بہار شریعت

جانوروں سے نقصان کے متعلق مسائل

جانوروں سے نقصان کے متعلق مسائل

مسئلہ ۵۱۳ : بہائم کی جنایتوں کی تین صورتیں ہیں :۔

۱۔ جس جگہ پر جنایت واقع ہوئی وہ جگہ جانور کے مالک کی ملکیت ہے۔

متعلقہ مضامین

۲۔ کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے۔

۳۔ وہ جگہ شاہراہ عام ہے۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، عنایہ علی الفتح ص ۳۴۵ ج ۸)

پہلی صورت میں اگر جانور کا مالک جانور کے ساتھ نہ ہو تو وہ کسی نقصان کا ضامن نہیں ہوگا۔ خواہ جانور کھڑا ہو یا چل رہا ہو اور ہاتھ پیر سے کسی کو کچل دے یا دم یا پیر سے کسی کو نقصان پہنچائے یا کاٹ لے اور اگر جانور کا مالک اس کی رسی پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا یا پیچھے سے ہانک رہا تھا۔ جب بھی مذکورہ بالا صورت میں ضامن نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۴۹ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، عنایہ علی الفتح ۳۴۵ ج ۸، مبسوط ص ۵ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۱۴ : اگر جانور کا مالک اپنی ملک میں سوار ہو کر چلا رہا تھا اور جانور نے کسی کو کچل کر ہلاک کر ڈالا تو مالک کے عاقلہ پر دیت ہے اور مالک پر کفارہ ہے اور وراثت سے بھی مالک محروم ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۴۹ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، عنایہ علی الفتح القدیر ص ۳۴۵ ج ۸، مبسوط ۵ ج ۲۰)

مسئلہ ۵۱۵ : اگر مالک اپنی ملک میں سوار ہو کر جانور کو چلا رہا تھا اور جانور نے کسی کو کاٹ لیا یا لات ماری یا دم مار دی تو مالک پر ضمان نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۴۹ ج ۶، بحراالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، عنایہ علی الفتح القدیر ص ۳۴۵ ج ۸)

مسئلہ ۵۱۶ : دوسری صورت یعنی اگر جنایت کسی دوسرے شخص کی زمین ہوئی اور یہ جانور مالک کے داخل کئے بغیر رسی تڑا کر اس کی زمین داخل ہوگیا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔ اور اگر مالک نے خود غیر کی زمین میں جانور کو داخل کیا تھا تو ہر صورت میں مالک ضامن ہوگا۔ خواہ جانور کھڑا ہو یا چل رہا ہو۔ مالک اس پر سوار ہو یا سوار نہ ہو۔ رسی پکڑ کر چلا رہا ہو یا پیچھے سے ہانک رہا ہو یہ حکم اس صورت میں ہے کہ مالک زمین کی اجازت کے بغیر جانور کے مالک نے اس زمین میں جانور کو داخل کیا ہو اور اگر صاحب زمین کی اجازت سے جانور کو داخل کیا تھا تو اس کا حکم وہی ہے جو اپنی زمین کا ہے۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۴۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، عنایہ علی الفتح القدیر ص ۳۴۵ ج ۸)

مسئلہ ۵۱۷ : جانور کے مالک نے شارع عام پر جانور کو کھڑا کر دیا تھا اور اس نے اسی جگہ کوئی نقصان کر دیا تو سب صورتوں میں نقصان کا ضامن ہوگا مگر پیشاب یا لید کرنے کے لئے کھڑا کیا تھا تو ضمان نہیں (عالمگیری ص ۵۷ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۴۹ ج ۶، مبسوط ص ۵ جلد ۲۷، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳، ہدایہ ص ۶۱۰ ج ۴، فتح القدیر حاشیہ چلپی ص ۳۴۵ ج ۸، بدائع و صنائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۱۸ : مالک نے جانور کو راستہ پر چھوڑ دیا اور مالک اس کے ساتھ نہیں ہے تو جب تک وہ جانور سیدھا چلتا رہا اور کسی طرف مڑا نہیں تو مالک نقصان کا ضامن ہوگا اور اگر داہنے بائیں مڑ گیا اور راستہ بھی صرف اسی جانب تھا تب بھی مالک ضامن ہوگا اور اگر دوراہے سے کسی طرف مڑا اور اس کے بعد جنایات واقع ہوئی تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۶۲ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۲ ج ۶، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۵۱۹ : مالک نے جانور کو شارع عام پر چھوڑ دیا۔ جانور آگے جاکر کچھ دیر رکا اور پھر چل پڑا تو ٹھہرنے کے بعد جب چلا اور اس سے کوئی جنایت سرزد ہوئی تو مالک نقصان کا ضامن نہیں ہوگا (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۶۲ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۲۰ : مالک نے راستے پر جانور چھوڑ دیا اور کسی شخص نے اس جانور کو لوٹانے کی کوشش کی مگر جانور نہ لوٹا اور اسی طرف چلتا رہا جس طرف مالک نے چلا کر چھوڑ دیا تھا اس سے جنایت سرزد ہوئی تو اس سے کوئی نقصان ہوا تو کوئی ضامن نہیں ہوگا اور اگر روکنے والے کے روکنے سے پلٹا مگر ٹھہرا نہیں تو نقصان کا ضامن لوٹانے والا ہوگا (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶)

