بہار شریعت

بیع سلم کے متعلق مسائل

بیع سلم کے متعلق مسائل

احادیث:

حدیث۱: صحیح بخاری ومسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ رسول اللہ ﷺجب مدینہ میں تشریف لائے ملاحظہ فرمایا کہ اہل مدینہ ایک سا ل دوسال تین سال پھلوں میں سلم کرتے ہیں فرمایا جو بیع سلم کرے وہ کیل معلوم اور وزن معلوم میں مدت معلوم تک کے لئے سلم کرے ۔

متعلقہ مضامین

حدیث۲: ابوداؤد و ابن ماجہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو کسی چیز میں سلم کرے وہ قبضہ کرنے سے پہلے تصرف نہ کرے۔

حدیث۳: صحیح بخاری شریف میں محمد بن ابی مجالد سے مروی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداداور ابوہریرہ نے مجھے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہم کے پاس بھیجا کہ جا کر ان سے پوچھو کہ نبی ﷺکے زمانہ میں صحابۂ کرام گیہوں میں سلم کرتے تھے یا نہیں میں نے جا کر پوچھا انھوں نے جواب دیا کہ ہم ملک شام کے کاشتکار وں سے گیہوں اور جو اور منقے میں سلم کرتے تھے جس کا پیمانہ معلوم ہوتا اور مدت بھی معلوم ہوتی میں نے کہا ان سے کرتے ہوں گے جس کے پاس اصل ہوتی یعنی کھیت یا باغ ہوتا انھوں نے کہا ہم یہ نہیں پوچھتے تھے کہ اصل اس کے پاس ہے یا نہیں ۔

مسائل فقہیہ:

مسئلہ۱: بیع کی چار (۴) صورتیں ہیں ۔(۱) دونوں طرف عین ہوں یا(۲) دونوں طرف ثمن یا(۳) ایک طرف عین اور ایک طرف ثمن اگر دونوں طرف عین ہواس کو مقایضہ کہتے ہیں اور دونوں طرف ثمن ہوتو بیع صرف کہتے ہیں اور تیسری صور ت میں کہ ایک طرف عین ہو اور ایک طرف ثمن اس کی دوصورتیں ہیں اگر مبیع کا موجود ہونا ضروری ہو تو بیع مطلق ہے ۔(۴) اور ثمن کا فوراًدینا ضروری ہوتو بیع سلم ہے لہذا سلم میں جس کو خریدا جاتا وہ بائع کے ذمہ دین ہے اورمشتری ثمن کو فی الحال ادا کرتا ہے ۔جو روپیہ دیتا ہے اس کو رب السلم اور مسلم کہتے ہیں اور دوسرے کو مسلم الیہ اور مبیع کو مسلم فیہ اور ثمن کو راس المال ۔ بیع مطلق کے جوارکان ہیں وہ اس کے بھی ہیں اس کے لئے بھی ایجاب وقبول ضروری ہے ایک کہے میں نے تجھ سے سلم کیا دوسرا کہے میں نے قبول کیا ۔ا ور بیع کا لفظ بولنے سے بھی سلم کا انعقاد ہوتا ہے ۔( فتح القدیر‘ درمختار)

بیع سلم کے لئے چند شرطیں ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے ۔

(۱) عقد میں شرط خیار نہ ہونہ دونوں کے لئے نہ ایک کے لئے ۔

(۲) راس المال کی جنس کے متعلق مسائل کہ روپیہ ہے یا اشرفی یا نوٹ یا پیسہ۔

(۳)اس کی نوع کے متعلق مسائل یعنی مثلاًاگر وہاں مختلف قسم کے روپے اشرفیاں رائج ہوں تو بیان کرنا ہوگا کہ کس قسم کے روپے یا اشرفیاں ہیں ۔

(۴)بیان وصف اگر کھرے کھوٹے کئی طرح کے سکے ہوں تو اسے بھی بیان کرنا ہوگا۔

(۵)راس المال کی مقدار کے متعلق مسائل یعنی اگر عقد کا تعلق اس کی مقدار کے ساتھ ہوتو مقدار کے متعلق مسائل کرنا ضروری ہوگافقط اشارہ کرکے بتانا کافی نہیں مثلاًتھیلی میں روپے ہیں تویہ کہنا کافی نہیں کہ ان روپوں کے بدلے میں سلم کرتاہوں بتانا بھی پڑے گا کہ یہ سو(۱۰۰) ہیں اور اگر عقدکا تعلق اس کی مقدار سے نہ ہو مثلاًراس المال کپڑے کا تھان یا عددی متفاوت ہوتو اس کی گنتی بتانے کی ضرورت نہیں اشارہ کرکے معین کردینا کافی ہے ۔ اگر مسلم فیہ دو مختلف چیزیں ہوں اور راس المال مکیل یا موزوں ہوتو ہرایک کے مقابل میں ثمن کا حصہ مقرر کرکے ظاہر کرنا ہوگا اورمکیل وموزوں نہ ہوتو تفصیل کی حاجت نہیں اوراگر راس المال دومختلف چیزیں ہوں مثلاًکچھ روپے ہیں اورکچھ اشرفیاں تو ان دونوں کی مقدار بیان کرنی ضرورہے ایک کی بیان کردی اورایک کی نہیں تو دونوں میں سلم صحیح نہیں

