بہار شریعت

تولیت کے متعلق مسائل

تولیت کے متعلق مسائل

مسئلہ۱: جو شخص اوقاف کی تولیت کی درخواست کرے ایسے کو متولی نہیں بنانا چاہیے اور متولی ایسے کو مقرر کرنا چاہیے جو امانت دار ہواور وقف کے کام کرنے پر قادر ہو خواہ خود ہی کام کرے یا اپنے نائب سے کرائے اور متولی ہونے کے لئے عاقل بالغ ہونا شرط ہے ۔( فتح القدیر ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۲: واقف نے وصیت کی کہ میرے بعدمیرالڑکا متولی ہوگا اور واقف کے مرنے کے وقت لڑکا نا بالغ ہے تو جب تک نا بالغ ہے دوسرے شخص کو متولی کیا جائے اور بالغ ہونے پر لڑکے کو تولیت دی جائے گی اور اگر اپنی تمام اولادوں کیلئے تولیت کی وصیت کی ہے اوران میں کوئی نا بالغ بھی ہے تو نا بالغ کے قائم مقام بالغین میں سے کسی کو یا کسی دوسرے کو قاضی مقرر کردے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۳: عورت کوبھی متولی کرسکتے ہیں اور نابینا کو بھی اور محدودفی القذف نے توبہ کرلی ہوتو اسے بھی ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۴: واقف نے یہ شرط کی ہے کہ کووقف کا متولی میری اولاد میں سے اسکو کیا جائے جو سب میں ہوشیار نیکوکار ہو تو اس شرط کو لحاظ رکھتے ہوئے متولی مقرر کیا جائے اسکے خلاف متولی کرنا صحیح نہیں ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۵: صورت مذکورہ میں اسکی اولاد میں جوسب میں بہتر تھا وہ فاسق ہوگیا تو متولی وہ ہوگا جو اسکے بعد سب میں بہتر ہے ۔یونہی اگر اس افضل نے تولیت سے انکار کردیا تو جو اسکے بعد بہتر ہے وہ متولی ہوگا ۔اور اگر سب ہی اچھے ہوں تو جو بڑا ہے وہ ہوگا۔اگرچہ وہ عورت ہواور اگر اسکی اولاد میں سب نااہل ہوں تو کسی جنبی کو قاضی متولی مقرر کریگااس وقت تک کے لئے کہ ان میں کاکوئی اہل ہوجائے ۔(بحرالرائق)

مسئلہ۶: صورت مذکورہ میں سب سے بہتر کو قاضی نے متولی کردیا اسکے بعد دوسرا اس سے بھی بہتر ہوا تو اب یہ متولی ہوگا اور اگر اسکی اولادیں نیکی میں یکساں ہیں تو وقف کا کام جو سب سے اچھا کرسکے اس کو متولی کیا جائے اور اگر ایک زیادہ پر ہیز گا ہے دوسرا کم مگریہ دوسرا وقف کے کام کو پہلے کی بہ نسبت زیادہ جانتا ہو تو اسی کو متولی کیا جائے جب کہ اس کی طرف سے خیانت کا اندیشہ نہ ہو۔(عالمگیری)

مسئلہ ۷: واقف نے اپنے ہی کو متولی کررکھا ہے تو اس میں بھی ان صفات کو ہونا ضروری ہے جو دوسرے متولی میں ضروری ہیں ۔ یعنی جن وجوہ سے متولی کو معزول کر دیا جاتا ہے اگر وہ وجوہ خود اس میں پائی جائیں تو اسے بھی معزول کردینا ضرور ہوگا اس بات کا خیال ہرگزنہیں کیا جائے گا کہ یہ تو خود ہی واقف ہے ۔( درمختار)

مسئلہ ۸: متولی اگر امین نہ ہو خیانت کرتا ہو یا کام کرنے سے عاجز ہے یا اعلانیہ شراب پیتا جواکھیلتا یا کوئی دوسرافسق علانیہ کرتا ہو یا اسے کیمیا بنانے کی دھت ہو تواسکو معزول کردینا واجب ہے کہ اگر قاضی نے اسکو معزول نہ کیا تو قاضی بھی گنہگار ہے ۔اور جس میں یہ صفات پائے جاتے ہیں اسکو متولی بنانا بھی گناہ ہے ۔( درمختاروغیرہ)

