ARTICLESشرعی سوالات

بے وضو یا حالت جنابت میں نفلی طواف کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نفلی طواف اگر حالتِ جنابت یا بے وضو کر لیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ، کیا اس کا حکم واجب طواف کی مثل ہے یا الگ ہے ، تفصیل سے جواب عنایت فرما کر مشکور ہوں ۔

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : اِن اُمور میں نفلی طواف کا حکم وہی ہے جو واجب طواف کا ہے کہ حالتِ جنابت میں کیا تو دَم اور بے وضو کیا تو صدقہ لازم ہو گا کیونکہ نفلی طواف شروع کرنے سے قبل نفل ہوتا ہے جب شروع کر دیا تو اب واجب ہو گیا اسی لئے اس کا حکم بھی وہی ہے جو واجب طواف کا ہے چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں کہ :

أَنَّ الحکمَ کذالک فی کُلِّ طوافٍ ھُو تطوُّعٌ، فیجبُ الدَّمُ لو طافَہُ جُنباً، و الصَّدقۃُ لو مُحدِثًا کما فی ’’الشرنبلالیَّۃ‘‘ عن ’’الزّیلعیِّ‘‘ (104)

یعنی، بے شک اسی طرح حکم ہر طواف میں ہے جو نفلی ہو، پس اگر حالتِ جنابت میں طواف کیا تو دَم واجب ہے اور بے وضو کیا تو صدقہ جیسا کہ
’’شرنبلالیہ‘‘ (105) میں ’’زیلعی‘‘ (106) کے حوالے سے ہے ۔ اور نفلی طواف پر واجب طواف والے احکامات اس لئے لازم ہوئے کہ یہ طواف شروع کرنے سے قبل نفل تھا جب شروع کر دیا تو واجب ہو گیا جیسا کہ طوافِ قُدوم سنّت ہے لیکن شروع کرنے سے واجب ہو جاتا ہے اور اس کے احکام وہی ہوتے ہیں جو واجب طواف کے لئے ہوتے ہیں چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی متوفی 1088ھ ’’تنویر الابصار‘‘ کی عبارت ’’طوافِ قُدوم حالتِ جنابت میں کیا تو دَم لازم ہے ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں :

لوُجوبِہ بالشّروعِ (107)

یعنی، اس کے شروع کرنے سے واجب ہو جانے کی وجہ سے ۔ اور مطلق طواف میں طہارت واجباتِ طواف سے ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبد الغفور ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ واجباتِ طواف کے بیان میں لکھتے ہیں :

یکے طہارت بدن از نجاست حکمیہ برابر است طواف فرض باشد یا غیر آن ملخصاً (108)

یعنی، طواف کا پہلا واجب بدن کا نجاست حکمی سے پاک ہونا ہے برابر ہے کہ طواف فرض ہو یا اُس کا غیر (یعنی واجب یا سنّت یا نفل ہو) اور ترکِ واجب سے مُرتکب گُنہگار قرار پاتا ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ اور ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

یَصیرُ عاصیاً أی : لِترکِ الواجبِ (109)

یعنی، مرتکب گُنہگار ہو جاتا ہے یعنی ترک واجب کی وجہ سے ۔ ایسی صورت میں پہلے اعادہ کا حکم دیا جاتا ہے ، اعادہ کر لے تو اگر دَم لازم تھا تو وہ ساقط ہو جاتا ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ لکھتے ہیں :

فإنْ أعادَہ سَقَطَ عنہ الدَّمُ (110)

یعنی، پس اگر اعادہ کر لے تو دَم ساقط ہو گیا۔ اور اگر صدقہ لازم تھا تو اعادہ سے وہ بھی ساقط ہو جاتا ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور ملا علی قاری لکھتے ہیں :

و إن أَعادَہ سقطتْ أی : الصَّدقۃُ (111)

