احادیث قدسیہ

بیماری اور رزق میں تنگی کے فائدے

بیماری اور رزق میں تنگی کے فائدے کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں بیماری اور رزق میں تنگی کے فائدے کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

بیماری اور رزق میں تنگی کے فائدے کے متعلق حدیث قدسی:

.عَنْ أنَسٍ رَضي الله عَنْهُ أنَّ رَسُوْلَ الله – صلى الله عليه وسلم – قَال: "إنَّ الرَّبَّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَقُوْلُ وَعِزَّتِي وَجَلاَلِي لاَ أُخْرِجُ أحَدًا مِنَ الدُّنيا أُرِيْدُ أنْ أغفِرَ لَهُ حَتَّى أسْتَوْفِيَ كُلَّ خَطِيآتِهِ فِي عُنُقِهِ بِسُقْمٍ فِي بَدَنِهِ وإقْتَارٍ فِي رِزْقِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرماتا ہے:

مجھے میری عزت و جلال کی قسم!میں جس شخص کی بخشش کا ارادہ کرتا ہوں، جسمانی بیماری اور رزق میں تنگی کے ذریعے اس کی ساری خطائیں معاف فرما کر اسےدنیا سے اٹھاتا ہوں

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں بیماری اور رزق میں تنگی کے فائدے کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

اس حدیث قدسی سے پتا چلا کہ بیماری اور رزق کی تنگی پر صبر کرنے پر اللہ تعالی گناہ معاف فرماتا ہے اور آخرت میں جنت عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:” اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ “ ترجمہ: صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی ۔

حدیث شریف کا حوالہ:

ملا علی قاری رحمہ اللہ نے رزین بن معاویہ عبدی کا حوالہ دیا ہے لیکن وہاں سے نہ مل سکاالبتہ ان محدثین نے اسے ذکر فرمایا ہے:

1.الترغيب والترهيب، الامام منذري، كتاب الجنائز وما يتقدمها، جلد4، صفحه،151،حديث نمبر 5213، دار الكتب العلميه، بيروت

2.جامع الأصول في أحاديث الرسول، ابن اثیر جزری، حرف الفاء، باب العاشر، فصل الاول فی المرض والنوائب، جلد9، صفحہ 586، حدیظ نمبر 7354، مكتبة دار البيان

حدیث شریف کا حکم:

فن حدیث کے اعتبار سے اس حدیث شریف کی سند ضعیف ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button