مسئلہ۹: واقف نے اپنے ہی کو متولی کیا ہے اور وقف نامہ می یہ شرط لکھ دی ہے کہ ’’مجھے اس کی تولیت سے جدا نہیں کیا جاسکتا یا مجھے قاضی یا بادشاہ اسلام بھی معزول نہیں کرسکتے ‘‘ اس شرط کی پابندی نہیں کی جاسکتی اگر خیانت وغیرہ وہ امور ظاہر ہوئے جن سے متولی معزول کردیا جاتا ہے تو یہ بھی معزول کر دیا جائے گا۔یونہی واقف نے دوسرے کو متولی کیا ہے اور یہ شرط کردی ہے کہ اسے میں معزول نہیں کرسکتا تو یہ شرط بھی باطل ہے ۔یونہی ایک شخص نے دوسرے کو وصی کیا ہے اور شرط کردی ہے کہ وصی یہی رہے گا اگرچہ خیانت کرے تو اس وصی کو خیانت ظاہر ہونے پر معزول کر دیا جائیگا۔(درمختار ‘ عالمگیری)

مسئلہ۱۰: واقف نے جس کو متولی کیا ہے وہ جب تک خیانت نہ کرے قاضی معزول نہیں کرسکتا اور بلاوجہ معزول کرکے قاضی نے دوسرے کو اسکی جگہ متولی کردیاتو دوسرا متولی نہیں ہوگاکہ وہ پہلا بدستور متولی ہے ۔اور قاضی نے متولی مقرر کیا ہو تو بغیر خیانت بھی اسے معزول کیا جاسکتا ہے ۔قاضی نے متولی کو معزول کر دیا پھر قاضی کاانتقال ہوگیا یامعزول کردیا گیا اسکی جگہ پر دوسرا قاضی ہوا اب متولی اسکے پاس درخواست کرتا ہے کہ مجھے بلاقصور جدا کر دیا گیا ہے تو قاضی ثانی فقط اس کے کہنے پر عمل کرکے متولی نہ کردے بلکہ اس سے کہہ دے کہ تم ثابت کردو کہ اس کام کے اہل ہواور کام کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہو اگر وہ ایسا ثابت کردے تو دوسرا قاضی اسے پھر متولی بناسکتا ہے ۔واقف کو اختیار ہے متولی کو مطلقاًجدا کرسکتا ہے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۱۱: واقف کو اختیار ہے کہ متولی کو معزول کرکے دوسرا متولی مقرر کردے یا خود اپنے آپ متولی بن جائے ۔( فتح القدیر)

مسئلہ۱۲: واقف نے کسی کو متولی نہیں کیا ہے اور قاضی نے مقرر کردیا تو واقف اب اس کو جد نہیں کرسکتا اور متولی موجود ہے خواہ واقف نے اسے مقرر کیا یا قاضی نے تو بلاوجہ قاضی بھی دوسرا متولی نہیں مقرر کرسکتا ۔(المحتار)

مسئلہ۱۳: وقف نامہ میں تولیت کے متعلق کچھ مذکور نہیں تو تولیت کا حق واقف کو ہے خود بھی متولی ہوسکتا ہے اور دوسرے کو بھی کرسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۴: ایک وقف کے متعلق دو(۲)وقف نامے ملے ایک میں ایک شخص کو متولی بنانا لکھا ہے اور دوسرے میں دوسرے شخص کو اگر دونوں کی تاریخیں بھی آگے پیچھے ہیں جب بھی یہ دونوں اس وقف کے متولی ہیں شرکت میں کام کریں ۔(درمختار)