(۶)اسی مجلس عقد میں راس المال پر مسلم الیہ کا قبضہ ہوجائے ۔

مسئلہ۲: ابتدائے مجلس میں قبضہ ہویا آخر مجلس میں دونوں جائز ہیں اور اگر دونوں مجلس سے ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں سے چلدیئے مگر ایک دوسرے سے جدا نہ ہوا اور دو ایک میل چلنے کے بعد قبضہ ہوا یہ بھی جائز ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۳: اسی مجلس میں دونوں سوگئے یا ایک سویا اگر بیٹھا ہواسویا تو جدائی نہیں ہوئی قبضہ درست ہے لیٹ کرسویا تو جدائی ہوگئی ۔( خانیہ)

مسئلہ۴: عقدکیا اور پاس میں روپیہ نہ تھا اندر مکان میں گیا کہ روپیہ لائے اگر مسلم الیہ کے سامنے ہے تو سلم باقی ہے اور آڑ ہوگئی تو سلم باطل ۔ پانی میں گھسا اور غوطہ لگایا اگر پانی میلا ہے غوطہ لگانے کے بعد نظر نہیں آتا سلم باطل ہوگئی اور صاف پانی ہو کہ غوطہ لگانے پر بھی نظر آتاہو تو سلم باقی ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۵: مسلم الیہ راس المال پر قبضہ کرنے سے انکار کرتا ہے یعنی رب السلم نے اسے روپیہ دیا مگر وہ نہیں لیتا حاکم اس کو قبضہ کرنے پر مجبور کرے گا۔( عالمگیری)

مسئلہ۶: دوسوروپے کاسلم کیا ایک سواسی مجلس میں دیدیئے اور ایک سوکے متعلق کہا کہ مسلم الیہ کے ذمہ میرا باقی ہے وہ اس میں محسوب کرلے تو ایک سو جودیئے ہیں ان کا درست ہے اور ایک سو کا فاسد( درر‘غرر) اور وہ دین کا روپیہ بھی اسی مجلس میں اداکردیا تو پورے میں سلم صحیح ہے اور اگر کل ایک جنس نہ ہو بلکہ جوادا کیا ہے روپیہ ہے اور دین جو اس کے ذمہ باقی ہے اشرفی ہے یا اس کا عکس ہو یا وہ دین دوسرے کے ذمہ ہے مثلاًیہ کہاکہ اس روپیہ کے اور ان سوروپوں کے بدلے میں جو فلاں کے ذمہ میرے باقی ہیں سلم کیا ان دونوں صورتوں میں پورا سلم فاسد ہے اور مجلس میں اس نے ادا بھی کردیئے جب بھی سلم صحیح نہیں ۔(درمختار)

(۷) مسلم فیہ کی جنس بیان کرنا مثلاًگیہوں یا جو۔

(۸)اس کی نوع کے متعلق مسائل مثلاًفلاں کے گیہوں ۔

(۹)بیان وصف جید‘ردی‘ اوسط درجہ ۔

(۱۰)ماپ یاتول یا عدد یا گزوں سے اس کی مقدار کے متعلق مسائل کردینا۔

مسئلہ۷: ناپ میں پیمانہ یا گزاورتول میں سیر وغیرہ باٹ ایسے ہوں جس کی مقدار عام طور پر لوگ جانتے ہوں وہ لوگوں کے ہاتھ سے مفقود نہ ہوسکے تاکہ آئندہ کوئی نزاع نہ ہوسکے اوراگرکوئی برتن گھڑایا ہانڈی مقرر کردیا کہ اس سے ناپ کردیا جائے گا اورمعلوم نہیں کہ اس برتن میں کتنا آتا ہے یہ درست نہیں یونہی کسی پتھرکو معین کردیا کہ اس سے تولاجائے گا اور معلوم نہیں کہ پتھر کا وزن کیا ہے یہ بھی ناجائزیا ایک لکڑی معین کردی کہ اس سے ناپا جائے گا اوریہ معلوم نہ ہو کہ گزسے کتنی چھوٹی یا بڑی ہے یا کہا فلاں کے ہاتھ سے کپڑاناپا جائے گا اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا ہاتھ کتنی گرہ اور انگل کا ہے یہ سب صورتیں ناجائز ہیں اور بیع میں ان چیزوں سے ناپنا یا وزن کرنا قرار پاتا تو جائز ہوتی کہ بیع میں مبیع کے ناپنے یا تولنے کے لئے کوئی میعاد نہیں ہوتی اسی وقت ناپ تول سکتے ہیں اورسلم میں ایک مدت کے بعد ناپنے اور تولتے ہیں بہت ممکن ہے کہ اتنا زمانہ گزر نے کے بعد وہ چیز باقی نہ رہے اور نزاع واقع ہو۔( ہدایہ ‘ عالمگیری)

