شرعی سوالات

تالاب کی غیر مملوک ،غیر مقدور التسلیم مچھلیوں کی بیع

سوال:

تالاب   وغیرہ میں مچھلی ہوتی ہے۔مالک زمین مچھلی کو پانی میں رہتے ہوئے فروخت کرلیتے ہیں۔خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

جو مچھلیاں تالاب میں ہیں،ان کا خریدنا بیچنا ناجائز۔ہدایہ میں ہے”(ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد) لأنه باع مالا يملكہ(ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد)لأنه غير مقدور التسليم، ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها لو كان يؤخذ من غير حيلة جاز، إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك“ترجمہ:مچھلیوں کی بیع قبل اسکے کہ انھیں شکار کیا جائے جائز نہیں  کہ اس نے ایسی چیز کو بیچا جس کا مالک نہیں ۔ایسے ہی وہ مچھلیاں جو کسی گڑھے میں ہیں جن کو بغیر شکار پکڑا نہیں جاسکتاہو  کیونکہ وہ مقدور التسلیم نہیں ہے ۔اسکا مطلب یہ ہے کہ  مچھلیوں کو پکڑ کر کسی گڑھے میں ڈال دیا گیا ہو اور اگر اس قسم کی مچھلیاں بغیر حیلہ پکڑی جاسکتی ہوں تو بیع جائز ہے۔ہاں اگر کسی گڑھے میں وہ مچھلیاں خو دآکر جمع ہوگئیں اور راستہ بند نہ کیا تو بیع جائز نہیں  کہ یہ شخص ان کا مالک نہیں ۔“

(فتاوی امجدیہ، کتاب البیوع،جلد3،صفحہ151،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button