مسئلہ۱۵: واقف نے کسی کو متولی نہیں کیا اور مرتے وقت کسی کو وصی کیا تو یہی شخص وصی بھی ہے اور اوقاف کانگراں بھی اور اگر خاص وقف کے متعلق اسے وصی کیا ہے تو علاوہ وقف کے دوسری چیزوں میں بھی وہ وصی ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۶: دو زمینیں وقف کیں اور ہر ایک کا متولی علیحدہ علیحدہ دوشخصوں کو کیا تو الگ الگ متولی ہیں آپس میں شریک نہیں اور اگر ایک شخص کو متولی کیا اسکے بعد دوسرے کووصی کیا تو یہ وصی بھی تولیت میں متولی کا شریک ہے ہاں اگر واقف نے یہ کہا ہو کہ اس کو میں نے اپنے اوقاف کا متولی کیا ہے اور اسکو اپنے ترکات اور دیگر امور کا وصی کیا ہے تو ہر ایک اپنے اپنے کام میں منفرد ہوگا۔(بحرالرائق)

مسئلہ۱۷: واقف نے اپنی زندگی میں کسی کو اوقاف کے کام سپرد کردیئے ہیں تو اسکی زندگی ہی تک متولی رہے گا مرنے کے بعد متولی نہیں ۔ ہاں اگر یہ کہہ دیا ہے کہ میری زندگی میں اور مرنے کے بعد کے لئے بھی میں نے تجھ کو متولی کیا تو واقف کے مرنے پر اسکی ولایت ختم نہیں ہو گی۔قاضی نے کسی کو متولی بنایا اسکے بعد قاضی مرگیا یا معزول ہوگیا تو اس کی وجہ سے متولی پر کچھ اثر نہیں پڑے گا وہ بدستور متولی رہے گا۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۸: دوشخصوں کو متولی کیا تو ان میں تنہا ایک شخص وقف میں کوئی تصرف نہیں کرسکتا جتنے کام ہونگے وہ دونوں کی مجموعی رائے سے انجام پائیں گے اور ان میں سے اگر ایک نے کوئی کام کرلیا اور دوسرے نے اسے جائز کر دیا یاایک نے دوسرے کو وکیل کردیا اور اس نے اس کام کو انجام دیا تو جائز ہے کہ دونوں کی شرکت ہوگئی ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۹: ایک وقف کے دو(۲) وصی تھے ان میں ایک نے مرتے وقت ایک جماعت کو وصی کیا تو یہ جماعت اس وصی کے قائم مقام ہوگی اور اگر اس نے مرتے وقت دوسرے وصی کو وصی کیا تو اب تنہا یہی پورے وقف پر تصرف ہوگا۔( خانیہ )

مسئلہ۲۰: واقف نے ایک شخص کو وصی کر دیا ہے اور یہ شرط کردی ہے کہ وصی کو وصی کرنے کا اختیار نہیں تو یہ شرط صحیح ہے اس وصی کے بعد قاضی اپنی رائے سے کسی کو متولی مقرر کرے گا۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۱: واقف نے یہ شرط کی کہ اس کا متولی عبداللہ ہوگا اور عبداللہ کے بعد زید ہوگا مگر عبداللہ نے اپنے بعد کے لئے علاوہ زید کے دوسرے کو منتخب کیا تو زید ہی متولی ہوگا وہ نہ ہوگا جس کو عبداللہ نے منتخب کیا۔ یونہی اگر واقف نے یہ شرط کی ہے کہ میری اولاد میں جو زیادہ ہوشیار ہووہ متولی ہوگا مگر کسی متولی نے اپنے بعد اپنے داماد کو متولی کیا جو واقف کی اولاد میں نہیں تو یہ متولی نہیں ہوگا بلکہ واقف کی اولاد میں جو مستحق ہے وہ ہوگا۔(ردالمحتار)

مسئلہ۲۲: دو شخصوں کو واقف نے متولی کیا ہے ان میں ایک نے قبول کیا اور دوسرے نے تولیت سے انکار کردیا تو قاضی اپنی راے سے اس انکار کرنے والے کی جگہ کسی کو مقرر کرے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے قبول کیا قاضی اسی کو تمام وکمال اختیارات دیدے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۳: ایک شخص کو وصیت کی کہ اتنی جائداد خرید کر فلاں کام کے لئے وقف کردیناتو یہی شخص اس وقف کا متولی بھی ہوگااور اگر ایک شخص کو وقف کامتولی بنایا پھر ایک دوسرا وقف کیا جسکے لئے کسی کو متولی نہیں کیا ہے تو پہلا متولی اس دوسرے وقف کا متولی نہیں مگر جب کہ اس شخص کو وصی بھی کردیا ہوتو دوسرے وقف کا بھی متولی ہے ۔(بحرالرئق)

