بہار شریعت

تراویح کے متعلق مسائل

تراویح کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: تراویح مرد و عورت سب کے لئے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۵۹ وغیرہ) اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم نے مداومت فرمائی اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری سنت و سنت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازم سمجھو اور خود حضور نے بھی تراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ارشاد فرماتے ہیں جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ اور ثواب طلب کرنے کے لئے اس کے اگلے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے یعنی صغائر۔ پھر اس اندیشہ سے کہ امت پر فرض نہ ہو جائے کہ ترک فرمائی پھر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رمضان میں ایک رات مسجد کو تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہا ہے کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں فرمایا میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہو سب کو ایک امام ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ اکٹھا کر دیا پھر دوسرے دن تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں فرمایا نعمت البدعۃ ھذہٖ یہ اچھی بدعت ہے۔ رواہ اصحاب السنن۔

مسئلہ ۲: جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں (ج ۱ ص ۶۶۰) اور یہی احادیث سے ثابت ہے بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور عثمان و علی رضی اللہ تعالی عنہما کے عہد میں بھی یونہیں تھا اور موطا بن یزید بن رومان سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں لوگ تیئس (۲۳) رکعتیں پڑھتے۔ بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں اور مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ رمضان میں لوگوں کو بیس (۲۰) رکعتیں پڑھائے نیز اس کے بیس (۲۰) رکعت میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجبات کی ہر روز بیس رکعتیں ہیں لہذا مناسب تھا کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و برابر عشاء ہوں ۔

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳: اس کا وقت فرض عشاء کے بعد سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو امام کے ساتھ و تر پڑھ لے پھر باقی ادا کرے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے اوراگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ نماز عشاء بغیر طہارت پڑھی تھی اور تراویح و وتر طہارت کے ساتھ تو عشاء و تراویح پھر پڑھے وتر ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۵۹، عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۵)

مسئلہ ۴: مستحب یہ ہے کہ تہائی رات تک تاخیر کریں ہواور آدھی رات کے بعد پڑھیں تو بھی کراہت نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۵۹)

مسئلہ ۵: تراویح اگر فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں اور اگر قضا تنہا پڑھ لی تو تراویح نہیں بلکہ نفل مستحب ہیں جیسے مغرب و عشاء کی سنتیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۶۰)

مسئلہ ۶: تراویح کی بیس رکعتیں دس سلام سے پڑھے یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرے اور اگر کسی نے بیسوں پڑھ کر آخر میں سلام پھیرا تو اگر ہر دو رکعت پر قعدہ کرتا رہا تو ہو جائے گی مگر کراہت کے ساتھ اور اگر قعدہ نہ کیا تھا تو دو رکعت کے قائم مقام ہوئیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۶۰)

مسئلہ ۷: احتیاط یہ ہے کہ جب دو رکعت پر سلام پھیرے تو ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے اور اگر ایک ساتھ بیسوں رکعت کی نیت کر لی تو بھی جائز ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۵۹)

مسئلہ ۸: تراویح میں ایک بار قرآن مجید ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے اور دو مرتبہ فضیلت اور تین مرتبہ افضل۔لوگوں کی سستی کی وجہ سے ختم کو ترک نہ کرے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۶۲)

مسئلہ ۹: امام و مقتدی ہر دو رکعت پر ثناء پڑھیں اور بعد تشہد دعا بھی ہاں اگر مقتدیوں پر گرانی ہو تو تشہد کے بعد اللھم صل علی محمدٍ والہٖ پر اکتفا کرے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۶۲۔ ۶۶۳)

مسئلہ ۱۰: اگر ایک ختم کرنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ ستائیسویں (۲۷) شب میں ختم ہو پھر اگر اس رات میں یا اس کے پہلے ختم ہوا تو تراویح آخر رمضان تک برابر پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۸)

مسئلہ ۱۱: افضل یہ ہے کہ تمام شفعوں میں قرأت برابر ہو اور اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں یونہیں ہر شفع کی پہلی رکعت اور دوسری کی قرأت مساوی ہو دوسری کی قرأت پہلی سے زیادہ نہ ہونا چاہئیے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)

مسئلہ ۱۲: قرأت اور ارکان کی ادا میں جلدی کرنا مکروہ ہے اور جتنی ترتیل زیادہ ہو بہتر ہے یونہی تعوذ و تسمیہ و طمانیت و تسبیح کا چھوڑ دینا بھی مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۸۔ درمختار ج ۱ ص ۶۶۳)

مسئلہ ۱۳: ہر چار رکعت پر اتنی دیر تک بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں چار رکعت پڑھیں پانچویں ترویحہ اور وتر کے درمیان اگر بیٹھنا لوگوں پر گراں ہو تو نہ بیٹھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۵)