یعنی، اگر اس کا اعادہ کر لے تو صدقہ ساقط ہو گیا۔ اور اعادہ کفّارے کوتو ساقط کر دیتا ہے لیکن گُناہ باقی رہتا ہے چنانچہ ملا علی قاری نے ’’لباب‘‘ کی عبارت کہ ’’اگر اعادہ کر لیا تو صدقہ ساقط ہو گیا‘‘ کے تحت لکھا کہ

و بَقِیَتِ المعصِیّۃُ (112)

یعنی، اور گُناہ باقی رہتا ہے ۔ اور دوسرے مقام پر کفّارہ ادا کرنے کے بعد بھی گُناہ کے باقی رہنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

و أمّا المعصِیّۃُ فموقُوفۃٌ علی التّوبۃ أو معلّقۃٌ بالمشیئَۃِ و لو کُفِّرت بالبَدَنَۃِ (113)

یعنی، مگر گُناہ تو وہ توبہ پر موقوف ہے یا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر معلّق ہے اگرچہ بَدنہ کے ساتھ کفّارہ دے دے ۔ اور علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں :

لکنّ العامدَ آثم (114)

یعنی، لیکن قصداً ترک کرنے والا گنہگار ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی نے لکھا کہ اگر قصداً ترکِ واجب پایا گیا تو گُناہ لازم آئے گا چنانچہ لکھتے ہیں کہ

حکم واجبات آنست کہ اگر ترک کرد یکے از آنہا صحیح باشد حج او و لازم آید بروئے دم یا صدقہ برابر ست ترک کردہ باشد آن را عمداً یا سہواً یا نسیاناً یا خطاء ً یا جہلاً لیکن چون ترک کرد بطریق تعمّد آثم باشد اگرچہ دم دہد و مرتفع نگردد آن اثم بغیر توبہ (115)

یعنی، واجبات کا حکم یہ ہے کہ اُن میں سے اگر کوئی ایک چھوڑ دیا تو حج صحیح ہو جائے گا اور (چند واجبات کے علاوہ باقی تمام کے ترک کرنے کی صورت) اُس پر دَم یا صدقہ لازم آئے گا برابر ہے کہ اُس نے عمداً یا سہواً یا نسیاناً یا خطاء ً یا جہلاً اُسے ترک کیا ہو لیکن عمداً چھوڑا ہے تو گُنہگار ہے اگرچہ دَم دے دے اور اس کا گُناہ بغیر توبہ کے نہ اُٹھے گا۔ لہٰذا واجب کسی طرح بھی ترک ہو چاہئے کہ توبہ کر لے کہ اسی میں احتیاط ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 3 ذوالحجۃ1429ھ، 1 دیسمبر 2008 م 668-F

حوالہ جات

104۔ رَدُّ المحتار علی الدُّرِّ المختار، باب الجنایات، تحت قولہ : لوُجوبہ بالشُّروع إلخ، 3/661

105۔ غنیۃ ذوی الأحکام فی بغیۃ دُرَرِ الحُکّام، کتاب الحجّ، باب الجنایات، 1/242

106۔ تبیین الحقائق، کتاب الحجّ، باب الجنایات، 2/369

107۔ الدُّرُّ المختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، تحت قولہ : أو طاف للقدوم، ص167

108۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب دویم، فصل دویم، أما واجبات طواف، ص118

109۔ لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات، فصل فی حکم الجنایات فی طوافِ الزّیارۃ، ص488

110۔ لُباب ا لمناسک ، باب الجنایات، فصل فی حکم الجنایات فی طواف الزّیارۃ، ص214

111۔ لُباب المناسک ، وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات، فصل فی حکم الجنایات فی طوافِ الزّیارۃ، ص283

112۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات، فصل فی حکم الجنایات فی طواف الزّیارۃ، ص495

113۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات، فصل فی حکم الجنایات فی طواف الزیارۃ، ص488

114۔ لباب المناسک مع شرحہ للقاری، باب فرائض الحج، فصل فی واجباتہ، ص72

115۔ حیات القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل سیوم، در بیان فرائض و واجبات الخ، ص44

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button