مسئلہ۲۴: واقف نے اپنی اولاد میں سے دو کے لئے تولیت رکھی ہے اور اس اولاد میں ایک مرد ہے اور ایک عورت تو یہی دونوں متولی ہوں گے اور اگر واقف نے یہ شرط کی ہے کہ میری اولاد میں سے دومرد متولی ہونگے تو عورت متولی نہیں ہوسکتی ۔( بحرالرائق)

مسئلہ۲۵: متولی مرگیا اور واقف زندہ ہے تو دوسرا متولی خود واقف ہی مقرر کرے گا اور واقف بھی مرچکا ہے اس کا وصی مقرر کرے گا اور وصی بھی نہ ہو تو اب قاضی کاکام ہے یہ اپنی رائے سے مقرر کرے ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۲۶: واقف کے خاندان والے موجود ہوں اور اہلیت بھی رکھتے ہوں تو انھیں کو متولی کیا جائے اور اگر یہ لوگ نا اہل تھے اور دوسرے کو متولی کر دیا گیا اسکے بعد میں کوئی تولیت کے لائق ہوگیا تو اس کی طرف تولیت منتقل ہو جائے گی اور اگر خاندان والے اس خدمت کو مفت نہیں کرنا چاہتے اور غیرشخص مفت کرنے کو تیار ہے تو قاضی وہ کرے جو وقف کے لئے بہتر ہو۔( عالمگیری)یہ اس صورت میں ہے کہ واقف نے اپنے خاندان کے لئے تولیت مخصوص نہ کی ہواور اگر مخصوص کردی تو دوسرے کو متولی نہیں بنا سکتے مگر اس صورت میں کہ خاندان والوں میں کوئی امین نہ ملتا ہو۔

مسئلہ۲۷: متولی کو یہ بھی اختیارہے کہ مرتے وقت دوسرے کے لئے تولیت کی وصیت کر جائے اور یہ دوسرا اسکے بعد متولی ہوگا مگر متولی کو جو وظیفہ ملتا تھا وہ اسے نہیں ملے گا اسکے لئے یہ ضرور ہے کہ قاضی کے پاس درخواست کرے قاضی اسکے کام کے لحاظ سے وظیفہ مقرر کرے گایہ ضرور نہیں کہ پہلے متولی کو جو کچھ ملتا تھا وہی اسکو بھی ملے ۔ہاں اگر واقف نے ہر متولی کے لئے ایک رقم مخصوص کررکھی ہے تو اب قاضی کے پاس درخواست دینے کی ضرورت نہیں بلکہ متولی سابق کی وصیت ہی کی بنا پر یہ متولی ہوگا اور واقف کی شرط کی بنا پر حق تولیت پائے گا۔اور قاضی نے کسی کو متولی بنایا تو اسکو حق تولیت اسقدر نہیں ملے گا جو واقف کے مقرر کردہ متولی کو ملتا تھا ۔( فتح القدیر)

مسئلہ ۲۸: متولی اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنا قائم مقام کرنا چاہتا ہے یہ جائز نہیں مگر جب کہ عموماًتمام اختیارت اسے سپرد ہوں تو یہ کرسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۹: چند اشخاص معلوم پر ایک جائداد وقف ہے تو خود یہ لوگ اپنی رائے سے کسی کو متولی مقرر کرسکتے ہیں قاضی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۰: متولی مسجد کا انتقال ہوگیا اہل محلہ نے اپنی رائے سے بغیر اجازت قاضی کسی کو متولی مقرر کیا تو اصح یہ ہے کہ یہ شخص متولی نہیں کہ متولی مقرر کرنا قاضی کا کام ہے مگر اس متولی نے وقف کی آمدنی اگر عمارت میں صرف کی ہے تو ضامن نہیں جب کہ وقفی جائداد کو کرایہ پر دیا ہواور کرایہ وصول کرکے خرچ کیا ہو ۔اور فتح القدیر میں فرمایا بہر حال تاوان دینا پڑے گا کہ مفتے بہ یہ ہے کہ وقف کو غصب کرکے اس سے جو کچھ اجرت حاصل کرے گا اس کا تاوان دینا پڑتا ہے ۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم سلطنت اسلام کے لئے ہے جہاں قاضی ہوتے ہیں اور وہ ان امور کو انجام دیتے ہیں اور چونکہ اس وقت ہندوستان میں نہ تو قاضی ہے نہ اسلامی سلطنت ایسی حالت میں اگر اہل محلہ کا متولی مقرر کرنا صحیح نہ ہوتواوقاف بغیر متولی رہ کر ضائع ہو جائیں گے ۔لہذا یہاں کی ضرورتوں کا خیال کرتے ہوئے دوسرے قول پر جس کو غیر اصح کیا جاتا ہے فتوی دینا چاہیئے یعنی اہل محلہ کا متولی مقرر کرنا جائز ہے اورجسے یہ لوگ مقرر کریں گے وہ جائز متولی ہوگا اور اس کے تصرفات مثلاًکرایہ وغیرہ پر دینا پھر ان کو ضرورت میں صرف کرنا سب جائز ہے ۔واللہ تعالی اعلم۔

