ARTICLESشرعی سوالات

تئیس (23) ذوالقعدہ کو فجر یا ظہر کے وقت مکہ پہنچنے والے کی نمازوں کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ حاجی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ 23 تاریخ کو فجر یا ظہر کے وقت پہنچے کہ اگر ذوالقعدہ کا مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے تو مکہ مکرمہ میں ان کا قیام آٹھ تاریخ کو منیٰ روانہ ہونے تک پندرہ دن ہوتا ہے اور ان کی نمازیں پچہتر (75) ہو جاتی ہیں ، اور اگر ذوالقعدہ کا مہینہ انتیس (29) دن کا ہوتا ہے تو ان کا قیام مکہ مکرمہ میں پندرہ دن نہیں بنتا اب اس صورت میں یہ لوگ مکہ میں پھر منیٰ و عرفات و مزدلفہ میں فرائض کو پورا پڑھیں گے یا قصر کریں گے ؟

(السائل : محمد شاہد، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں یہ لوگ اگر تیئس (23) ذوالقعدہ کی ظہر کے وقت میں مکہ مکرمہ پہنچے اور آٹھ ذوالحجہ کی فجر سے قبل منیٰ روانگی کا ارادہ رکھتے ہوں گے تو بہر صورت مسافر ہی رہیں گے او رنمازوں میں قصر کرتے رہیں گے کیونکہ مہینہ تیس (30) کا ہونے کی صورت میں بھی ان کا قیام مکہ مکرمہ میں پورے پندرہ روز نہیں ہوتا اور نماز کو پورا پڑھنے اور اان میں قصر کرنے کے باب میں ایک جگہ پندرہ روز قیام کی نیت کا اعتبار ہے ، اور متعدد جگہوں پر رہنے کی نیت اِقامت کے لئے معتبر نہیں او رمکہ ، منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات سب الگ الگ جگہیں ہیں ، اور اس مسئلہ کی تحقیق دوسرے فتویٰ میں موجود ہے ، اور اگر یہ لوگ تیئس (23) ذوالقعدہ کی ظہر کے وقت مکہ مکرمہ آئے اور آٹھ ذوالحجہ کی فجر کے بعد منیٰ روانگی کا ارادہ رکھتے ہوں یا یا تئیس (23) کی فجر کے وقت آئے اور آٹھ کی فجر کے بعد یا فجر سے قبل منیٰ روانگی کا ارادہ رکھتے ہوں تو اس وقت فرض رُباعی کو پورا پڑھتے رہیں گے اور مہینے کے اختتام پر دیکھیں گے کہ مہینہ تیس (30) کا ہوا یا انتیس (29) کا، اگر مہینہ تیس (30) کا ہو جائے تو بدستور مقیم رہیں گے اور فرائض رُباعی کو پورا پڑھتے رہیں گے ، چاہے مکہ مکرمہ میں ہوں یا منیٰ یا عرفات یا مزدلفہ میں ۔ اور اگر ذوالقعدہ انتیس (29) کا ہو جائے تو یہ لوگ مقیم نہ رہیں گے کیونکہ منیٰ روانگی تک مکہ مکرمہ میں پندرہ دن پورے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اقامت درست نہ ہوئی لہٰذا وہ اس وقت سے فرائض رُباعی میں قصر کریں گے ۔ اور پھر یہ بات کہ حاجیوں نے چاند نہ دیکھا یا انہیں نظر نہ آیا اور حکومت نے بھی فوراً اعلان نہ کیا بلکہ دو یا تین روز گزرنے کے بعد اعلان کیا تو اس صورت میں حاجی اپنے سابقہ طریقہ کو جاری رکھے گا یہاں تک کہ اُسے رؤیت ہلال کی خبر ہو۔ اور یہ کہ وہ ہر حال اس وقت اقامت کی نیت کر لیں پھر چاند نظر آنے کے بعد کوئی نیا فیصلہ کریں ، اس کا جواب جب یہ ہے کہ مہینہ تیس دن ہونے کی صورت میں بھی مکہ مکرمہ آمد سے لے کر تو اُس کا وقت تک کہ جب وہ منیٰ روانہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے پندرہ دن یعنی پچہتر نمازیں پوری نہیں ہوتیں اُس اقامت کی نیت کرنا درست نہ ہو گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مہینہ تیس کا ہونے کی صورت میں بھی مکہ میں اس نے پندرہ دن قیام نہیں کرنا، اس لئے کہ نیتِ اِقامت کے درست ہونے کی شرائط میں سے ایک شر ط یہ ہے کہ اس کی حالت اس کی نیت کے منافی نہ ہو چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : اس کی حالت، اس کے ارادے کے منافی نہ ہو۔ (66) اور اس صورت میں اس کی حالت اس کی نیت کے منافی ہو گی کہ نیت اس کی پندرہ دن کی ہے اور حالت اس کی یہ ہے کہ اس نے پندرہ دن پورے ہونے سے قبل مکہ سے چلے جانا ہے لہٰذا اس کی نیت کا اعتبار نہ رہا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس، 23ذی القعدۃ1427ھ، 14دیسمبر 2006 م (290-F)

حوالہ جات

66۔ بہار شریعت، حصہ چہارم، مسافر کی نماز کا بیان، 1/745

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button