بہار شریعت

بیویوں میں باری مقرر کرنے کے متعلق مسائل

بیویوں میں باری مقرر کرنے کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃً او ما ملکت ایمانکم ط ذلک ادنی ان لا تعولوا ہ

(اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہ کرو گے تو ایک ہی سے نکاح کرو یا وہ باندیاں جن کے تم مالک ہو یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ تم سے ظلم نہ ہو)

اور فرماتا ہے:۔

لن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسائ ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ ط وان تصلحوا و تتقوا فان اللہ کان غفورًا رحیمًا ط

(تم سے ہرگز نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اگرچہ حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جائو اور دوسری کو لٹکتی چھوڑ دو۔ اور اگر نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے)

حدیث ۱: امام احمد و ابو دائود و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی دو عورتیں ہوں ان میں ایک کی طرف مائل ہو تو قیامت کے دن اس طرح حاضر ہو گا کہ اس کا آدھا دھڑ مائل ہوگا۔ ترمذی اور حاکم کی روایت ہے کہ اگر دونوں میں عدل نہ کرے تو قیامت کے دن حاضر ہو گا۔ اس طرح کہ آدھا دھڑ ساقط (بیکار) ہو گا۔

حدیث ۲: ابودائود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن حبان نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺباری میں عدل فرماتے اور کہتے الہی میں جس کا مالک ہوں اس میں میں نے یہ تقسیم کر دی اور جس کا مالک تو ہے میں مالک نہیں (یعنی محبت قلب) اس میں ملامت نہ فرما۔

حدیث ۳: صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک عدل کرنے والے اللہ کے نزدیک رحمن کی دہنی طرف نور کے منبر پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دہنے ہیں ۔ وہ لوگ جو حکم کرنے اور اپنے گھر والوں میں عدل کرتے ہیں ۔

حدیث ۴: صحیحن میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی کہ حضور اقدس ﷺ جب سفر کاارادہ فرماتے تو ازواج مطہرات میں قرعہ ڈالتے جن کا قرعہ نکلتا انہیں اپنے ساتھ لے جاتے۔

مسائل فقہیہ

جس کی دو یا تین یا چار عورتیں ہوں ان پر عدل فرض ہے یعنی جو چیزیں اختیاری ہوں ان میں سب عورتوں کا یکساں لحاظ کرے یعنی ہر ایک کو اس کا پورا حق ادا کرے۔ پوشاک اور نان نفقہ اور رہنے سہنے میں سب کے حقوق پورے ادا کرے اور جو بات اس کے اختیار کی نہیں اس میں مجبور و معذور ہے مثلاً ایک کی زیادہ محبت ہے دوسری کی کم ۔ یونہی جماع سب کے ساتھ برابر ہونا بھی ضروری نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱: ایک مرتبہ جماع قضائً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے کرتا رہے اور اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں تو اگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اٹھے اوراتنی کثرت بھی جائز نہیں کہ عورت کو ضرر پہنچے۔ اور یہ اس کے جثہ اور قوت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۲: ایک ہی بی بی ہے مگر اس کے پاس نہیں رہتا بلکہ نماز روزہ میں مشغول رہتا ہے تو عورت شوہر سے مطالبہ کر سکتی ہے اور اسے حکم دیا جائے گا کہ عورت کے پاس بھی رہا کرے کہ حدیث میں فرمایا کہ وان لزوجک علیک حقا تیری بی بی کا تجھ پر حق ہے، روزمرہ شب بیداری اور روزہ رکھنے میں اس کا حق تلف ہوتا ہے۔ رہا یہ کہ اس کے پاس رہنے کی کیامیعاد ہے اس کے متعلق ایک روایت یہ ہے کہ چار دن میں ایک دن اس کے لئے اور تین دن عبادت کے لئے اور صحیح یہ ہے کہ اسے حکم دیا جائیے کہ عورت کا بھی لحاظ رکھے اس کے لئے بھی کچھ وقت دے اور اس کی مقدار شوہر کے تعلق ہے۔ (جوہرہ ، خانیہ)

