شرعی سوالات

جائیداد کا کچھ حصہ خود رکھا اور کچھ بالغ و نابالغ بچیوں کو ہبہ بلا تقسیم کر دیا، ایسا ہبہ مفید ملک نہیں

سوال:

ہندہ نے اپنی کل جائیداد کے دو غیر مساوی حصے کر کے ایک چھوٹا حصہ اپنے لیے رکھا اور ایک حصہ اپنی چار لڑکیوں کے حق میں مساوی  طور پر بذریعہ دستاویز ہبہ نامہ رجسٹری شدہ ہبہ کیا۔تین بچیاں بالغہ جبکہ ایک نابالغہ تھی ۔ہندہ نے اپنے کو اس کی ولیہ سمجھ کر یہ عمل درآمد کیا۔اس حصہ موہوبہ میں دو اجنبی شریک جن کا اب اتنقال ہوگیا ہے وہ بھی شریک تھے۔اور ہبہ کے وقت سے تین چار سال تک جائیداد اصلی صورت پر غیر منقسم رہی  مگر رجسٹر میونسپلٹی میں صرف نام کا داخل خارج کردیا۔جائیداد موہوبہ میں سے بعض کا کرایہ خود وصول کر کے لڑکیوں کو دیتی رہی اور بعض غیر منقسم کا کرایہ لڑکیاں خود وصول کرتی رہیں ۔اس کے بعد ان لڑکیوں نے جائیداد موہوبہ کے ایک جز کو چاروں موہوب لھم نے چارحصوں پر تخمینی مساوی تقسیم کر کے اس میں جداگانہ حد بندی قائم کرلی اور جائیداد کا دوسرا قطعہ غیر منقسم مشاع رہا۔یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے دو لڑکیوں کو انتقال ہوگیا ۔سوال یہ ہے کہ جائیداد کے ایک جز پر چند سال بعد تقسیم کیا ہے کیا اس جز پر اس طرح کا قبضہ ہوجانے سے پوری جائیداد موہوبہ پر قبضہ تسلیم کیا جائے گا یا کل جائیداد پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا؟کیا صرف نام کا داخل خارج کرنا اور بقدر اپنے حصے کا کرایہ پانا اور جائیداد کے برابر غیر منقسم یعنی مشاع رہنے کی حالت میں شرعا قبضہ تسلیم کیا جائے گا یا نہیں؟اگر یہ ہبہ مفید ملک نہیں تو مرنے والی لڑکیوں کے وارث اس  کے بعض حصہ کو ترکہ کی حیثیت سے پا سکتے ہیں یا نہیں ؟ایک نے ایک ٹکڑا بیع کرڈالا جبکہ دوسری نے اس پر عمارت بنوالی ؟

جواب:

یہ ہبہ کے ہندہ نے کیا ہبہ مشاع ہے اور ہبہ مشاع ناجائز ہے بلکہ یہ ہبہ مذکورہ فی السوال بالاتفاق ناجائز ہے اس میں وہ خلاف کے امام وصاحبین  میں دربارہ شیوع ہے نہیں پایا جاتا  ،اس لیے کہ موہوب لھم میں ایک نابالغہ لڑکی ہے اور وہ ہندہ ہی کے عیال میں ایسی صورت میں صاحبین کے طورپر بھی یہ ہبہ ناجائز ہے ۔جب یہ ہبہ فاسد وناجائز ہے تو اگر شیوع کے ساتھ موہوب لھم نے اس پر قبضہ کیا تو ظاہر الروایۃ یہی ہے کہ یہ مفید ملک نہیں اور موہوب لھم کے اس میں تصرف نافذ نہ ہوں گے اور تصرف کیا ہوتو ضمان دیں۔جب یہی قول ظاہر الروایت ہے اور اسی کو صحیح اور مختار بتایا گیا ہے پھر محرر مذہب امام محمد رحمۃاللہ علیہ نے اسی پر نص فرمایا ہے اور خو دامام اعظم رضی اللہ عنہ سے مروری تو بعض مشائخ کا اسے مفید ملک بتانا کیا مفید ہوگا پھر بھی جو مفید ملک کہتے ہیں اسے ملک خبیث واجب الرد قرار دیتے تو ایسی ملک موہوب لھم کے لیے کیا مفید جبکہ ہندہ پر ان کے نزدیک بھی واجب ہے کہ یہ جائیداد ان سے واپس لے۔۔۔جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ ہبہ مفید ملک نہیں اور نہ موہوب لہ کے تصرفات نافذ تو اس جائیداد کے بیع کا بھی موہوب لھم کو کوئی حق نہیں اور یہ امر اظہر ہے کہ موہوب لھم کا  باہم تقسیم کرنا یا ان کے نام کا داخل خارج ہونا کچھ مفید نہیں نہ جزو منقسم کے مالک ہیں نہ غیر منقسم کے ۔کچہری کے کاغذ میں اندارج نام قبضہ نہیں اور قبضہ ہوتا بھی تو ملک نہ ہوجاتی لہذا اس جائیداد موہوبہ کی ہندہ ہی مالک  ہے۔

      (فتاوی امجدیہ،کتاب الہبہ،جلد3،صفحہ 260تا263،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button