مسئلہ ۵۲۱ : جانور خود رسی تڑا کر شارع عام پر دوڑنے لگا تو اس کے کسی نقصان کا ضامن مالک نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۶۲ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۵۲۲ : شارع عام پر چلنے والا سوار اپنی سواری سے ہونے والے نقصان کا ضامن ہوگا۔ سوائے اس نقصان کے جولات مارنے یا دم مارنے سے ہو۔ رسی پکڑ کر آگے چلنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔ ہاں کچل دینے کی صورت میں راکب پر کفارہ اور حرمان میراث بھی ہے لیکن قائد پر نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ جلد ۵، ہدایہ ص ۶۱۰ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۴۹ ج ۶، بدائع صنائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۲۳ : کسی جانور پر دو آدمی سوار ہیں ایک رسی پکڑ کر آگے سے کھینچ رہا ہے اور ایک پیچھے سے ہانک رہا ہے اور اس جانور نے کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو چاروں پر دیت برابر تقسیم ہوگی اور دونوں سواروں پر کفارہ بھی ہے۔ (عالمگیری بحوالہ محیط ص ۵۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸)

مسئلہ ۵۲۴ : جانور نے شارع عام پر چلتے ہوئے گوبر یا پیشاب کر دیا اس سے پھسل کر کوئی آدی ہلاک ہوگیا تو کوئی ضمان نہیں ہے۔ کھڑے ہوئے اگر گوبر یا پیشاب کیا تب بھی یہی حکم ہے بشرط یہ کہ جانور پیشاب یا لید کے لئے کھڑا کیا تھا۔ اور اگر کسی دوسرے کام سے کھڑا کیا تھا اور اس نے پیشاب یا لید کر دی تو اس کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۸ ج ۸،)

مسئلہ ۵۲۵ : جانور کے چلنے سے کوئی کنکری یا گٹھلی یا گرد و غبار اڑ کر کسی کی آنکھ میں لگایا کیچڑ وغیرہ نے کسی کے کپڑے خراب کر دیئے تو اس کا ضمان نہیں ہے اور اگر بڑا پتھر اچھل کر کسی کے لگا تو نقصان کا ضامن ہوگا۔ یہ حکم سوار اور قائد و سائق (یعنی ہانکنے والا) سب کے لئے ہے (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۰ ج ۶)

مسئلہ ۵۲۶ : کسی شخص نے راستہ میں پتھر وغیرہ کوئی چیز رکھ دی تھی یا پانی چھڑک دیا تھا کوئی سوار ادھر سے گزرا۔ اس کے جانور نے ٹھوکر کھائی یا پھسل گیا اور کسی آدمی پر گر پڑا جس سے وہ شخص مرگیا تو اگر سوار نے دیدہ و دانستہ وہاں سے اپنے جانور کو گزارا تو سوار ضامن ہوگا اور اگر سوار کو ان باتوں کا علم نہ تھا تو پانی چھڑکنے والا یا پتھر رکھنے والا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸، مبسوط ص ۴ ج ۲۷، صنائع بدائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۲۷ : اگر کسی شخص نے مسجد کے دروازے پر اپنا جانور کھڑا کر دیا تھا۔ اس نے کسی کو لات مار دی تو کھڑا کرنے والا ضامن ہے اور اگر مسجد کے دروازے کے قریب جانور کے باندھنے کی کوئی جگہ مقرر ہے اس جگہ کسی نے اپنا جانور باندھ دیا یا کھڑا کر دیا تھا تو اس کے کسی نقصان کا ضمان نہیں ہے، لیکن اگر اس جگہ کوئی شخص اپنے جانور کو، سوار ہو کر یا ہانک کر یا آگے سے کھینچ کر چلا رہا تھا تو چلانے والا نقصان کا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۲۸ : نخاسہ میں کسی نے اپنے جانور کو کھڑا کیا اس نے کسی کو کوئی نقصان پہنچایا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔(عالمگیری ص ۵۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۲۹ : کسی نے میدان میں اپنا جانور کھڑا کیا تو اس کے نقصان کا ضامن کھڑا کرنے والا نہیں ہوگا لیکن میدان میں لوگوں کے چلنے سے جو راستہ بن جاتا ہے اس پر اگر کھڑا کیا تو ضامن ہوگا (عالمگیری ص ۵۰ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، شامی ص ۵۳۰ ج ۵، بدائع صنائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۳۰ : شارع عام پر اگر کسی نے اپنا جانور بغیر باندھے کھڑا کر دیا جانور نے وہاں سے ہٹ کر کوئی نقصان کر دیا تو ضمان نہیں ہے (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶)