مسئلہ ۳: نئی اور پرانی، کنواری اور ثیب، تندرست اور بیمار، حاملہ اور غیرحاملہ، اور وہ نابالغہ جو قابل وطی ہو ، حیض و نفاس والی اور جس سے ایلا یا ظہار کیا ہو ، اور جس کو طلاق رجعی دی اور رجعت کا ارادہ ہو۔ اور احرام والی اور وہ مجنونہ جس سے ایذا کا خوف نہ ہو ، مسلمہ اور کتابیہ سب برابر ہیں سب کی باریاں برابر ہوں گی۔ یونہی مردعنین ہو یا خصی، مریض ہو یا تندرست بالغ ہو یا نابالغ قابل وطی۔ ان سب کا ایک حکم ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴: ایک زوجہ کنیز ہے دوسری حرہ۔ تو آزاد کے لئے دو دن اور دو راتیں اور کنیز کے لئے ایک دن رات۔ اور اگر اس عورت کے پاس جو کنیز ہے ایک دن رات رہ چکا تھا کہ آزاد ہو گئی تو حرہ کے پاس چلا جائے۔ یونہی حرہ کے پاس ایک دن رات رہ چکا تھا۔ اب کنیز آزاد ہو گئی تو کنیزکے پاس چلا جائے کہ اب اس کے یہاں دو دن رہنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ جو کنیز اس کی ملک میں ہے اس کے لئے باری نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵: باری میں رات کا اعتبار ہے لہذا ایک کی رات میں دوسری کے یہاں بلا ضرورت نہیں جا سکتا۔ دن میں کسی حاجت کے لئے جا سکتا ہے۔ اور دوسری بیمار ہے تو اس کے پوچھنے کو رات میں بھی جا سکتا ہے اور مرض شدید ہے تو اس کے یہاں رہ بھی سکتا ہے یعنی جب اس کے یہاں کوئی ایسا نہ ہو جس سے اس کا جی بہلے اور تیمارداری کرے۔ ایک کی باری میں دوسری سے دن میں بھی جماع نہیں کر سکتا۔ (جوہرہ ، نیرہ)

مسئلہ۶: رات میں کام کرتا ہے مثلاً پہرہ دینے پر نوکر ہے تو باریاں دن کی مقرر کرے۔ (درمختار)

مسئلہ۷: ایک عورت کے یہاں آفتاب کے غروب کے بعد آیا۔ دوسری کے یہاں بعد عشاء تو باری کے خلاف ہوا ۔یعنی رات کا حصہ دونوں کے پاس برابر صرف کرنا چاہئیے۔ رہا دن اس میں برابری ضروری نہیں ایک کے پاس دن کا زیادہ حصہ گزارا۔ دوسری کے پاس کم تو اس میں حرج نہیں ۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۸: شوہر بیمار ہوا اور عورتوں کے مکانات سکونت کے علاوہ بھی اس کا کوئی مکان ہے۔ اور اسی گھر میں ہے تو ہر ایک کو اس کی باری پر اس مکان میں بلائے اور اگر ان میں سے کسی کے مکان میں ہے تو دوسری کی باری میں اس کے مکان پر چلا جائے۔ اور اگر اتنی طاقت نہیں کہ دوسری کے یہاں جائے تو صحت کے بعد دوسری کے یہاں اتنے ہی دن ٹھہرے جتنے دن بیماری میں اس کے یہاں تھے۔ (درمختار)