مسئلہ ۳۱: ایک وقف کے دو متولی ہوگئے اس طرح کہ ایک شہر کے قاضی نے ایک کو متولی مقرر کیا اور دوسرے شہر کے قاضی نے دوسرے شخص کو متولی کیا تو ایسے دو متولیوں کو یہ ضرور نہیں کہ اجتماع و اتفاق رائے سے تصرف کریں ہر ایک متولی تنہا بھی تصرف کرسکتا ہے اور ایک قاضی کے مقرر کردہ متولی کو دوسرا قاضی معزول بھی کرسکتا ہے جب کہ اسی میں مصلحت ہو۔(خانیہ )

مسئلہ۳۲: وقف کے کسی جز کو بیع یا رہن کردینا خیانت ہے ۔ایسے متولی کو معزول کردیا جائے گا مگر وہ خود اپنے کو معزول نہیں کرسکتا بلکہ واقف یا قاضی اسے معزول کریگا۔( عالمگیری)

مسئلہ ۳۳ : قاضی کے حکم سے متولی مال وقف کو اپنے مال میں ملا سکتا ہے اور اس صورت میں اس پر تاوان نہیں ۔ (بحر)

مسئلہ۳۴: متولی نے وقف کی کوئی چیز کرایہ پر دی اسکے بعد وہ متولی معزول ہوگیااور دوسرا اسکی جگہ مقرر ہوا تو کرایہ دوسراشخص وصول کرے گاپہلے کو اب حق نہ رہا اور اگر متولی نے وقف کے مال سے کوئی مکان خریدا پھر اسے بیع کرڈالا تو یہ متولی مشتری سے اس بیع کا اقالہ کرسکتا ہے جب کہ واجبی قیمت سے زیادہ پر نہ بیچا ہواور اگر اس کو معزول کرکے دوسرا متولی مقرر کیا گیا تو یہ دوسرا بھی اس کا اقالہ کرسکتا ہے ۔(بحرالرائق)

مسئلہ۳۵: وقفی زمین میں درخت ہیں اور ان کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے کہ یہ پرانے ہوگئے تو متولی کو چاہیئے کہ نئے پودے نصب کرتا رہے تاکہ باغ باقی رہے ۔(خانیہ)