مسئلہ ۸: جو پیمانہ مقرر ہووہ ایسا ہو کہ سمٹتا پھیلتا نہ ہو مثلاًپیالہ ہانڈی گھڑا اور اگر سمٹتا پھیلتا ہو جیسے تھیلی وغیرہ تو سلم جائز نہیں ۔پانی کی مشک اگرچہ پھیلتی سمٹتی ہے اس میں بوجہ رواج و عملدرآمد سلم جائز ہے ۔( ہدایہ)

(۱۱) مسلم فیہ دینے کی کوئی میعاد مقرر ہو اور وہ میعاد معلوم ہو فوراًدیدینا قرار پایا یہ جائز نہیں ۔

مسئلہ۹: کم سے کم ایک ماہ کی میعاد مقرر کی جائے ۔ا گر رب السلم مرجائے جب بھی میعاد بدستور باقی رہے گی کہ میعاد پر اس کے ورثہ کو مسلم فیہ ادا کرے گا اور مسلم الیہ مرگیا تومیعاد باطل ہوگئی فوراً اس کے ترکہ سے وصول کرے گا۔( خانیہ)

(۱۲)مسلم فیہ وقت عقد سے ختم میعاد تک برابردستیاب ہوتا رہے نہ اس وقت معدوم ہو نہ ادا کے وقت معدوم ہو نہ درمیان میں کسی وقت بھی وہ ناپید ہوان تینوں زمانوں میں سے ایک میں بھی معدوم ہوا توسلم ناجائز ۔اس کے موجود ہونے کے یہ معنے ہیں کہ بازار میں ملتا ہواور اگر بازار میں نہ ملے تو موجود نہ کہیں گے اگرچہ گھروں میں پایا جاتاہو۔

مسئلہ۱۰: ایسی چیز میں سلم کیا جو اس وقت سے ختم میعاد تک موجود ہے مگر میعاد پوری ہونے پر رب السلم نے قبضہ نہیں کیا اور اب وہ چیز دستیاب نہیں ہوتی تو بیع سلم صحیح ہے اور رب السلم کو اختیار ہے کہ عقد کوفسخ کردے یا انتظار کرے جب وہ چیز دستیاب ہو بازارمیں ملنے لگے اس وقت دی جائے ۔( عالمگیری)اگر وہ چیز ایک شہر میں ملتی ہے دوسرے میں نہیں تو جہاں مفقود ہے وہاں سلم ناجائز اور جہاں موجود ہے وہاں جائز۔( درمختار)

(۱۳)مسلم فیہ ایسی چیز ہو کہ معین کرنے سے معین ہو جائے ۔ روپیہ اشرفی میں سلم جائز نہیں کہ یہ متعین نہیں ہوتے ۔

(۱۴)مسلم فیہ اگرا یسی چیز ہو جس کی مزدوری اور باربرداری دینی پڑے تو وہ جگہ معین کردی جائے جہاں مسلم فیہ ادا کرے اور اگر اس قسم کی چیز نہ ہو جیسے مشک زعفران تو جگہ مقرر کرنا ضرورنہیں ۔پھر اس صورت میں کہ جگہ مقرر کرنے کی ضرورت نہیں اگر مقرر نہیں کی ہے تو جہاں عقد ہوا ہے وہیں ایفا کرے اور دوسری جگہ کیا جب بھی حرج نہیں اور اگر جگہ مقرر ہوگئی ہے توجو مقرر ہوئی وہاں ایفاکرے ۔چھوٹے شہر میں کسی محلہ میں دیدے کافی ہے محلہ کی تخصیص ضرور نہیں اور بڑے شہر میں بتانے کی ضرورت ہے کہ کس محلہ یا شہر کے کس حصہ میں ادا کرنا ہوگا۔

