بہار شریعت

تنگدست کو مہلت دینے یا معاف کرنے کی فضیلت اور دین نہ ادا کرنے کی مذمت

تنگدست کو مہلت دینے یا معاف کرنے کی فضیلت اور دین نہ ادا کرنے کی مذمت

آیات:

اللہ تعالی فرماتا ہے

متعلقہ مضامین

وان کان ذوعسرۃٍفنظرۃٌ الی میسرۃٍط وان تصدقو اخیرلکم ان کنتم تعلمون۵

(اور اگر مدیون تنگدست ہے تو وسعت آنے تک اسے مہلت دو اور صدقہ کردو ( معاف کردو)تو یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔)

احادیث:

حدیث۱: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ایک شخص ( زمانۂ گزشتہ میں ) لوگوں کو ادھار دیا کرتا تھاوہ اپنے غلام سے کہا کرتا جب کسی تنگدست مدیون کے پاس جانا اس کو معاف کردینا اس امید پر کہ خدا ہم کو معاف کردے جب اسکا انتقال ہوااللہ تعالی نے معاف فرمادیا۔

حدیث۲: صحیح مسلم میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا جس کو یہ بات پسند ہوکہ قیامت کی سختیوں سے اللہ تعالی اسے نجات بخشے وہ تنگدست کو مہلت دے یامعاف کردے ۔

حدیث۳: صحیح مسلم میں ہے ابوالیسر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے سنا کہ جوشخص تنگدست کو مہلت دے گا یااسے معاف کردیگا اللہ تعالی اس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔

حدیث۴: صحیحین میں کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدردرضی اللہ تعالی عنہ سے اپنے دین کاتقاضا کیااور دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں حضور ﷺ نے اپنے حجرہ سے ان کی آوازیں سنیں تشریف لائے اور حجرہ کا پردہ ہٹا کر مسجد نبوی میں کعب رضی اللہ تعالی عنہ کو پکارا انہوں نے جواب دیا لبیک یارسول اللہ ﷺ۔ حضور نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا دین معاف کردو انھوں نے کہا میں نے کیا یعنی معاف کردیا۔دوسرے صاحب سے فرمایا اٹھوادا کردو۔

حدیث۵: صحیح بخاری میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کی اس کی نماز پڑھایئے فرمایا اس پر کچھ دین ہے عرض کی نہیں ۔ اس کی نماز پڑھا دی۔پھر دوسرا جنازہ آیا ارشاد فرمایااس پر دین ہے عرض کی ہاں ۔فرمایا کچھ اس نے مال چھوڑا ہے لوگوں نے عرض کی تین دینا ر چھوڑے ہیں اس کی نماز بھی پڑھادی ۔ پھر تیسرا جنازہ حاضر لایا گیا ارشاد فرمایا اس پر کچھ دین ہے لوگوں نے عرض کی تین دینارکا مدیون ہے ارشاد فرمایا اس نے کچھ چھوڑا ہے لوگوں نے کہانہیں ۔ فرمایا تم لوگ اس کی نماز پڑھ لو ۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺحضور نماز پڑھادیں دین کا ادا کردینا میرے ذمہ ہے ۔ حضور نے نماز پڑھادی۔

حدیث۶: شرح سنہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور ﷺکی خدمت میں جنازہ لایا گیا ارشاد فرمایا اس پر دین ہے لوگوں نے کہا ہاں ۔فرمایا دین ادا کرنے کے لئے کچھ چھوڑا ہے عرض کی نہیں ۔ارشاد فرمایا تم لوگ اسکی نماز پڑھ لو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی اسکا دین میرے ذمہ ہے حضور ﷺنماز پڑھادی اورایک روایت میں ہے کہ فرمایا اللہ تعالی تمھاری بندش کو توڑے جس طرحتم نے اپنے مسلمان بھائی کی بندش توڑی ۔ جو بندہ مسلم اپنے بھائی کا دین ادا کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی بندش توڑدیگا۔

حدیث۷: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضوراقدس ﷺنے فرمایا جو شخص لوگوں کے مال لیتا ہے اور ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس سے ادا کردیگا ( یعنی ادا کرنے کی توفیق دیگا یا قیامت کے دن دائن کو راضی کردیگا) اور جو شخص تلف کرنے کے ارادہ سے لیتا ہے اللہ تعالی ا س پر تلف کردیگا ( یعنی نہ ادا کی توفیق ہوگی نہ دائن راضی ہوگا)

حدیث۸: صحیح مسلم میں ابوقتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ ﷺیہ فرمایئے کہ اگر میں جہاد میں اس طرح قتل کیا جاؤں کہ صابر ہوں ثواب کاطالب ہوں آگے بڑھ رہا ہوں پیٹھ نہ پھیروں تو اللہ تعالی میرے گناہ مٹادے گاارشاد فرمایا ہاں ۔ جب وہ شخص چلاگیا اسے بلاکر فرمایا ہاں مگر دین ۔ جبریل علیہ السلام نے ایساہی کہا۔یعنی دین معاف نہ ہوگا۔

حدیث۹: صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ دین کے علاوہ شہید کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔

حدیث۱۰: امام شافعی و احمد و تر مذی و ابن ماجہ و دارمی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مومن کانفس دین کی وجہ سے معلق ہے جب تک ادانہ کیا جائے ۔

حدیث۱۱: شرح سنہ میں براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا صاحب دین اپنے دین میں مقید ہے قیامت کے دن خدا سے اپنی تنہائی کی شکایت کریگا

حدیث۱۲: ترمذی وابن ماجہ ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو اس طرح مرا کہ تکبراور غنیمت میں خیانت اور دین سے بری ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

حدیث۱۳: امام احمد، ابودائود، ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ کبیرہ گناہ جن سے اللہ تعالی نے ممانعت فرمائی ہے ان کے بعد اللہ کے نزدیک سب گناہوں سے بڑا یہ ہے کہ آدمی اپنے اوپر دین چھوڑ کر مرے اور اس کے ادا کے لئے کچھ نہ چھوڑ اہو۔

حدیث۱۴: امام احمد نے محمد بن عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں ہم صحن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺبھی تشریف فرماتھے حضورنے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور دیکھتے رہے پھر نگاہ نیچی کرلی اور پیشانی پرہاتھ رکھ کر فرمایا سبحان اللہ کتنی سختی اتاری گئی کہتے ہیں ہم لوگ ایک دن ایک رات خاموش رہے جب دن رات خیر سے گزر گئے اور صبح ہوئی تو میں نے عرض کی وہ کیا سختی ہے جونازل ہوئی ارشاد فرمایا کہ دین کے متعلق ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ ہو پھر قتل کیا جائے پھر زندہ ہوپھر قتل کیا جائے پھر زندہ ہو اور اس پر دین ہوتو جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک ادانہ کردیا جائے ۔

حدیث۱۵: ابوداود نسائی شریدرضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور نے فرمایا مالدارکادین ادا کرنے میں تاخیر کرنا اس کی آبرواور سزا کو حلال کر دیتا ہے عبداللہ ابن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ آبرو کو حلال کرنا یہ ہے کہ اس پر سختی کی جائے گی اور سزا کو حلال کرنا یہ ہے کہ قید کیا جائیگا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button