مسئلہ ۹: یہ اختیار شوہر کو ہے کہ ایک دن کی باری مقرر کرے یا تین تین دن کی بلکہ ایک ایک ہفتہ کی بھی مقرر کر سکتا ہے اور یہ بھی شوہر ہی کو اختیار ہے کہ شروع کس کے پاس سے کرے ، ایک ہفتہ سے زیادہ نہ رہے۔ اور اگر ایک کے پاس جو مقرر کیا ہے اس سے زیادہ رہا تو دوسری کے پاس بھی اتنے ہی دنوں رہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۰: جب سب عورتوں کی باریاں پوری ہو گئیں تو کچھ دنوں ان میں کسی کے پاس نہ رہنے بلکہ کسی کنیز کے پاس رہنے یا تنہا رہنے کا شوہر کو اختیار ہے۔ یعنی یہ ضرورنہیں کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کے یہاں رہے۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۱۱: ایک عورت کے پاس مہینے بھر رہا اور دوسری کے پاس نہ رہا۔ اس نے دعوی کیا تو آئندہ کے لئے قاضی حکم دے گا کہ دونوں کے پاس برابر رہے اور پہلے جو ایک مہینہ رہ چکا ہے اس کا معاوضہ نہیں ۔ اگرچہ عدل نہ کرنے سے گنہگار ہوا۔ اور قاضی کے منع کرنے پر بھی نہ مانے تو سزا کا مستحق ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۲: سفر کو جانے میں باری نہیں بلکہ شوہر کو اختیار ہے جسے چاہے اپنے ساتھ لے جائے اور بہتر یہ ہے کہ قرعہ ڈالے جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے لے جائے اور سفر سے واپسی کے بعد اور عورتوں کو یہ حق نہیں کہ اس کا مطالبہ کریں کہ جتنے دن سفر میں رہا۔ اتنے ہی دنوں ان باقیوں کے پاس رہے بلکہ اب سے باری مقرر ہو گی۔ (جوہرہ) سفر سے مراد شرعی سفر ہے جس کے متعلق مسائل نماز میں گزرا۔ عرف میں پردیس میں رہنے کو بھی سفر کہتے ہیں یہ مراد نہیں ۔

مسئلہ ۱۳: عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری سوت کوہبہ کر دے اور ہبہ کرنے کے بعد واپس لینا چاہے تو واپس لے سکتی ہے۔ (جوہرہ وغیرہا)

مسئلہ ۱۴: دو عورتوں سے نکاح کیا اس شرط پر کے ایک کہ یہاں زیادہ رہے گا یا عورت نے کچھ مال دیا یا مہرمیں سے کچھ کم کر دیا کہ اس کے پاس زیادہ رہے یا شوہر نے ایک کو مال دیا کہ وہ اپنی باری سوت کو دے دے یا ایک عورت نے دوسری کو مال دیا کہ یہ اپنی باری اسے دے دے یہ سب صورتیں باطل ہیں اور جو مال دیا ہے واپس ہو گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۵: وطی و بوسہ ہر قسم کے تمتع سب عورتوں کے ساتھ یکساں کرنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ (فتح القدیر)

مسئلہ ۱۶: ایک مکان میں دو یا چند عورتوں کو اکٹھا نہ کرے اور اگر عورتیں ایک مکان میں رہنے پر خود راضی ہوں تو رہ سکتی ہے مگر ایک کے سامنے دوسری سے وطی نہ کرے ، اگر ایسے موقع پر عورت نے انکار کر دیا تو نافرمان نہیں قرار دی جائے گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۷: عورت کو جنابت و حیض و نفاس کے بعد نہانے پر مجبور کر سکتا ہے مگر عورت کتابیہ ہو تو جبر نہیں ۔ خوشبو استعمال کرنے اور موئے زیر ناف صاف کرنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے اور جس چیز کی بو سے اسے نفرت ہو مثلاً کچا لہسن ، کچی پیاز ، مولی وغیرہ کھانے تمباکو کھانے حقہ پینے کومنع کر سکتا ہے بلکہ ہر مباح چیز جس سے شوہر منع کرے عورت کو اس کا ماننا واجب۔ (عالمگیری ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۸: شوہر بنائو سنگار کو کہتا ہے یہ نہیں کرتی یا وہ اپنے پاس بلاتا ہے اور یہ نہیں آتی اس صورت میں شوہر کومارنے کا بھی حق ہے اور نماز نہیں پڑھتی تو طلاق دینی جائز ہے اگرچہ مہر ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۹: عورت کومسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہوا تو اگر شوہر عالم ہو تو اسے پوچھ لے ، اور عالم نہیں تو اس سے کہے وہ پوچھ آئے اور ان صورتوں میں اسے خود عالم کے یہاں جانے کی اجازت نہیں اور یہ صورتیں نہ ہوں تو جا سکتی ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۰: عورت کا باپ اپاہج ہو اور اس کا کوئی نگران نہیں تو عورت اس کی خدمت کے لئے جا سکتی ہے۔ اگرچہ شوہر منع کرتا ہو۔ (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button