مسئلہ ۳۶: واقف نے متولی کے لئے حق تولیت جو کچھ مقرر کیا ہے اگر بلحاظ خدمت وہ کم مقدار ہے تو قاضی اجرت مثل تک اضافہ کرسکتا ہے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۳۷: دیہاتوں میں نذر انہ ورسوم وغیرہ لگان کے علاوہ کچھ اور مقرر ہوتے ہیں ان میں جو چیزیں عرف کے لحاظ سے متولی کے لئے ہوں مثلاًجب کارندہ گاؤں میں جاتے ہیں تو ان کو کچھ ملتا ہے اور مالک کے علم میں یہ بات ہوتی ہے مگر اس پر باز پرس نہیں کرتا تو ایسی رقمیں وغیرہ متولی کو ملیں گی اور اگر وہ چیزیں بطور رشوت دی گئی ہیں تاکہ دینے والوں کے ساتھ رعایت کرے مثلاً انڈے مرغی وغیرہ تو اس کالینانا جائز او ر لیا ہوتو واپس کرے اور اگر آمدنی اس قسم کی ہے کہ اس کو ملا کر گویا وقف کے محاصل پورے ہوتے ہیں مثلاًوقف کی زمین زیادہ حیثیت کی ہے اور کاشتکار لگان کے نام سے زیادہ دینا نہیں چاہتا مگر نذرانہ وغیرہ کسی اور نام سے وہ رقم پوری کردیتا ہے تو ایسی آمدنی کو وقف کی آمدنی قرار دینا چاہیئے اور محاصل وقف میں اسے شمار کیا جائے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۳۸: متولی نے اپنی اولاد یا اپنے باپ دادا کے ہاتھ وقف کی کوئی چیز بیع کی یا ان کو نوکر رکھا یا اجرت پر ان سے کام کرایا یہ سب نا جائز ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۳۹: واقف نے اگر متولی کے لئے یہ اجازت دیدی ہے کہ خود بھی وقف کی آمدنی سے کھاسکتا ہے اور اپنے دوست احباب کو بھی کھلاسکتا ہے تو متولی اس شرط کی بموجب احباب کو کھلا سکتا ہے ورنہ نہیں ۔(خلاصہ)

مسئلہ ۴۰ : قاضی نے اگر متولی کے لئے مثلاً فیصدی دس روپے مقرر کیئے ہیں تو آمدنی سے دس فیصدی لے گا یہ نہیں کہ جملہ مصارف کے بعد فیصدی دس روپے لے۔( خلاصہ)

مسئلہ۴۱: متولی کو اختیار ہے کہ زمین وقف کو آباد کرنے کے لئے گاؤں آبادکرائے رعایابسائے اس لئے کہ جب تک مزراعین نہیں ہوں گے زمین نہیں اٹھے گی اور آمدنی نہیں ہوگی لہذا اگر ضرورت ہو تو گاؤں آباد کرسکتا ہے ۔یونہی اگر وقفی زمین شہر سے متصل ہواور دیکھتا ہے کہ مکانات بنوانے میں آمدنی زیادہ ہوگی اور کھیت رکھنے میں آمدنی کم ہے تو مکانات بنواکر کرایہ پر دے سکتا ہے اور اگر مکانات میں بھی اتنا ہی نفع ہو جتنا کھیت رکھنے میں تو مکان بنوانے کی اجازت نہیں ۔(فتح القدیر)

مسئلہ۴۲: شورزمین کو درست کرانے کے لئے وقف کا روپیہ خرچ کرسکتا ہے مسافرخانہ کی کوئی آمدنی نہیں ہے اور اس میں ملازم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ صفائی رکھے اور اس کے کمروں کوکھولے بند کرے تو اسکے کسی حصہ کو کرایہ پر دے کر اسکی آمدنی سے ملازم کی تنخواہ دے سکتا ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۳: وقفی عمارت جھک گئی ہے جس سے پڑوس والوں کو اپنی عمارت کے خراب ہونے کا ڈرہے وہ لوگ متولی سے درست کرانے کو کہتے ہیں مگر متولی درست نہیں کرتا انکار کرتا ہے اور وقف کا روپیہ موجود ہے متولی کو درست کرانے پر مجبور کرسکتے ہیں اور اگر وقف کا روپیہ نہیں ہے تو قاضی کے پاس درخواست کریں قاضی حکم دیگا کہ قرض لے کر اسے ٹھیک کرائے ۔(خانیہ )

مسئلہ۴۴: وقفی زمین میں متولی نے مکان بنایا چاہے وقف کے روپے سے بنایا یا اپنے روپے سے بنایا مگر وقف کے لئے بنایا یاکچھ نیت نہیں کی ان صورتوں میں وہ وقف کا مکان ہے اور اگر اپنے روپے سے اپنے ہی لئے بنایا اور اس پر گواہ بھی کرلیا تو خود اس کا ہے اور دوسراشخص بناتا اور کچھ نیت نہ کرتا جب بھی اسی کو ہوتا ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۴۵: متولی نے وقف کی مرمت وغیرہ میں اپنا ذاتی روپیہ صرف کردیا اور یہ شرط کرلی تھی کہ واپس لے لوں گا تو واپس لے سکتا ہے اور اگر وقف کا روپیہ اپنے کام میں صرف کردیا پھر اتنا ہی اپنے پاس سے وقف میں خرچ کردیا تو تاوان سے بری ہے ۔( عالمگیری ‘ فتح القدیر) مگر ایسا کرنا جائز نہیں اور اگر وقف کے روپے اپنے روپے میں ملادیئے تو کل کا تاوان دے ۔