مسئلہ ۵۳۱ : کسی نے عام راستے میں جانور باندھ دیا اگر اس نے رسی تڑا کر اپنی جگہ سے ہٹ کر کوئی نقصان پہنچایا تو ضمان نہیں ہے اور اگر رسی نہیں تڑائی اور کوئی نقصان کیا تو ضمان ہے (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶)

مسئلہ ۵۳۲ : جانور نے سوار سے سرکشی کی اور سوار نے اسے مارا یا لگام کھینچی اور جانور نے پیر یا دم سے کسی کو مارا تو سوار پر ضمان نہیں ہے۔ اسی طرح اگر سوار گر پڑا اور جانور بھاگ گیا اور راستے میں کسی کو مار ڈالا تب بھی سوار پر کچھ نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶)

مسئلہ ۵۳۳ : کسی نے کرائے پر گدھا لیا اور اس کو اہل مجلس کے قریب راستہ پر کھڑا کر دیا اور اہل مجلس سے سلام کلام کیا پھر اس کو چلانے کے لئے مارا یا کوئی چیز اس کے چبھو دی یا اس کو ہانکا اور اس گدھے نے کسی کو لات مار دی تو سوار ضامن ہوگا (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶)

مسئلہ ۵۳۴ : سوار اپنی سواری پر جارہا تھا کسی نے سواری کو کوئی چیز چبھو دی اس نے سوار کو گرا دیا تو اگر یہ چبھونا سوار کی اجازت سے تھا تو چبھونے والا کسی نقصان کا ضامن نہیں ہے اور اگر بغیر اجازت سوار کوئی چیز چبھو دی تو چبھونے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر سواری نے چبھونے والے کو ہلاک کر دیا تو اس کا خون رائیگاں جائے گا (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، درمختار و شامی ص ۵۳۴ ج ۵، فتح القدیر و عنایہ ص ۳۱۰ ج ۸، ہدایہ ص ۶۱۵ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، مبسوط ص ۲ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۳۵ : سواری کو سوار کی اجازت کے بغیر کسی نے مارا یا کوئی چیز چبھو دی جس کی وجہ سے سواری نے ہاتھ یا پیر یا جسم کے کسی حصے سے کسی شخص کو فوراً کچل کر ہلاک کر دیا تو چبھونے اور مارنے والا ضامن ہوگا سوار ضامن نہیں ہوگا اور اگر سوار کی اجازت سے ایسا کیا اور سواری نے فورا کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو سوار اور چبھونے والے دونوں کے عاقلہ پر دیت لازم ہے اور اگر سواری نے کسی کو لات یا دم مار دی تو اس کا ضمان نہیں ہے (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، درمختار و شامی ص ۵۳۴ ج ۵، عالمگیری ص ۵۱ ج ۶، فتح القدیر و عنایہ ص ۳۵۴ ج ۸، ہدایہ ص ۶۱۵ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، مبسوط ص ۲ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۳۶ : سوار کسی غیر کی ملک میں اپنی سواری کو روکے کھڑا تھا اس نے کسی شخص کو حکم دیا کہ اس کو کوئی چیز چبھو دو۔ اس نے چبھو دی اور اس کی وجہ سے سواری نے کسی کو لات مار دی تو دونوں ضامن ہوں گے اور اگر بغیر اجازت سوار ایسا کیا تھا تو چبھونے والا ضامن ہوگا مگر اس صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (عالمگیری از محیط ص ۵۱ ج ۶، شامی ص ۵۳۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸)