مسئلہ۱۱: بیع سلم کا حکم یہ ہے کہ مسلم الیہ ثمن کا مالک ہوجائے گااور رب السلم مسلم فیہ کا ۔ جب یہ عقد صحیح ہوگیا اور مسلم الیہ نے وقت پر مسلم فیہ کو حاضر کردیا تو رب السلم کو لینا ہی ہے ہاں اگر شرائط کے خلاف وہ چیز ہے تو مسلم الیہ کو مجبور کیا جائے گاکہ جس چیز پر بیع سلم منعقد ہوئی وہ حاضر لائے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۲: بیع سلم اس چیز کی ہوسکتی ہے جس کی صفت کا انضباط ہوسکے اور اس کی مقدار معلوم ہوسکے وہ چیز کیلی ہو جیسے گیہوں یا وزنی جیسے لوہا۔ تانبا۔ پیتل ۔ یا عددی متقارب جیسے اخروٹ ۔ انڈا۔ پیسہ ۔ ناشپاتی ۔ نارنگی ۔ انجیر وغیرہ ۔ خام اینٹ اور پختہ اینٹوں میں سلم صحیح ہے جبکہ سانچا مقرر ہو جائے جیسے اس زمانہ میں عموماً دس (۱۰)انچ طول پانچ(۵) انچ عرض کی ہوتی ہیں یہ بیان بھی کافی ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۱۳: ذرعی چیز میں بھی سلم جائز ہے جیسے کپڑا اس کے لئے ضروری ہے کہ طول وعرض معلوم ہواور یہ کہ وہ سوتی ہے یا ٹسری یا ریشمی یا مرکب اور کیسا بناہوا ہوگا مثلاًشہر کا فلاں کارخانہ فلاں شخص کا اس کی بناوٹ کیسی ہوگی باریک ہوگا موٹا ہوگا اس کا وزن کیا ہوگا جب کہ بیع میں وزن کا اعتبار ہوتا ہو یعنی بعض کپڑے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا وزن میں کم ہونا خوبی اور بعض میں وزن کا زیادہ ہونا۔( درمختار) بچھونے چٹائیاں ۔ دریاں ۔ ٹاٹ۔ کمل جب ان کا طول وعرج وصفت سب چیزوں کی وضاحت ہوجائے تو ان میں بھی سلم ہوسکتا ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۱۴: نئے گیہوں میں سلم کیا اور ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ہیں یہ ناجائز ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۵: گیہوں جو اگرچہ کیلی ہیں مگر سلم میں ان کی مقدار وزن سے مقرر ہوئی مثلاًاتنے روپے کے اتنے من گیہوں یہ جائز ہے کیونکہ یہاں اس طرح مقدار کا تعین ہوجانا ضروری ہے کہ نزاع باقی نہ رہے اور وزن میں یہ بات حاصل ہے البتہ جب اس کا تبادلہ اپنی جنس سے ہوگاتو وزن سے برابری کافی نہیں ناپ سے برابر کرناضرور ہوگا جس کو پہلے ہم نے بیان کردیا ہے ۔

مسئلہ۱۶: جوچیز یں عددی ہیں اگر سلم میں ناپ یا وزن کے ساتھ ان کی مقدار کا تعین ہواتو کوئی حرج نہیں ۔(درمختار)

مسئلہ۱۷: دودھ دہی میں بھی بیع سلم ہوسکتی ہے ناپ یا وزن جس طرح سے چاہیں اس کی مقدار معین کرلیں ۔ گھی تیل میں بھی درست ہے وزن سے یاناپ سے (عالمگیری)

مسئلہ۱۸: بھوسہ میں سلم درست ہے اس کی مقدار وزن سے مقرر کریں جیسا کہ آج کل اکثر شہروں میں وزن کے ساتھ بھس بکاکرتا ہے یا بوریوں کی ناپ مقرر ہوجب کہ اس سے تعین ہوجائے ورنہ جائز نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۹: عددی متفاوت جیسے تربز۔ کدو۔ آم۔ ان میں گنتی سے سلم جائز نہیں ۔(درمختار) اور اگر وزن سے سلم کیا ہو کہ اکثر جگہ کدو وزن سے بکتا بھی ہے اس میں وزن سے سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ۲۰: مچھلی میں سلم جائز ہے خشک مچھلی ہو یا تازہ ۔ تازہ میں یہ ضرور ہے کہ ایسے موسم میں ہو کہ مچھلیاں بازار میں ملتی ہوں یعنی جہاں ہمیشہ دستیاب نہ ہوں کبھی ہوں کبھی نہیں وہاں یہ شرط ہے ۔ مچھلیاں بہت قسم کی ہوتی ہیں لہذا قسم کے متعلق مسائل کرتا بھی ضروری ہے اور مقدار کا تعین وزن سے ہو عدد سے نہ ہو کیونکہ ان کے عددمیں بہت تفاوت ہوتاہے ۔ چھوٹی مچھلیوں میں ناپ سے بھی سلم درست ہے ۔(د رمختار)

مسئلہ۲۱: بیع سلم کسی حیوان میں درست نہیں ۔ نہ لونڈی غلام میں ۔نہ چوپایہ میں نہ پرند میں حتی کہ جو جانور یکساں ہوتے ہیں مثلاًکبوتر۔بٹیر۔قمری۔فاختہ ۔چڑیا۔ان میں بھی سلم جائز نہیں جانوروں کی سری پائے بھی بیع سلم درست نہیں ہاں اگر جنس ونوع بیان کرکے سری پایوں میں وزن کے ساتھ سلم کیا جائے تو جائز ہے کہ اب تفاوت بہت کم رہ جاتا ہے ۔( درمختار،ردالمحتار)

