شرعی سوالات

تالاب کی مچھلیوں کی بیع کب جائز ہے اور کب ناجائز

سوال :

زید کہتا ہے کہ بلا عمر کی اجازت کے اس کے تالاب کی مچھلیاں جال سے نکالنا اور کھانا کھلانا جائز ہے۔ اس لئے کہ عمر کی ملکیت مچھلیوں پر نہیں ہے ۔ صرف تالاب کا مالک ہے۔ اگر مچھلیوں پر ملکیت ہوتی تو بیع کرنا بھی مالک کے حق میں جائز ہوتا۔

اور بکر کا یہ کہنا ہے کہ تالاب کی مچھلیوں کا بیچ کرنا بیشک عمر کے حق میں اس لئے ناجائز ہے کہ شریعت مطہرہ نے مجہول شی کی بیع کونا جائز قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ بلا اجازت مالک جس کا جی چاہے تا لا ب میں تصرف کرے اور جال ڈال کر مچھلیاں نکالے ۔ در یافت طلب امر یہ ہے کہ زید بر سر حق ہے یا پھر بکر؟

( نوٹ ) تالاب کے اقسام جس قد ر بھی ہو سکیں جن سے احکام بدلتے ہیں تمام صورتوں کے جوابات تحریر فرمائیں تا کہ اس بارے میں جتنے مسائل ہیں ہم لوگوں کے علم میں آ جائیں ۔

جواب:

وہ تالاب جو مچھلیاں حاصل کر نے کے لئے تیار کیا جائے تو تالاب والا ہی اس کا ما لک ہے بلا اس کی اجازت کے کسی دوسرے کو اس تالاب کی مچھلیاں پکڑنا جائز نہیں ۔

(۲) وہ تالاب جو اس غرض کے لئے تو نہیں تھا مگر تا لا ب والے نے اس میں مچھلیاں آ جانے کے بعد اس کے دریا سے آمد و رفت کا راستہ بند کر دیا ۔ تو یہ تالاب والا ہی اس کی مچھلیوں کا مالک ہے ۔اس کی بلا اجازت کے کوئی ان مچھلیوں کو نہیں پڑ سکتا۔

 ( ۳ ) وہ تالاب جو مذکور غرض کے لئے تو تیار نہیں ہوا لیکن تا لا ب والے نے ہی اس میں مچھلیاں چھڑوائی ہیں ۔ تو ان مچھلیوں کا بھی یہی تالاب والا ما لک ہے ۔ بلا اس کی اجازت کے کسی کا ان کو پکڑنا جائز نہیں۔

اب باقی رہا ان صورتوں میں مچھلیوں کے بیچنے کا جواز یا عدم جواز اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی مملوک چیز کے قا بل بیع ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مقدور التسلیم ہو۔ تو اگر ان صورتوں میں وہ مچھلیاں بغیر جال ،کا نٹے اور بلا کسی حیلہ ترکیب کے پکڑی جا سکتی ہیں تو ان کی بیع جائز ہے ، کہ مقدور التسلیم ہیں ۔ باوجودیکہ ان صورتوں میں وہ مچھلیاں تالاب والے ہی کی مملوک ہیں ۔

 (۴) وہ تالاب جو نہ مچھلیوں کی غرض کیلیے تیار کیا ہو ۔ نہ اس میں مچھلیاں آ جانے کے بعد اس کا راستہ بند کیا گیا ہو، نہ اس میں تالاب والے نے خود مچھلیاں چھوڑ دیں ہوں ۔ تو ایسے تا لا ب کی مچھلیوں کا تالاب والا مالک نہیں جو چاہے اس سے مچھلیاں پکڑ سکتا ہے اور پھر پکڑ لینے کے بعد ان کی بیع کر سکتا ہے علامہ شامی نے رد المحتار میں ان تمام صورتوں اور ان کے احکام کو فتح القدیر سے نقل فرمایا ہے۔

اب باقی رہے زید بکر کے اقوال تو زید کا قول چوتھے نمبر کے تالاب کے لئے تو صحیح ہے ۔ اور پہلے تینوں تالابوں کے لئے غلط ہے اور اس کی یہ دلیل ( کہ اگر مچھلیوں پر ملکیت ہوتی تو بیع کرنا بھی مالک کے حق میں جائز ہوتا) بھی صحیح نہیں ۔اوپر تفصیل سے ظاہر ہو چکا کہ بیع کے جواز کے  لیے صرف ملکیت ہی کا فی نہیں ہے بلکہ بیع کا مقدور التسلیم ہونا بھی ضروری ہے ۔ چنانچہ پہلی تینوں صورتوں میں تالاب والا مچھلیوں کا ما لک تو ہے لیکن جال،  کانٹے یا حیلہ و ترکیب سے پکڑے جا نے کی صورت میں بیع کا عدم جواز مقدور التسلیم نہ ہونے کی بنا پر ہے نہ کہ عدم ملکیت کی وجہ سے۔ تو زید کا قول و دلیل دونوں مجروح قرار پائے ۔ اب رہا بکر کا قول تو اگر وہ پہلی تین صورتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کی بیع مطلقاً  ناجائز نہیں ٹھہرتی بلکہ ناجائز صرف اس صورت میں ہے جب ان مچھلیوں کو جال، کا نٹے یا حیلہ و ترکیب سے پکڑا جائے ۔اور اگر جال کانٹے یا بلا حیلہ و ترکیب سے ان مچھلیوں کو پکڑا جا سکتا ہے تو ان کی بیع جائز و درست ہے ۔ بکر کا اس صورت کو بھی ناجائز کہہ دینا غلط اور خلاف تحقیق ہے ۔ ہاں آخری چوتھی صورت میں عمر کے حق میں ان کی بیع یقیناً ناجائز ہے لیکن اس کی علت وہ نہیں ہے جو بکر نے بیان کی کہ شی مجہول کی بیع ناجائز ہے بلکہ اس کی علت ان کا غیر مملوک ہونا یا مملوک غیر مقدور التسلیم ہونا ہے ۔ اور جب اس چوتھی صورت میں تالاب والا ان مچھلیوں کا مالک ہی نہیں تو پھر اس سے اجازت لینے کے کیا معنی ہیں بلکہ اس تالاب میں جس کا جی چاہے تصرف کرے اور جال ڈال کر مچھلیاں پکڑے ۔ بکر کا اس کے خلاف کہنا غلط ہے ۔ بالجملہ زید و بکر کے اقوال بکل الوجوہ صحیح نہیں بلکہ قابل اصلاح ہیں اور ان کی اصلاح ہمارے بیان میں مذکور ہے ۔اب سائل کو چاہیے کہ ان چہار صور میں جو صورت واقعہ کے مطابق ہو اس کا حکم اوپر کی تفصیل میں تلاش کر کے عمل کرے۔

(فتاوی اجملیہ، جلد3، صفحہ 259،شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button