مسئلہ ۵۳۷ : کوئی شخص جانور کو رسی پکڑ کر کھینچ رہا تھا یا پیچھے سے ہانک رہا تھا کہ کسی نے جانور کے کوئی چیز چبھو دی اور اس کی وجہ سے جانور نے بدک کر چلانے والے کے ہاتھ سے رسی چھڑا لی اور بھاگ پڑا اور فوراً کسی کا کچھ نقصان کر دیا تو چبھونے والا ضامن ہوگا (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶، شامی ص ۵۳۵ ج ۵، ہدایہ ص ۶۱۷ جلد ۴، مبسوط ص ۲ ج ۲۷، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳)

مسئلہ ۵۳۸ : کسی جانور کو ایک آدمی آگے سے کھینچ رہا تھا اور دوسرا پیچھے سے چلا رہا تھا۔ ان دونوں کی اجازت کے بغیر کسی اور شخص نے جانور کو کوئی چیز چبھو دی جس کی وجہ سے جانور نے کسی آدمی کے لات مار دی تو چبھونے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر کسی ایک کی اجازت سے ایسا کیا تھا تو کسی پر ضمان نہیں ہے (عالمگیری ص ۵۱ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، مبسوط ص ۲ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۳۹: راستے میں کسی شخص نے کوئی چیز نصب کر دی تھی، کسی کا جانور وہاں سے گزرا اور اس چیز کے چبھنے کی وجہ سے کسی کو لات مار کر ہلاک کر دیا تو نصب کرنے والا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، شامی ص ۵۳۵ ج ۵، ہدایہ ص ۶۱۷ ج ۴، مبسوط ص ۳ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۴۰ : کسی سوار نے اپنی سواری کو راستہ میں روک رکھا تھا پھر اس کے حکم سے کسی نے سواری کو کوئی چیز چبھوئی جس کی وجہ سے سواری نے اسی جگہ کسی کو ہلاک کر دیا تو دونوں ضامن ہوں گے۔ اور اگر سوار کو گرا کر ہلاک کر دیا تو اس کا خون رائیگاں جائے گا اور اگر اس چبھونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ کر کسی کو ہلاک کر دیا تو صرف چبھونے والا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، شامی ص ۵۳۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۸ ج ۸)

مسئلہ ۵۴۱ : کوئی سوار اپنی سواری کو راستہ پر روکے کھڑا تھا پھر اس کے حکم سے کسی نے اس کو کوئی چیز چبھو دی جس کی وجہ سے سواری نے اسی جگہ پر چبھونے والے کو اور ایک دوسرے شخص کو ہلاک کر دیا تو اجنبی کی دیت سوار اور چبھونے والے دونوں پر واجب الادا ہوگی اور چبھونے والے کی آدھی دیت سوار پر ہے (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، شامی ص ۵۳۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۸ ج ۸)

مسئلہ ۵۴۲ : کسی سوار کی سواری رک کر راستہ میں کھڑی ہوگئی۔ سوار نے یا کسی دوسرے شخص نے اس کو چلانے کے لئے کوئی چیز چبھوئی اور اس کی وجہ سے سواری نے کسی کے لات مار دی تو کوئی ضامن نہیں ہے (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، شامی ص ۵۳۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۸ ج ۸)

مسئلہ ۵۴۳ : کسی سوار نے اپنی سواری کو راستہ پر روک رکھا تھا۔ ایک دوسرا شخص بھی اس پر سوار ہوگیا۔ اس کی وجہ سے کسی کو جانور نے لات مار دی اور ہلاک کر دیا تو دونوں نصف نصف دیت کے ضامن ہوں گے۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۴۴ : کسی نے دوسرے کے جانور کو راستے پر باندھ دیا اور خود غائب ہوگیا۔ جانور کے مالک نے کسی کو حکم دیا کہ اس کو کوئی چیز چبھو دے اور اس نے چبھو دی جس کی وجہ سے جانور نے حکم دینے والے کو یا اور کسی اجنبی کو لات مار کر ہلاک کر دیا تو اس کی دیت چبھونے والے پر ہے اور اگر جانور کو کھڑا کرنے والے ہی نے چبھونے کا حکم دیا تھا اور جانور نے کسی کو مار دیا تو چبھونے والے اور حکم دینے والے دونوں پر نصف نصف دیت ہے (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، بحرالرائق ۳۵۸ ج ۸)

