شرعی سوالات

جانوروں میں شراکت کی ایک ناجائز صورت اور اس کا متبادل حل

سوال:

زید اپنے جانور مثلاً گائے کو کسی شخص کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کرتا ہے کہ آدھی قیمت مجھے دے دو ( یہ اس صورت میں ہے کہ جب مشتری کے پاس پوری قیمت ادا کر نے کی ہمت نہ ہو) لیکن جب اس گائے کے بچے فروخت کرو گے اس کی آدھی قیمت مجھے دینا ہو گی ،کیا یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟ ہمارے گاؤں میں مذکور طریقے پر جانوروں کی خرید و فروخت عام ہے، اگر یہ ناجائز ہے تو شریعت کی روشنی میں کوئی ایسا حل بیان فرمائیں کہ لوگوں کے معاملات میں بڑی تبدیلی لائے بغیر انہیں مذکورہ منفعت حاصل ہو جائے ۔

جواب:

شرعاً بیع کے صحیح طور پر منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ مبیع موجود ہو اور مبیع و ثمن دونوں معلوم ہوں اور ان کے بارے میں کوئی ایسی لاعلمی نہ ہو جو آگے چل کر فریقین میں تنازعے کا سبب بنے ۔ حدیث پاک میں ہے۔

اس بیع میں جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بائع آدھی گائے فروخت کرے ،مشتری اور بائع دونوں گائے میں شریک ہو جائیں اور اس صورت میں گائے کی رکھوالی پر جو اخراجات آئیں گے ، دونوں فریق اس میں برابر شریک ہوں گے اور اس گائے سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی دونوں برابر شریک ہوں گے ۔ یا دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مویشی کا مالک ایک شخص ہو اور مویشیوں کے منافع بھی  اس کو حاصل ہوں اور دوسرے شخص کو و ہ اجرت پر رکھ لے اور اس کی خدمات کے عوض اسے مقررہ اجرت ادا کرے۔

(تفہیم المسائل، جلد6،صفحہ 392،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button