مسئلہ ۱۴: اس بیٹھنے میں اسے اختیار ہے کہ چپکا بیٹھا رہے یا کلمہ پڑھے یا تلاوت کرے یا درود شریف یا چار رکعتیں تنہا نفل پڑھے جماعت سے مکروہ ہے یا یہ تسبیح پڑھے:۔

سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العزۃ والعظمۃ والھیبۃ والقدرۃ والکبریائ والجبروت ۔ سبحان الملک الحی الذی لا ینام ولا یموت سبوحٌ قدوسٌ ربنا ورب الملئکۃ والروح لٓا الہ الا اللہ نستغفراللہ نسئلک الجنۃ ونعوذبک من النار

(پاک ہے ملک و موت والا پاک ہے عزت و بزرگی اور بڑائی والا اور جبروت والا پاک ہے بادشاہ جوزندہ ہے جو نہ سوتا ہے نہ مرتا ہے پاک مقدس ہے۔پاک مقدس ہے فرشتوں اور روح کا مالک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ سے ہم مغفرت چاہتے ہیں تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں )

(غنیہ، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۶۱ وغیرہما)

مسئلہ ۱۵: ہر دو رکعت کے بعد دو (۲) رکعت پڑھنا مکروہ ہے یونہیں دس رکعت کے بعد بیٹھنا بھی مکروہ ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۶۲، عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۵)

مسئلہ ۱۶: تراویح میں جماعت سنت کفایہ ہے کہ اگر مسجد محلہ کے سب لوگ چھوڑ دیں تو سب گناہگار ہوں گے اور اگر کسی ایک نے گھر میں تنہا پڑھ لی گناہگار نہیں مگر جو شخص مقتدا ہو کہ اس کے ہونے سے جماعت بڑی ہوتی ہے اور چھوڑ دے گا تو لوگ کم ہو جائیں گے اسے بلا عذر جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۱۷: تراویح مسجد میں باجماعت پڑھنا افضل ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھی تو جماعت کے ترک کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۱۸: اگر عالم حافظ بھی ہو تو افضل یہ ہے کہ خود پڑھے دوسرے کی اقتداء نہ کرے اور اگر امام غلط پڑھتا ہو تو مسجد محلہ چھوڑ کر دوسری مسجد میں جانے میں حرج نہیں یونہیں اگر دوسری جگہ کا امام خوش آواز ہو یا ہلکی قرأت پڑھتا ہو یا مسجد محلہ میں ختم نہ ہو گا تو دوسری مسجد میں جانا جائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۱۹: خوش خواں کو امام بنانا نہ چاہیے بلکہ درست خواں کو بنائیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶) افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں یعلمون تعلمون کہ سوا کچھ پتہ نہیں چلاتا الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں انہیں دیکھیئے تو حروف صحیح ادا نہیں کرتے ہمزہ الف عین اور ذ، ز، ظ اور ث، س،ص، ت، ط وغیرہا حروف میں فرق نہیں کرتے جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی فقیر کو انہیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولا عزوجل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ ما انزل اللہ پڑھنے کی کوشش کریں ۔

مسئلہ ۲۰: آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے دینے والا اور لینے والا دونوں گناہ گار ہیں اجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں یہ دیں گے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگر اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ المعروف کالمشروط ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصریح فوق الدلالۃ۔

مسئلہ ۲۱: ایک امام دو مسجدوں میں تراویح پڑھاتا ہے اگر دونوں میں پوری پوری پڑھائے تو ناجائز ہے اور مقتدی نے دو مسجدوں میں پوری پوری پڑھی تو حرج نہیں مگر دوسری میں وتر پڑھنا جائز نہیں جب کہ پہلی میں پڑھ چکا ہو اور اگر گھر میں تروایح پڑھ کر مسجد میں آیا اور امامت کی تو مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۲۲: لوگوں نے تراویح پڑھ لی اب دوبارہ پڑھنا چاہتے ہیں تو تنہا پڑھ سکتے ہیں جماعت کی اجازت نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۲۳: افضل یہ ہے ایک امام کے پیچھے تراویح پڑھیں اور دو کے پیچھے پڑھنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ پورے ترویحہ پر امام بدلیں مثلاً آٹھ ایک کے پیچھے اور بارہ دوسرے کے پیچھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۲۴: نابالغ کے پیچھے بالغین کی تراویح نہ ہو گی یہی صحیح ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)

مسئلہ ۲۵: رمضان شریف میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے خواہ اسی امام کے پیچھے جس کے پیچھے عشاء و تراویح پڑھی یا دوسرے کے پیچھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶، درمختار ج ۱ ص ۶۶۴)

مسئلہ ۲۶: اگر سب لوگوں نے عشاء کی جماعت ترک کر دی تو تراویح بھی جماعت سے نہ پڑھیں ہاں عشاء جماعت سے ہوئی اور بعض کو جماعت نہ ملی۔ تو یہ جماعت تراویح میں شریک ہوں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۶۳)