مسئلہ ۵۴۵ : کسی شخص نے راستہ پر پتھر رکھ دیا تھا اس سے بدک کر جانور جو نقصان کرے گا اس کے احکام وہی ہیں جو چبھونے والے کے ہیں ۔ یعنی پتھر رکھنے والا چبھونے والے کے حکم میں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، مبسوط ص ۴ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۴۶ : کسی نے اپنا گدھا چھوڑ دیا۔ اس نے کسی کی کھیتی کو نقصان پہنچایا تو اگر مالک نے اس کو خود کھیت میں لے جاکر چھوڑا ہے تو مالک ضامن ہوگا۔ اور اگر مالک ساتھ نہیں گیا لیکن گدھا کھولنے کے فوراً بعد سیدھا چلا گیا۔ داہنے بائیں مڑا نہیں یا مڑا تو صرف اس وجہ سے کہ راستہ صرف اسی طرف مڑتا تھا تب بھی مالک ضامن ہوگا۔ اور اگر کھولنے کے بعد کچھ دیر کھڑا رہا پھر کھیت میں گیا۔ یا اپنی مرضی سے کسی طرف مڑ کر کھیت میں چلا گیا تو مالک نقصان کا ضامن نہیں ہے (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳، شامی و درمختار ص ۵۳۷ ج ۵، ہدایہ ص ۶۱۴ ج ۴، عنایہ ص ۳۵۰ ج ۸)

مسئلہ ۵۴۷ : اگر کسی نے جانور کو آبادی سے باہر کر کے اپنے کھیت کی طرف ہانک دیا۔ راستہ میں اس جانور نے کسی دوسرے کی زراعت کو نقصان پہنچایا تو اگر راستہ صرف یہی تھا تو ضامن ہوگا اور اگر چند راستے تھے تو ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۴۸ : باڑہ سے نکل کر جانور خود باہر چلا گیا یا مالک نے چراگاہ میں چھوڑا تھا مگر وہ کسی اور کے کھیت میں گھس گیا اور کوئی نقصان کر دیا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۴۹ : پالتو بلی اور کتا اگر کسی کے مال کا نقصان کر دے تو مالک ضامن نہیں ہے۔ شکاری پرندہ کا بھی حکم یہی ہے اگرچہ چھوڑنے کے فورا بعد کوئی نقصان کر دے۔ (عالمگیری از سراج الوہاج ص ۵۲ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۴ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۵۵۰ (الف) :اگر کسی شخص نے اپنا کتا کسی کی بکری پر چھوڑ دیا مگر کتا کچھ دیر ٹھہر کر اس پر حملہ آور ہوا اور بکری کو ہلاک کر دیا تو ضمان نہیں ہے۔ اگر چھوڑنے کے فوراً بعد حملہ کیا تو ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳)

مسئلہ ۵۵۰ (ب) :اگر کسی آدمی پر کتے کو چھوڑ دیا اور اس نے فوراً اس کو قتل کر دیا یا اس کے کپڑے پھاڑ دیئے یا کاٹ کھایا تو چھوڑنے والا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳)

مسئلہ ۵۵۱ : کسی کا کٹ کھنا کتا ہے اور گزرنے والوں کو ایذا دیتا ہے تو اہل محلہ کو حق ہے کہ اس کو مار دیں اور اگر مالک کو تنبیہہ کرنے کے بعد اس کتے نے کسی کا کچھ نقصان کیا تو مالک ضامن ہوگا۔ ورنہ نہیں ۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۶۳ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۵۲ : کسی نے کتا جانور پر چھوڑا اور مالک ساتھ نہ گیا۔ کتے نے کسی انسان کو ہلاک کر دیا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۶۲ ج ۸)

مسئلہ ۵۵۳ : کسی نے اپنے مست اونٹ کو دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت داخل کر دیا اور اس گھر میں دوسرا اونٹ بھی تھا جس کو مست اونٹ نے مار ڈالا تو ضامن ہوگا اور اگر صاحب خانہ کی اجازت سے داخل کیا تھا تو ضمان نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۲ ج ۶، شامی ص ۵۳۷ ج ۵)