مسئلہ۴۶: متولی یا مالک نے کرایہ دار کو عمارت کی اجازت دیدی اس نے اجازت سے تعمیر کرائی تو جو کچھ خرچ ہوگاکرایہ دار متولی یا مالک سے لے گا جب کہ اس عمارت کا بیشتر نفع مالک کو پہنچتا ہو اور اس نئی تعمیر سے مکان کونقصان نہ پہنچے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۷: وقف خراب ہورہا ہے متولی یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایک جزبیع کرکے اس سے باقی کی مرمت کرائے تو اس کو اخیتار نہیں اور اگر وقفی مکان کا ایک ایساحصہ بیچ دیا جو منہدم نہ تھا اور مشتری اسے منہدم کرائے گا یا درخت تازہ بیچ دیا تو یہ بیع باطل ہے پھر اگر مشتری نے مکان گروادیا یا درخت کٹوادیا تو قاضی ایسے متولی کو معزول کرے کہ خائن ہے اور اس مکان یا درخت کاتاوان لے اور اختیار ہے کہ بائع سے تاوان لے یا مشتری سے اگر بائع سے تاوان لے گا بیع نافذ ہوجائے گی اور مشتری سے لے گا تو باطل رہے گی۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۸: وقف کے پھلدار درختوں کو بیچنا جائز نہیں اور کاٹنے کے بعد بیچ سکتا ہے اور نہ پھلنے والے درخت ہوں تو انھیں کاٹنے سے پہلے بھی بیچ سکتے ہیں اور بید جھاؤنرکل وغیرہ جو کاٹنے سے پھر نکل آتے ہیں انھیں تو بیچنا ہی چاہیئے کہ یہ خود آمدنی وقف میں داخل ہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۹: واقف نے متولی کے لئے حق تولیت رکھا ہے تو تولیت کی خدمت انجام دینے پر وہ ملتا رہے گا اور متولی کو وہی کام کرنے ہونگے جو متولی کیا کرتے ہیں مثلاًجائداد کو اجارہ پر دینا وقف میں کچھ کام کرانے کی ضرورت ہے تو اسے کرانا محاصل وصول کرنا مستحقین پر تقسیم کرنا وغیرہ متولی کو یہ ضرور ہوگا کہ امور تولیت میں بالکل کوتاہی نہ کرے اور جو کام عادۃًمتولی کے ذمہ نہیں ہوتے بلکہ مزدوروں سے متولی کام لیا کرتے ہیں ایسے کام کا مطالبہ متولی سے نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے خود کیوں نہیں کیا بلکہ اگر عورت متولی ہے تو وہی کام کریگی جو عورتیں کیا کرتی ہیں مردوں کے کام کا بار اس پر نہیں ڈالا جاسکتا ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۰: متولی نے اگر مزدوروں کے ساتھ وہ کام کیا جو مزدور کرتے ہیں اور اسکے فرائض سے یہ کام نہ تھا تو اسکی اجرت متولی نہیں لے سکتا ۔(بحرالرائق)

مسئلہ۵۱: متولی پر اہل وقف نے دعوی کیا کہ یہ کچھ کام نہیں کرتا اور واقف نے حق تولیت اسکے لئے جو کچھ رکھا ہے وہ کام کے مقابلہ میں ہے لہذااسکونہیں ملنا چاہئیے تو حاکم متولی پر ایسے کام کا بار نہیں ڈالے گا جو متولی نہ کرتے ہوں ۔( بحرالرائق)

