإحرام، تحت قولہ : ویأخذ الحصی الخ، 2/384

256۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب دربیان آنچہ متعلق است از مناسک منی، فصل اوّل در بیان چیدن سنگریزہا، ص200

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button