مسئلہ ۵۵۴ : اونٹوں کی قطار کو آگے سے چلانے والا پوری قطار کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ خواہ کتنی ہی بڑی قطار ہو جب کہ پیچھے سے کوئی ہانکنے والا نہ ہو اور اگر پیچھے سے ہانکنے والا بھی ہو تو دونوں ضامن ہوں گے اور اگر قطار کے درمیان میں تیسرا ہانکنے والا بھی ہے جو قطار کے برابر برابر چل کر ہانک رہا ہے اور کسی کی نکیل کو پکڑے ہوئے نہیں ہے تو تینوں ضامن ہوں گے۔ (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، درمختار و شامی ص ۵۳۳ ج ۵، ہدایہ ص ۶۱۳ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸، مبسوط ص ۳ ج ۲۷، تبیین الحقائق ص ۱۵۱ ج ۶)

مسئلہ ۵۵۵ : اگر ایک آدمی نکیل پکڑ کر قطار کے آگے چل رہا ہے اور دوسرا قطار کے درمیان میں کسی اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا ہے تو درمیان والے سے پیچھے کے اونٹوں کے نقصان کا ضمان صرف درمیان والے پر ہے اور درمیان والے سے آگے کے اونٹوں کے نقصان کا ضمان دونوں پر ہے اور اگر یہ دونوں جگہ بدلتے رہتے ہیں یعنی کبھی درمیان والا آگے اور آگے والا درمیان میں آجاتے ہیں تو ہر صورت میں نقصان کا ضمان دونوں پر ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۳۳ ج ۵، مبسوط ص ۳ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۵۶ : ایک شخص قطار کے آگے آگے نکیل پکڑ کر چل رہا ہے اور دوسرا قطار کے درمیان میں نکیل پکڑ کر اپنے پیچھے والے اونٹوں کو چلا رہا ہے مگر اپنے آگے والوں کو ہانک نہیں رہا ہے تو درمیان والا پچھلے اونٹوں کے نقصان کا ضامن ہے اور اس سے آگے کے اونٹوں کے نقصان کا ضمان اگلے نکیل پکڑنے والے پر ہے۔ (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸)

مسئلہ ۵۵۷ : قطار کے درمیان میں کسی اونٹ پر کوئی شخص سوار تھا لیکن کسی کو ہانک نہیں رہا تھا تو اپنے سے اگلے اونٹوں کے ضمان میں وہ شریک نہیں ہوگا۔ لیکن اپنی سواری اور اپنے سے پچھلے اونٹوں کے نقصان میں شریک ہوگا جب کہ پچھلے اونٹ کی نکیل اس کے ہاتھ میں ہو۔ اور اگر یہ اپنے اونٹ پر سو رہا تھا یا صرف بیٹھا ہوا تھا اور نہ کسی اونٹ کو ہانک رہا تھا نہ کھینچ رہا تھا تو اپنے سے پچھلے اونٹوں کے نقصان کا بھی ضامن نہیں ہوگا۔ صرف اپنی سواری کے اونٹ سے ہونے والے نقصان کے ضمان میں شریک ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸، مبسوط ص ۴ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۵۸ : ایک شخص قطار کے آگے نکیل پکڑ کر چل رہا ہے اور دوسرا پیچھے سے ہانک رہا ہے اور تیسرا آدمی درمیان میں کسی اونٹ پر سوار ہے اور سوار کے اونٹ نے کسی انسان کو ہلاک کر دیا تو تینوں ضامن ہوں گے اور اسی طرح راکب سے پیچھے کے اونٹ نے اگر کسی کو ہلاک کر دیا تو بھی تینوں ضامن ہوں گے اور اگر سوار سے آگے کے کسی اونٹ نے کسی کو ہلاک کر دیا تو صرف ہانکنے والا اور آگے سے چلانے والے پر ضمان ہے سوار پر نہیں (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶ از محیط)

مسئلہ ۵۵۹ : ایک شخص اونٹوں کی قطار کو آگے سے چلا رہا تھا یا روکے کھڑا تھا کہ کسی نے اپنے اونٹ کی نکیل کو اس قطار میں اس کی اطلاع کے بغیر باندھ دیا اور اس اونٹ نے کسی شخص کو ہلاک کر دیا تو اس کی دیت آگے سے چلانے والے کے عاقلہ پر ہوگی۔ اور اس کے عاقلہ باندھنے والے کے عاقلہ سے واپس لیں گے اور اگر آگے والے کو باندھنے کا علم تھا تو باندھنے والے کے عاقلہ سے دیت واپس نہیں لیں گے (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، درمختار و شامی ص ۵۳۳ ج ۵، ہدایہ ص ۶۱۲ ج ۴، عنایہ ص ۳۵۰ ج ۸، مبسوط ص ۴ ج ۲۷، بحرالرائق ص ۳۶۱ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۶۰ : کسی کا جانور دن یا رات میں رسی تڑا کر بھاگا اور کسی مال یا جان کا نقصان کر دیا تو جانور کا مالک ضامن نہیں ہوگا (عالمگیری از ہدایہ ص ۵۳ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳، ہدایہ ص ۶۱۵ ج ۴، فتح القدیر و عنایہ ص ۳۵۱ ج ۸)

