ARTICLES

جدہ جا کر واپس آنے والے کے احرام کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ حجاج کرام کا ارادہ مکہ مکرمہ سے جدّہ جانے کا ہے کیا واپسی پر ان کو احرام باندھ کر آنا ضروری ہے یا بغیر احرام کے بھی آ سکتے ہیں ؟

(السائل : C/O سید محمد ہاشم شاہ نعیمی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں ان حجاج کرام پر لازم نہیں کہ وہ احرام باندھ کر جدّہ سے مکہ آئیں کیونکہ جدّہ حِل میں ہے نہ کہ میقات سے باہر، اور میقات کے باہر سے آنے والے قاصدِ مکہ یا حرم پر واجب ہوتا ہے کہ وہ میقات سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر آئے اور حِل میں یا میقات پر یا حدودِ حرم میں رہنے والے پر احرام باندھ کر آنا واجب نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ حج یا عمرہ کی نیت سے نہ آئے ہوں ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

جائز ست مر ایشان را دخول مکہ و دخول حرم بغیر احرام چوں ارادہ نداشتہ باشند حج و عمرہ را (278)

یعنی، ان لوگوں کے لئے (یعنی جو حل یا میقات پر رہتے ہوں ) بلا احرام دخول مکہ اور دخول حرم جائز ہے جب کہ حج و عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 5ذوالحجۃ 1427ھ، 25دیسمبر 2006 م (327-F)

حوالہ جات

278۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالہ، فصل دویم دربیان مواقیت احرام حج و عمرہ ، ص60

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button