مسئلہ۲۲: لکڑیوں کے گٹھوں میں سلم اگراس طرح کریں کہ اتنے گٹھے اتنے روپے میں لیں گے یہ ناجائز ہے کہ اس طرح بیان کرنے سے مقدار اچھی طرح نہیں معلوم ہوتی ہاں اگر گٹھوں کا انضباط ہو جائے مثلاًاتنی بڑی رسی سے وہ گٹھا باندھا جائے گااور اتنا لمبا ہوگااور اس قسم کی بندش ہوگی تو سلم جائز ہے ۔ ترکاریوں میں گڈیوں کے ساتھ مقدار بیان کرنا مثلاًروپیہ یا اتنے پیسوں میں اتنی گڈیاں فلاں وقت لی جائیں گی یہ بھی ناجائز ہے کہ گڈیاں یکساں نہیں ہوتیں چھوٹی بڑی ہوتی ہیں ۔اور اگر ترکاریوں اور ایندھن کی لکڑیوں میں وزن کے ساتھ سلم ہوتو جائز ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۲۳: جواہراور پوت میں سلم درست نہیں کہ یہ چیزیں عددی متفاوت ہیں ہاں چھوٹے موتی جو وزن سے فروخت ہوتے ہیں ان میں اگر وزن کے ساتھ سلم کیا جائے تو جائز ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۲۴: گوشت کی نوع وصفت بیان کردی ہوتو اس میں سلم جائز ہے ۔چربی اور دنبہ کی چکی میں بھی سلم درست ہے ۔ (درمختار)

مسئلہ۲۵: قمقمہ اور طشت میں سلم درست ہے جوتے اورموزے میں بھی جائز ہے جب کہ ان کا تعین ہوجائے کہ نزاع کی صورت باقی نہ رہے۔(دررغرر)

مسئلہ۲۶: اگر معین کردیا کہ فلاں گاؤں کے گیہوں یا فلاں درخت کے پھل تو سلم فاسد ہے کیونکہ بہت ممکن ہے اس کھیت یا گاؤں میں گیہوں پیدا نہ ہوں اس درخت میں پھل نہ آئیں اور اگر اس نسبت سے مقصود بیان صفت ہے یہ مقصد نہیں کہ خاص اسی کھیت یا گاؤں کا غلہ اسی درخت کے پھل تو درست ہے ۔یونہی کسی خاص جگہ کی طرف کپڑے کو منسوب کردیا اور مقصود اس کی صفت بیان کرنا ہے توسلم درست ہے اگر مسلم الیہ نے دوسری جگہ کا تھان دیا مگر ویسا ہی ہے تو رب السلم لینے پر مجبور کیا جائے گا۔اس سے معلوم ہواکہ اگر کسی ملک کی طرف انتساب ہوتو سلم صحیح ہے ۔مثلاًپنجاب کے گیہوں کہ یہ بہت بعید ہے کہ پورے پنجاب میں گیہوں پیداہی نہ ہوں ۔( درمختار،ردالمحتار، عالمگیری)