مسئلہ ۵۲: متولی اگر اندھا بہراگونگا ہوگیا مگر اس قابل ہے کہ لوگوں سے کام لے سکتا ہے تو حق تولیت ملے گا ورنہ نہیں ۔پر کسی نے طعن کیاکہ مثلاًخائن ہے تو فقط لوگوں کے کہہ دینے سے اس کا حق تولیت باطل نہیں ہوگا اور نہ اسے تولیت سے جدا کیا جائے گا بلکہ واقع میں خیانت ثابت ہو جائے تو برطرف کیا جائے گا۔اور حق بھی بند ہو جائے گا اور اگر پھر اسکی حالت درست و قابل اطمینان ہو جائے تو پھر اسے متولی کر دیا جائے اور حق تولیت بھی دیا جائے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۳: اگر قاضی اس کو منا سب جانتا ہے کہ متولی کے ساتھ ایک دوسرا شخص شامل کردے کہ دونوں مل کر کام کریں تو شامل کرسکتا ہے اور حق تولیت میں سے کچھ اسے بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور اگر حق تولیت کم ہے کہ دوسرے کو اس میں اس میں سے دینے میں پہلے کے لئے بہت کمی ہو جائے گی تو دوسرے کو وقف کی آمدنی سے بھی دے سکتا ہے۔(عالمگیری) اور دوسرے شخص کو اس وجہ سے شامل کیا کہ متولی کی نسبت کچھ خیانت کا شبہ تھا تو تنہا متولی کو صرف کرنے کا حق نہ رہا اور اگر یہ وجہ نہیں تو متولی تنہا تصرف کر سکتا ہے۔(درمختار)

مسئلہ ۵۴: واقف نے متولی کیلئے اجر مثل سے زیادہ مقرر کیا تو حرج نہیں قاضی وغیرہ کوئی دوسرا شخص اجر مثل سے زیادہ نہیں مقرر کرسکتا(عا لمگیری)

مسئلہ ۵۵ : واقف نے کام کرنے والے کیلئے کچھ مال مقرر کیا ہے تو اسے یہ جائز نہیں کہ خود کام نہ کرے اور دوسرے کو اپنی جگہ مقرر کر کے وہ رقم بھی اسکے لئے کردے ہاں اگر واقف نے اسے ایسا اختیار دیا ہے تو ہو سکتا ہے (عالمگیری)

مسئلہ ۵۶ : متو لی وقف کے کام کے لئے ملازم نوکر رکھ سکتا ہے اور انکی تنخواہ دے سکتا ہے اور ان کو موقوف کر کے انکی جگہ دوسرے رکھ سکتا ہے۔(فتح القدیر)

مسئلہ ۵۷ : متولی کو جنون مطبق ہو گیا یعنی ایک سال جنون کو گزر گیا تو تولیت سے علیحدہ کر دیا جائے اور اگر یہ شخص اچھا ہوگیا اور کام کے لائق ہوگیا تو اسے تولیت پر مامور کیاجاسکتا ہے ۔(فتح القدیر)

مسئلہ ۵۸ واقف نے ایک شخص کو متولی کیا اوریہ شرط کردی کہ اگرچہ قاضی اسے معزول کردے مگر جو وظیفہ میں نے اسکے لئے مقرر کیاہے معزولی کے بعد بھی اسے دیا جائے یا اسکے بعد اسکی اولاد کے لئے نسلاً بعد نسل جاری ر ہے یہ شرط صحیح ہے اور اسی کے موافق عمل ہوگا۔( عالمگیری)

مسئلہ ۵۹: وقف کرنے کے بعد مر گیا قاضی نے یہ اقاف ایک شخص کو سپرد کردئیے اور آمدنی کا دسواں حصہ اس کا رندہ کے لئے مقرر کیا اور اقاف میں ایک پن چکی ہے جو بالمقطع ایک شخص کے کرایہ میں ہے اسکے لئے کارندہ کی ضرورت نہیں وہ وقف والے خودہی اسکا کرایہ وصول کرلیتے ہیں تو چکی کی آمدنی کا دسواں حصہ کا رندہ کو نہیں ملے گا۔(خانیہ)

مسئلہ۶۰: متولی نے مدتوں تک کام ہی نہیں کیا اور قاضی کو اطلاع بھی نہیں دی کہ اسے معزول کرکے دوسرے کو متولی کرتا پھر بھی وہ متولی ہے بغیر معزول کیے معزول نہ ہوگا۔(عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button