مسئلہ ۵۶۱ : کسی نے رات کے وقت اپنے کھیت میں دو بیل پائے اور یہ گمان کیا کہ اپنے گائوں والوں کے ہیں اور وہ ان کو پکڑ کر اپنے مویشی خانے میں لے جانے لگا کہ ان میں سے ایک بھاگ گیا اور دوسرے کو اس نے باندھ دیا۔ اس کے بعد بھاگنے والے کو تلاش کیا مگر نہ ملا اور درحقیقت یہ دونوں بیل کسی دوسرے گائوں والے کے تھے، چنانچہ بیلوں کے مالک نے آکر اپنے گم شدہ بیل کا ضمان طلب کیا تو اگر بیل پکڑنے والے کی نیت پکڑتے وقت لوٹانے کی نہ تھی تو ضامن ہوگا اور اگر نیت یہ تھی کہ مالک جب آئے گا تو واپس کر دوں گا لیکن اپنے اس ارادے پر اس کو گواہ بنانے کا موقع نہیں ملا تو ضامن نہیں ہوگا (عالمگیری از قاضی خان ص ۵۳ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۵۳ ج ۸)

مسئلہ ۵۶۲ : اور اگر وہ بیل اسی گائوں والوں کے تھے اور اس نے صرف اپنی کھیتی سے ان کو نکال دیا اور کچھ نہ کیا تو بیل کے گم ہو جانے کی صورت میں یہ ضامن نہیں ہوگا اور اگر اس نے کھیت سے نکال کر کسی طرف کو ہانک دیا تھا تو یہ ضامن ہوگا (عالمگیری ص ۵۳ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳)

مسئلہ ۵۶۳ : کسی نے اپنی کھیتی میں کسی کا جانور پایا اور اس کو اپنے کھیت سے نکال دیا اور کسی طرف کو ہانکا نہیں ۔ اس جانور کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا تو کھیت والا ضامن نہیں ہے اور اگر کھیت سے نکال کر کسی طرف کو ہانک دیا تھا تو ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳، شامی ص ۵۳۸ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۶۰ ج ۸)

مسئلہ ۵۶۴ : کسی نے اپنے کھیت میں کسی کا جانور پایا اس کو ہانکتا ہوا لے چلا تاکہ مالک کے سپرد کر دے۔ راستہ میں جانور ہلاک ہوگیا یا اس کا پیر ٹوٹ گیا تو یہ ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳)

مسئلہ ۵۶۵ : کسی نے اپنی چراگاہ میں دوسرے کے جانور کو دیکھا اور اس کو اتنی دور تک ہانکا کہ وہ اس کی چراگاہ سے باہر نکل جائے اس اثناء میں اگر جانور ہلاک ہو جائے یا اس کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو یہ ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳)

مسئلہ ۵۶۶ : کوئی کاشت کار اپنے کھیت میں رہتا تھا۔ اس نے کسی چرواہے سے بکری مانگ لی تاکہ رات میں اس کے پاس رہے اور اس کا دودھ دوھ لیا کرے۔ کاشت کار ایک رات سو رہا تھا کہ اس کی بکری نے پڑوسی کے کھیت میں جاکر نقصان کر دیا تو کوئی ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶)

مسئلہ ۵۶۷ : کسی کے جانور نے کھیت یا باغ میں گھس کر کسی کا کچھ نقصان کر دیا کھیت والے نے پکڑ کر جانور کو باندھ دیا اور جانور ہلاک ہوگیا تو یہ جانور کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶)

مسئلہ ۵۶۸ : کسی نے اپنا جانور کسی دوسرے کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر گھسیڑ دیا اور گھر والا اس کو باہر نکال رہا تھا کہ جانور ہلاک ہوگیا تو ضامن نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶)

مسئلہ ۵۶۹ : کسی نے دوسرے کے مکان میں اس کی اجازت کے بغیر کپڑا رکھ دیا تھا۔ مالک مکان نے کپڑے والے کی عدم موجودگی میں کپڑا نکال کر باہر پھینک دیا اور کپڑا ضائع ہوگیا تو یہ کپڑے کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶)

