ARTICLES

جرم غیر اختیاری میں کفارہ

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جووں کی سخت ایذا کے باعث عمرہ کی سعی سے پہلے ہی حلق کروالے تو اس پر کیا لازم ہوگا؟

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں ایسا شخص درج ذیل تین صورتوں میں سے کسی ایک پرعمل کرسکتا ہے ۔ (1) وہ بکری ذبح کرے ۔ (2)چھ مسکینوں پرتین صاع کھانااس طرح صدقہ کرے کہ ہر ایک مسکین کو ادھا صاع ملے ۔ (3)پے درپے یا متفرق تین دن روزے رکھے ۔ چنانچہ امام ابو الحسین احمد بن محمد بغدادی قدوری متوفی 428ھ اورعلامہ شیخ عبد الغنی غنیمی دمشقی حنفی متوفی 1298ھ لکھتے ہیں : (وان تطیب او حلق او لبس من عذرٍ فہو مخیر : ان شاء ذبح شاۃً، وان شاء تصدق علی ستۃ مساکین بثلاثۃ اصوعٍ) ۔۔۔۔۔(من طعام)علی کل مسکین بنصف صاع(وان شاء صام ثلاثۃ ایام) لقولہ تعالی : (ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک.وکلمۃ "او‘‘ للتخییر، وقد فسرہا رسول اللہ صلی اللٰہ علیہ وسلم بما ذکرنا، والایۃ نزلت فی المعذور، ثم الصوم یجزئہ فی ای موضع شاء ؛ لانہ عبادۃ فی کل مکان، وکذا الصدقۃ، لما بینا، واما النسک فیختص بالحرم بالاتفاق؛ لان الاراقۃ لم تعرف قربۃ الا فی زمان او مکان، وہذا لم یختص بزمان؛ فتعین اختصاصہ بالمکان۔(14) یعنی،اگر کسی نے عذر کے باعث خوشبو لگائی یاحلق کیایا (سلا ہوا )کپڑا پہناتو اسے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بکری ذبح کرے ،اگر چاہے تو چھ مسکینوں پرتین صاع کھانااس طرح صدقہ کرے کہ ہر ایک مسکین کو ادھا صاع ملے اور اگر چاہے تواللہ تبارک وتعالیٰ کے فرمان ’’ففدیۃ من صیامٍ او صدقۃٍ اونسکٍ ‘‘(البقرہ/196)(ترجمہ : تو بدلے دے روزے یا خیرات یاقربانی)کی وجہ سے تین دن روزے رکھے اور ایت کریمہ میں لفظ’’او‘‘اختیار کے لئے ہے اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت فرمائی ہے جس کو ہم نے ذکر کیا ہے اور یہ ایت معذور کے حق میں نازل ہوئی ہے ، پھر روزہ رکھناکسی بھی جگہ میں جائز ہے کیونکہ روزہ ہر جگہ میں عبادت ہے ،اور اسی طرح صدقہ کا معاملہ ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کیا ،اور بہرحال قربانی بالاتفاق حرم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ خون بہاناقربت نہیں پہچانا جائے گا مگر زمانے یا جگہ میں اور خون بہانا چونکہ زمانہ کے ساتھ خاص نہیں تو متعین ہوا کہ یہ مکان کے ساتھ خاص ہے ۔ اور اس اختیار کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی جرم بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جوؤں کی سخت ایذا کے باعث سرزد ہوجائے اور وہاں پر دم کا حکم ہوتو اسے جرم غیر اختیاری کہتے ہیں ۔ چنانچہ امام احمد رضا حنفی متوفی 1340ھ لکھتے ہیں : جہاں دم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جوؤں کی ایذاء کے باعث ہوگا تو اسے جرم غیر اختیاری کہتے ہیں ۔ (15) اور چھ مسکینوں پر تین صاع کھانا صدقہ کرنے میں افضل یہ ہے کہ وہ حرم کے مساکین ہوں ۔ چنانچہ علامہ شیخ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی970ھ ’’المحیط البرھانی‘‘کے حوالے سے لکھتے ہیں : قال فی المحیط : والتصدق علی فقراء مکۃ افضل، وانما لم یتقید بالحرم لاطلاق النص بخلاف الذبح۔(16) یعنی، امام برھان الدین ابن مازہ بخاری حنفی نے ’’محیط‘‘(17)میں فرمایا ہے کہ مکہ کے فقراء پر صدقہ کرنا افضل ہے اور یہ حرم کے ساتھ مقید نہیں ہے کیونکہ نص مطلق ہے بخلاف ذبح کے ۔ اورصدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : اور افضل یہ ہے کہ حرم کے مساکین ہوں ۔ (18) لیکن اگر کسی نے مکہ کے علاوہ فقراء پر صدقہ کیاتو یہ جائز ہے ۔ چنانچہ امام برھان الدین ابو المعالی محمود بن صدر الشریعہ ابن مازہ بخاری متوفی 616ھ لکھتے ہیں : ولو تصدق علی غیر فقراء مکۃ جاز۔(19) یعنی، اگر کسی نے مکہ کے علاوہ فقراء پر صدقہ کیاتو یہ جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم الاربعاء،17جمادی الاولیٰ،1440ھ۔23ینایر2019م FU-70

حوالہ جات

(14) مختصر القدوری وشرحہ اللباب فی شرح الکتاب،کتاب الحج،باب الجنایات،ص182۔183

(15) الفتاوی الرضویہ،کتاب الحج،جنایات،فصل ششم جرم اور ان کے کفارے ،رسالہ انوار البشارہ فی مسائل الحج والزیارہ،10/757

(16) البحر الرائق شرح کنز الدقائق،کتاب الحج،باب الجنایات،تحت قولہ : وان تطیب او لبس او حلق بعذرٍ ذبح شاۃً او تصدق بثلاثۃ اصوعٍ علی ستۃٍ او صام ثلاثۃ ایامٍ،3/24

(17) المحیط البرھانی ،کتاب المناسک،الفصل الخامس : ما یحرم علی المحرم وما لا یحرم، 1/429، وفیہ : والافضل ان یتصدق علی فقراء مکۃ

(18) بہار شریعت،حج کا بیان،جرم اور ان کے کفارے کابیان،مسئلہ1،1/1162

(19) المحیط البرھانی ،کتاب المناسک،الفصل الخامس : ما یحرم علی المحرم وما لا یحرم،1/429

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button