مسئلہ ۲۷: تیل میں سلم درست ہے جب کہ اس کی قسم بیان کردی گئی ہو مثلاًتل کا تیل سرسوں کا تیل ۔اور خوشبودار تیل میں بھی جائز ہے مگراس میں بھی قسم بیان کرناضرورہے ۔مثلاًروغن گل چمیلی جوہی وغیرہ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۸: اون میں سلم درست ہے جب کہ وزن سے ہواور کسی خاص بھیڑ کو معین نہ کیا ہو۔ روئی ۔لٹسر۔ریشم میں بھی درست ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۹: پنیر اور مکھن میں سلم درست ہے جب کہ اس طرح بیان کردیا گیا کہ اہل صنعت کے نزدیک اشتباہ باقی نہ رہے ۔شہ تیراور کڑیوں اور ساکھوں شیشم وغیرہ کے بنے ہوئے سامان میں بھی درست ہے جب کہ لمبائی چوڑائی موٹائی اور لکڑی کی قسم وغیرہ تمام وہ باتیں بیان کردی جائیں جن کے نہ بیان کرنے سے نزاع واقع ہو۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۳۰: مسلم الیہ رب السلم کوراس المال معاف نہیں کرسکتا اگر اس نے معاف کردیا اور رب السلم نے قبول کرلیا سلم باطل ہے اور انکارکردیا تو باطل نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۱: مسلم الیہ راس المال میں قبضہ کرنے سے پہلے کوئی تصرف نہیں کرسکتا اور رب السلم مسلم فیہ میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرسکتا۔مثلاًاسے بیع کردے یا کسی سے کہے فلاں سے میں نے اتنے من گیہوں میں سلم کیا ہے وہ تمھارے ہاتھ بیچے۔نہ اس میں کسی کو شریک کرسکتا کہ کسی سے کہے سوروپے سے میں نے سلم کیا ہے اگر پچاس تم دیدو تو برابر کے شریک ہوجاؤ یا اس میں تولیہ یا مرابحہ کرے یہ سب تصرفات ناجائز ۔اگر خود مسلم الیہ کے ساتھ یہ عقود کیئے مثلاًاس کے ہاتھ انہیں داموں میں یا زیادہ داموں میں بیع کر ڈالی یا اسے شریک کرلیا یہ بھی نا جائز ہے ۔اگر رب السلم نے مسلم فیہ اس کو ہبہ کردیا اور اس نے قبول بھی کرلیا تو یہ اقالہ ٔ سلم قرار پائے گا اور حقیقۃً ہبہ نہ ہوگا اور راس المال واپس کرنا ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ ۳۲: راس المال جو چیز قرار پائی ہے اس کے عوض میں دوسری جنس کی چیز دینا جائز نہیں مثلاً روپے سے سلم ہوا اور اس کی جگہ اشرفی یا نوٹ دیا یہ نا جائز ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ ۳۳: مسلم فیہ کے بدلے میں دوسری چیز لینا دینا نا جائز ہے ہاں اگر مسلم الیہ نے مسلم فیہ اس سے بہتر دیا جوٹھہرا تھا تو رب السلم اس کے قبول سے انکار نہیں کرسکتااور اس سے گٹھیاپیش کرتا ہے تو انکار کرسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۳۴: کپڑے میں سلم ہوا مسلم الیہ اس سے بہتر کپڑا لایا جوٹھہراتھا یامقدار میں اس سے زیادہ لایا اور کہتا یہ ہے کہ یہ تھان لے لو اورایک روپیہ مجھے اور دو رب السلم نے دیدیا یہ جائز ہے اوریہ روپیہ جو زیادہ دیا ہے اس خوبی کے مقابل میں قرار پائے گاجواس تھان میں ہے یا زائد مقدار کے مقابل میں ۔ اور اگر جوکچھ ٹھہراتھا اس سے گٹھیا لایا اورکہتا یہ ہے کہ اسی کو لے لو اور میں ایک روپیہ واپس کردونگا یہ ناجائز ہے اور اگر گٹھیاپیش کرتااور یہ فقرہ روپیہ واپس کرنے کانہ کہتااور رب السلم قبول کرلیتا تو جائز تھا اوریہ ایک قسم کی معافی ہے یعنی اچھائی جوایک صفت تھی اس نے اس کے بغیر لے لیا اور اگر مکیل یاموزوں میں سلم ہواہے مثلاً دس روپے کے پانچ من گیہوں ٹھہرے ہیں اچھے کھرے گیہوں لایا اور کہتا ہے ایک روپیہ اور دو یہ ناجائز ہے اور پانچ من سے زیادہ لایا ہے اورکہتا ہے ایک روپیہ دو یا پانچ من سے کم لایا ہے اور کہتاہے ایک روپیہ واپس لو یہ جائز ہے اور اگر پانچ من خراب لایا اورایک روپیہ واپس کرنے کو کہتا ہے یہ ناجائز ہے ۔(خانیہ )

مسئلہ ۳۵: مسلم فیہ کے مقابل میں رب السلم اگر کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھے درست ہے ۔اگررہن ہلاک ہوجائے تو رب السلم مسلم الیہ سے کچھ مطالبہ نہیں کرسکتا اور مسلم الیہ مرگیا اور اس کے ذمہ بہت سے دیون ہیں تو دوسرے قرض خواہ اس رہن سے دین وصول کرنے کے حقدار نہیں ہیں جب تک رب السلم وصول نہ کرلے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۶: مسلم فیہ کی وصولی کے لئے رب السلم اس سے کفیل (ضامن ) لے سکتا ہے اور اس کا حوالہ بھی درست ہے اگر حوالہ کردیا کہ یہ گیہوں فلاں سے وصول کرلو تو خود مسلم الیہ مطالبہ سے بری ہوگیا اورکسی نے کفالت کی ہے تو مسلم الیہ بری نہیں بلکہ رب السلم کو اختیار ہے کفیل سے مطالبہ کرے یا مسلم الیہ سے ۔یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ رب السلم کفیل سے مسلم فیہ کی جگہ پر کوئی دوسری چیز وصول کرے ۔کفیل نے رب السلم کو مسلم فیہ ادا کردیا مسلم الیہ سے وصول کرنے میں اس کے بدلہ میں دوسری چیز لے سکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۷: مسلم الیہ نے کسی کو کفیل کیا کفیل نے مسلم الیہ سے مسلم فیہ کو بروجہ کفالت وصول کیا پھر کفیل نے اسے بیچ کر نفع اٹھایا مگر رب السلم کومسلم فیہ دیدیا تو یہ نفع اس کے لئے حلال ہے ۔ اور اگر مسلم الیہ نے یہ کہہ کر دیا کہ اسے رب السلم کو پہنچادے تو نفع اٹھانا جائز نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۸: رب السلم نے مسلم الیہ سے کہا اسے اپنی بوریوں میں تول کررکھ دو یا اپنے مکان میں تول کر علیحدہ کرکے رکھ دو اس سے رب السلم کا قبضہ نہیں ہوا یعنی جب کہ بوریوں میں رب السلم کی عدم موجودگی میں بھرا ہویا رب السلم نے اپنی بوریاں دیں اور یہ کہہ کر چلاگیا کہ ان میں بھر دو اس نے ناپ یا تول کر بھر دیا اب بھی رب السلم کا قبضہ نہیں ہوا کہ اگر ہلاک ہوگاتو مسلم الیہ کا ہلاک ہوگا رب السلم سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔اور اگر اس کی موجود گی میں بوریون میں غلہ بھراگیاتو چاہے بوریاں اس کی ہو یامسلم الیہ کی رب السلم قابض ہوگیا۔ اگر بوری میں رب السلم کا غلہ موجود ہواور اس میں سلم کا غلہ بھی مسلم الیہ نے ڈالدیا تو رب السلم کا قبضہ ہوگیا اور بیع مطلق میں اپنی بوریاں دیتا اور کہتا اس میں ناپ کر بھر دو اور وہ بھر دیتا تو اس کا قبضہ ہوجاتا اس کی موجود گی میں بھر تا یا عدم موجودگی میں ۔ یونہی اگر رب السلم نے مسلم الیہ سے کہا اس کا آٹا پسوادے اس نے پسوایا تو آٹا مسلم الیہ کا ہے رب السلم کا نہیں اور بیع مطلق میں مشتری کا ہوتا۔ اور اس نے کہا اسے پانی میں پھینک دے اس نے پھینک دیا تومسلم الیہ کا نقصان ہوا رب السلم سے تعلق نہیں اور بیع مطلق میں مشتری کا نقصان ہوتا۔( ہدایہ ،فتح القدیر)