مسئلہ ۵۷۰ : کوئی شخص اپنے گدھے پر لکڑی لادے جارہا تھا اور بچو بچو کہہ رہا تھا اس کے آگے ایک شخص چل رہا تھا اس نے اس کی آواز کو نہیں سنا یا سنا مگر اس کو اتنا موقع نہ ملا کہ کسی طرف کو بچ جائے تو گدھے پر لادی ہوئی لکڑی سے اگر اس کا کپڑا پھٹ جائے تو گدھے والا ضامن ہے اور اگر وہ بچ سکتا تھا اور سننے کے باوجود نہ بچا تو گدھے والا ضامن نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸)

مسئلہ ۵۷۱ : کسی نے دوسرے کے حلال یا حرام جانور کا ہاتھ یا پیر کاٹ دیا تو کاٹنے والا جانور کی قیمت کا ضامن ہے اور مالک کو یہ حق نہیں ہے کہ جانور کو اپنے پاس رکھے اور نقصان کا ضمان لے لے (عالمگیری ص ۵۴ ج ۶)

مسئلہ ۵۷۲ : کسی نے راستہ پر سانپ ڈال دیا جس جگہ ڈالا تھا اسی جگہ پر سانپ نے کسی کو ڈس لیا تو سانپ ڈالنے والا ضامن ہوگا اور اگر اس جگہ سے ہٹ کر ڈسا تو ضامن نہیں ہوگا۔ (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۵۷۳ : راستے پر چلتے ہوئے جانور نے گوبر یا پیشاب کیا یا منہ سے لعاب گرایا یا اس کا پسینہ بہا اور کسی کو لگ گیا یا کسی کی کوئی چیز گندی کر دی تو جانور کا سوار ضامن نہیں ہوگا۔ (قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۵۵ ج ۳، بدائع صنائع ص ۲۷۲ ج ۷)

مسئلہ ۵۷۴ : کسی نے شارع عام پر لکڑی، پتھر یا لوہا وغیرہ کوئی چیز رکھ دی۔ وہاں سے کوئی شخص اپنا جانور ہانکتے ہوئے گزرا اور ان چیزوں سے ٹھوکر کھا کر جانور ہلاک ہوگیا تو رکھنے والا ضامن ہوگا۔ (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۷ ج ۳)

مسئلہ ۵۷۵ : کوئی شخص اپنا جانور ہانک رہا تھا اور جانور کی پیٹھ پر لدا ہوا سامان یا چار جامہ یا زین یا لگام کسی شخص پر گر پڑی جس سے وہ ہلاک ہوگیا تو ہانکنے والا ضامن ہوگا۔ (شامی و درمختار ص ۵۳۳ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۶ ج ۳، ہدایہ ص ۶۱۳ ج ۴، عنایہ ص ۳۴۹ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۱ ج ۶، مبسوط ص ۴ ج ۲۷)

مسئلہ ۵۷۶ : اندھے کو ہاتھ پکڑ کر کوئی شخص چلا رہا تھا اور اس اندھے نے کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو اندھا ضامن ہوگا۔ چلانے والا ضامن نہیں ہوگا۔ (شامی ص ۵۳۵ ج ۵)

مسئلہ ۵۷۷ : کوئی شخص اپنے گدھے پر لکڑیاں لاد کر لے جارہا تھا اور ہٹو بچو نہیں کہہ رہا تھا۔ یہ گدھا راہ گیروں کے پاس سے گزرا اور کسی کا کپڑا وغیرہ پھاڑ دیا تو گدھے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر راہ گیروں نے گدھے کو آتے دیکھا تھا اور بچنے کا موقع بھی ملا تھا مگر نہ بچے تو گدھے والا ضامن نہ ہوگا۔ (شامی ۵۳۸ ج ۵)

مسئلہ ۵۷۸ : ایک شخص نے اپنا گدھا کسی ستون سے باندھ دیا تھا پھر دوسرے آدمی نے بھی اپنا گدھا وہیں باندھ دیا پہلے والے گدھے کو دوسرے گدھے نے کاٹ کھایا تو ان دونوں کو اگر اس جگہ باندھنے کا حق حاصل تھا تو ضمان نہیں ہے۔ ورنہ دوسرے گدھے والا ضامن ہوگا۔ (شامی ص ۵۳۸ ج ۵)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button