شرعی سوالات

بیوہ خواتین کا حکومتی اسکیم میں پیسے جمع کروا کر اس پرزائد رقم لینا سود ہے

سوال:

ڈاک خانہ والوں کی طرف سے ایک اسکیم ہے جو کہ صرف بیوہ خواتین کے لیے ہے۔ اس اسکیم کے تحت بیوہ خاتون اپنے مال کو جمع کروائے تو ایسی صورت میں ماہوار ایک لاکھ روپیہ پر ۱۴ سو روپے ملیں گے ۔ کیا ایسی صورت میں سود کی کوئی شق موجود ہے؟

جواب:

کسی کو رقم دینا یا رکھوانا اس کے بعد معینہ مدت پر اضافہ کے ساتھ وصول کرنا سود ہے۔ سوال میں جس اسکیم کا ذکر کیا گیا ہے یہ سودی اسکیم ہے ۔ اس طرح کی اسکیموں کو علما نے اپنی کتب میں سود کے زمرے میں شامل کیا ہے اور اس میں شمولیت کو حرام قرار دیا ہے ۔ ( وقارالفتاوی ج۱ ص ۲۵۳ )

اس کی بنیاد یہ ہے کہ ایک حدیث موقوف کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے ایک صحابی نے ہر ایسے قرض کو سود قرار دیا جس پر نفع حاصل کیا جائے ۔ یعنی کسی کو قرض دے کر زیادہ وصول کیا جائے وہ سود ہے ۔

            واضح رہے کہ مذکورہ اسکیم کو یا اس سے ملتی جلتی دیگر اسکیموں کو شراکت قرار دینا بھی درست نہیں ہے کیونکہ شراکت میں نفع کی مقدار معین نہیں کی جا سکتی جب کہ مذکور و اسکیم میں نفع کی مقدار معین ہے ۔ لہذا اس اسکیم میں اصل رقم کے علاوہ جو زائد رقم وصول کی جائے گی وہ سود ہے اور حرام ہے ۔ شراکت داری میں نفع کا اصول شرعی تناسب ہے۔

(انوار الفتاوی، صفحہ432،فرید بک سٹال لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button