مسئلہ ۳۹: زید نے عمرو سے ایک من گیہوں میں سلم کیا تھا جب میعاد پوری ہوئی عمرو نے کسی سے ایک من گیہوں خریدے تاکہ زیدکو دیدے اور زید سے کہہ دیا کہ تم اس سے جاکر لے لو زید نے اس سے لے لئے تو زیدکا ما لکانہ قبضہ نہیں ہوا اور اگر عمرو یہ کہے کہ تم میرے نائب ہوکروصول کرو پھر اپنے لئے قبضہ کرو اور زید ایک مرتبہ عمرو کے لئے ان کوتولے پھر دوبارہ اپنے لئے تولے اب سلم کی وصولی ہوگی اور اگرعمرو نے خریدانہیں بلکہ قرض لیا ہے اور زید سے کہہ دیا جا کراس سے سلم کے گیہوں لے لوتو اس کا لینا صحیح ہے یعنی قبضہ ہوجائے گا۔ ( ہدایہ )

مسئلہ ۴۰: بیع سلم میں یہ شرط ٹھہری کہ فلاں جگہ وہ چیز دے گا مسلم الیہ نے دوسری جگہ وہ چیز دی اورکہا یہاں سے وہاں تک کی مزدوری میں دے دوں گارب السلم نے چیز لے لی یہ قبضہ درست ہے مگر مزدوری لینا جائز نہیں مزدوری جو لے چکا ہے واپس کرے ہاں اگر اس کو پسند نہیں کرتا کہ مزدوری اپنے پاس سے خرچ کرے تو چیز واپس کردے اور اس سے کہہ دے کہ جہاں پہنچانا ٹھہرا ہے وہ خود مزدور کرکے یا جیسے چاہے پہنچائے ۔ ( عالمگیری)یہ طے ہوا ہے کہ رب السلم کے مکان پر پہنچائے گااورمسلم الیہ کو اپنے مکان کا پورا پتا بتادیا ہے تو درست ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۱: سلم میں اقالہ درست ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پورے سلم میں اقالہ کیا جائے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے کسی جز میں اقالہ کریں اگر پورے سلم میں اقالہ کیا میعاد پوری ہونے سے قبل یا بعد راس المال مسلم الیہ کے پاس موجود ہو یانہ ہو بہر حال اقالہ درست ہے اگر راس المال ایسی چیز ہوجو معین کرنے سے معین ہوتی ہے مثلاًگائے ،بیل یاکپڑاوغیرہ اور یہ چیز بعینہ مسلم الیہ کے پاس موجود ہے تو بعینہ اسی کو واپس کرنا ہوگا اور موجود نہ ہو تو اگر مثلی ہے اس کی مثل دینی ہوگی اور قیمتی ہو تو قیمت دینی پڑے گی اور اگر راس المال ایسی چیز نہ ہو جو معین کرنے سے معین ہو مثلاًروپیہ اشرفی تو چاہے موجود ہو یا نہ ہو اس کی مثل دینا جائز ہے بعینہ اسی کا دینا ضرور نہیں ۔ رب السلم نے مسلم فیہ پر قبضہ کرلیا ہے اس کے بعد اقالہ کرنا چاہتے ہیں اگر مسلم فیہ بعینہ موجود ہے اقالہ ہوسکتا ہے اور بعینہ اس چیز کو واپس دینا ہوگا اور اگر مسلم فیہ باقی نہیں تو اقالہ درست نہیں ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ ۴۲: سلم کے اقالہ میں یہ ضروری نہیں کہ جس مجلس میں اقالہ ہوا اسی میں راس المال کو واپس لے بعد میں لینا بھی جائز ہے ۔ اقالہ کے بعد یہ جائز نہیں کہ قبضہ سے پہلے راس المال کے بدلے میں کوئی چیز مسلم الیہ سے خریدلے راس المال پر قبضہ کرنے کے بعد خرید سکتا ہے ۔( درمختار)

