دیدار باری تعالی

جاگتی آنکھوں سے دیدار باری تعالی ہونے کے متعلق عقیدہ اور اس کے منکر کا حکم

اہل سنت کا متفقہ و اجماعی عقیدہ ہے کہ جاگتی آنکھوں سے دیدار باری تعالی دنیا و آخرت دونوں   میں  عقلاً  ممکن ہے اور اس کا منکر گمراہ ہے۔

سوال: جاگتی آنکھوں سے دیدار باری تعالی ہونے کے متعلق کیا عقیدہ ہے اور اس کے منکر کا کیا حکم ہے؟

جواب: اہل سنت کا متفقہ و اجماعی عقیدہ ہے کہ جاگتی آنکھوں سے دیدار باری تعالی دنیا و آخرت دونوں   میں  عقلاً  ممکن ہے اور اس کا منکر گمراہ ہے۔ تفسیر البحر المحیط میں امام  ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ (وفات: 745ھ) لکھتے ہیں: ” وهو على طريقة الاعتزال في استحالةرؤية الله عندهم. وأهل السنة يعتقدون أنهم لم يسألوا محالاً  عقلا، لكنه ممتنع من جهة الشرع، إذ قد أخبر تعالى على ألسنة أنبيائه أنه لا يرى في هذه الحياة الدنيا “ ترجمہ:  اور وہ (زمحشری)  معتزلہ کے عقیدے پر ہے کہ  ان کے نزدیک اللہ تعالی کی رؤیت محال ہے ۔ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام  نے محال عقلی کا سوال نہیں کیا تھا لیکن وہ سوال شرعاً ممتنع ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے انبیا کی زبان مبارک سے اس بات کی خبر دے دی کہ اسے اس دنیاوی زندگی میں نہیں دیکھا جا سکتا۔([1])

المسامرۃ فی شرح المسایرۃ  میں علامہ  قاسم بن قطلوبغا حنفی رحمہ اللہ اور کنز الفوائد شرح بحر العقائد میں ابراہيم بن حسن ميرغنی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: و اللفظ للاخر ”اجازوھا  ای اھل السنۃ کافۃ  عامۃ ؛ و قال الامدی: اجتمعت الائمۃ من اصحابنا علی ان رؤیتہ تعالی فی الدنیا و الاخرۃ جائزۃ عقلا“ ترجمہ: تمام کے تمام اہل سنت نے رؤیت باری تعالی کے عقلاً جواز کا قول کیا ہے ۔ علامہ  آمدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے ائمہ اس عقیدے پر متفق ہیں کہ جاگتی آنکھوں سے دیدار باری تعالی  دنیا اور آخرت دونوں میں عقلاً درست ہے۔([2])

[1]…۔ تفسیر البحر المحیط، جلد3، صفحہ 402، دار الکتب العلمیہ، بیروت

[2]…۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد،  صفحہ 66، مخطوط

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button