شرعی سوالات

ثمن مؤجل میں اجل کا مجہول ہونا

سوال:

زید کا ایک مکتبہ ہے ، اس کی خرید و فروخت اس طرح ہے کہ مارکیٹ سے مال کتب خرید تا ہے ۔ دکاندار کو کہتا ہے کھاتہ میں لکھ لینا یا وہ پرچی بنا کر رکھ لیتا ہے اجل مقرر نہیں کرتا، لین دین کبھی نقد اور کبھی کتابوں کی صورت میں ہو تا ہے ۔ اس طرح جب زید کی دکان سے خریدار خریدتا ہے ، وہ بھی کہہ دیتا ہے کاپی پر لکھ لینا ،ادائیگی کی تاریخ مقرر نہیں ہوتی جبکہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ، جو ادھار بیع ہو ، اس کی اجل اگر مقرر نہ ہو یا اجل مجہول ہو تو بیع فاسد ہوتی ہے۔ کیا زید کی خرید و فروخت بیع فاسد کے زمرہ میں ہے یا نہیں؟ جبکہ اسی طرح کے کاروبار کا تعامل ہے ۔ کتابوں کے کاروبار کے علاوہ دوسری اشیاء کا کاروبار عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔

جواب:

اصولی طور پر فقہی ضابطہ تو یہی ہے کہ بیع موجل یعنی ادھار کی بیع میں اجل مقرر ہونی چاہیے کیونکہ جہالت بعد میں نزاع کا باعث بنتی ہے۔ لیکن یہاں مارکیٹ میں ایک تعامل (General Practice) جاری ہے ۔ پس جو عرف بن جائے ،وہ مشروط کی طرح ہے ۔ اس تعامل سے تنازعات بھی جنم نہیں لیتے ،فریقین ایک دوسرے کے لئے توسع رکھتے ہیں لہذا یہ بیع استحساناً جائز ہے۔ اس طرح مال یا کتابوں کے عوض کتابوں/ سامان کی بیع بھی جائز ہے ۔ اس میں اعتباراً ایک چیز کو مبیع (Sold item) اور دوسری ثمن (Price) تصور کر لیا جا تا ہے۔

(تفہیم المسائل، جلد7،صفحہ 324،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button