مسئلہ ۲۷: یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشاء و وتر پڑھائے دوسرا تراویح جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ عشاء و وتر کی امامت کرتے تھے اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ تراویح کی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۲۸: اگر عشاء جماعت سے پڑھی اور تراویح تنہا تو وتر کی جماعت میں شریک ہو سکتا ہے اگر عشاء تنہا پڑھ لی اگرچہ تراویح باجماعت پڑھی تو وتر تنہا پڑھے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۶۳)

مسئلہ ۲۹: عشاء کی سنتوں کا سلام نہ پھیرا اسی میں تراویح ملا کر شروع کی تو تراویح نہیں ہوئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)

مسئلہ ۳۰: تراویح بیٹھ کر پڑھنا بلا عذر مکروہ ہے بلکہ بعضوں کے نزدیک تو ہو گی ہی نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)

مسئلہ ۳۱: مقتدی کو یہ جائز نہیں کہ بیٹھا رہے جب امام رکوع کرنے کو ہو تو کھڑا ہو جائے کہ یہ منافقین سے مشابہت ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:۔

اذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسلی

(منافق جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے جی سے)

(ردالمحتار ج ۱ ص ۶۶۳ غنیہ وغیرہا)

مسئلہ ۳۲: امام سے غلطی ہوئی کوئی سورت یا آیت چھوٹ گئی تو مستحب یہ ہے کہ اسے پڑھ کر پھر آگے بڑھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۸)

مسئلہ۳۳: دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا کھڑا ہو گیا تو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور سجدہ کر لیا ہو تو چار پوری کر لے مگر یہ دو شمار کی جائیں گی اور جو دو پر بیٹھ چکا ہے تو چار ہوئیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۸)

مسئلہ ۳۴: تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۸)

مسئلہ ۳۵: قعدہ میں مقتدی سو گیا امام سلام پھیر کر اور دو رکعت پڑھ کر قعدہ میں آیا اب یہ بیدار ہو گیا تو سلام پھیر کر شامل ہو جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد جلد پوری کر کے امام کے ساتھ ہو جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۹)

مسئلہ ۳۶: وتر پڑھنے کے بعد لوگوں کو یاد آیا کہ دو رکعتیں رہ گئیں تو جماعت سے پڑھ لیں اور آج یاد آیا کہ کل دو رکعتیں رہ گئی تھیں تو جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)

مسئلہ ۳۷: سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں کوئی کہتا ہے تین تو امام کے علم میں جو ہو اس کا اعتبار ہے اور امام کو کسی بات کا یقین نہ ہو جس کو سچا جانتا ہو اس کے قول پر اعتبار کرے اگر اس میں لوگوں کو شک ہو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ تو دو رکعت تنہا پڑھیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)

مسئلہ ۳۸: اگر کسی وجہ سے تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن مجید ان رکعتوں میں پڑھا ہے اعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔

مسئلہ ۳۹: اگر کسی وجہ سے ختم نہ ہو تو سورتوں سے تراویح پڑھیں اور اس کے لئے بعضوں نے یہ طریقہ رکھا ہے کہ الم تر کیف سے آخر تک دو با رپڑھتے میں بیس رکعیتں ہو جائیں گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۸)

مسئلہ ۴۰: ایک بار بسم اللہ شریف جہر سے پڑھنا سنت ہے اور ہر سورت کی ابتداء میں آہستہ پڑھنا مستحب اور یہ جو آج کل بعض جہال نے نکالا ہے کہ ایک سو چودہ بار بسم اللہ جہر سے پڑھی جائے ورنہ ختم نہ ہو گا مذہب حنفی میں بے اصل ہے۔

مسئلہ ۴۱: متاخرین نے ختم تراویح میں تین بار قل ھو اللہ پڑھنا مستحب کہا اور بہتر یہ ہے کہ ختم کے دن پچھلی رکعت میں الم سے مفلحون تک پڑھے۔

مسئلہ ۴۲: شبینہ کہ ایک رات کی تراویح میں پورا قرآن پڑھا جاتا ہے جس طرح آج کل رواج ہے کہ کوئی بیٹھا باتیں کر رہا ہے کچھ لوگ لیٹے ہیں کچھ لوگ چائے پینے میں مشغول ہیں کچھ لوگ مسجد کے باہرحقہ نوشی کر رہے ہیں اور جب جی آیا ایک آدھ رکعت میں شامل ہو گئے یہ ناجائز ہے۔

فائدہ: ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رمضان شریف میں اکسٹھ ختم کیا کرتے تھے۔ تیس دن اور تیس رات میں اور ایک تراویح میں اور پینتالیس (۴۵) برس عشاء کے وضو سے نماز فجر پڑھی ہے۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button