مسئلہ ۴۳: اگر سلم کے کسی جز میں اقالہ ہوااور میعاد پوری ہونے کے بعد ہوا تو یہ اقالہ بھی صحیح ہے اور میعاد پوری ہونے سے پہلے ہوااور یہ شرط نہیں ہے کہ باقی کو میعاد سے قبل ادا کیا جائے یہ بھی صحیح ہے۔اور اگر یہ شرط ہے کہ باقی کو قبل میعاد پوری ہونے کے ادا کیاجائے تو شرط باطل ہے اور اقالہ صحیح ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۴۴: کنیز وغیرہ کوئی اسی قسم کی چیز راس المال تھی اورمسلم الیہ نے اس پر قبضہ بھی کرلیا پھر اقالہ ہوااس کے بعد ابھی کنیز واپس نہیں ہوئی مسلم الیہ کے پاس مرگئی تو اقالہ صحیح ہے اور کنیز پر جس دن قبضہ کیا تھا اس روز جو قیمت تھی وہ ادا کرے اور کنیز کے ہلاک ہونے کے بعد اقالہ کیا جب بھی اقالہ صحیح ہے کہ سلم میں مبیع مسلم فیہ ہے اور کنیز راس المال وثمن ہے نہ کہ مبیع۔(ہدایہ )

مسئلہ۴۵: رب السلم نے مسلم فیہ کو مسلم الیہ کے ہاتھ راس المال کے بدلے میں بیچ ڈالا تو یہ اقالہ صحیح نہیں ہے بلکہ تصرف ناجائز ہے ۔راس المال سے زیادہ میں بیع کیا جب بھی ناجائز ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۶: سوروپے راس المال ہیں یہ مصالحت ہوئی کہ مسلم الیہ رب السلم کو دوسویا ڈیڑھ سو واپس دے گا اورسلم سے دست بردار ہوگا یہ ناجائز و باطل ہے یعنی اقالہ صحیح ہے مگر راس المال سے جوکچھ زیادہ واپس دینا قرار پایا ہے وہ باطل ہے صرف راس المال ہی واپس کرنا ہوگا اور اگر پچاس روپیہ میں مصالحت ہوئی تو نصف سلم کا اقالہ ہوااور نصف بدستور باقی ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۷: رب السلم ومسلم الیہ میں اختلاف ہوا مسلم الیہ یہ کہتا ہے کہ خراب مال دینا قرارپایا تھا رب السلم یہ کہتا ہے یہ شرط تھی ہی نہیں نہ اچھے کی نہ برے کی یا ایک کہتا ہے ایک ماہ کی میعاد تھی دوسرا کہتا ہے کوئی میعاد ہی نہ تھی تو اس کا قول معتبر ہوگا جو خراب ادا کرنے کی شرط یا میعاد ظاہر کرتا ہے جو منکر ہے اس کا قول معتبر نہیں کہ یہ ایک دم اس ضمن میں سلم کو ہی اڑادینا چاہتا ہے اور اگر میعاد کی کمی بیشی میں اختلاف ہواتو اس کا قول معتبر ہوگا جو کم بتاتا ہے یعنی رب السلم کا کیونکہ یہ مدت کم بتائے گا تاکہ جلد مسلم فیہ کو وصول کرے اور اگر میعادکے گزر جانے میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے گزر گئی دوسرا کہتا ہے باقی ہے تو اس کا قول معتبر ہے جو کہتا ہے ابھی باقی ہے یعنی مسلم الیہ کا اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو گواہ بھی اسی کے معتبر ہیں ۔( ہدایہ ، درمختار)

مسئلہ ۴۸: عقدسلم جس طرح خود کرسکتا ہے وکیل سے بھی کراسکتا ہے یعنی سلم کے لئے کسی کو وکیل بنایا یہ تو وکیل درست ہے اور وکیل کو تمام شرائط کا لحاظ کرنا ہوگا جن پر سلم کا جواز موقوف ہے ۔ اس صورت میں وکیل سے مطالبہ ہوگااور وکیل ہی مطالبہ بھی کرے گا یہی راس المال مجلس عقد میں دے گا اور یہی مسلم فیہ وصول کرے گا۔ا گر وکیل نے موکل کے روپے دیئے ہیں مسلم فیہ وصول کرے موکل کو دیدے اور اپنے روپے دیئے ہیں توموکل سے وصول کرے اور اگر اب تک وصول نہیں ہوئے تو مسلم فیہ پر قبضہ کر کے اسے موکل سے روک سکتا ہے جب تک موکل روپیہ نہ دے یہ چیز نہ دے ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۴۹: وکیل نے اپنے باپ ماں یا بیٹے یا بی بی سے عقد سلم کیا یہ ناجائز ہے ۔( خانیہ )

استصنا ع کے متعلق مسائل

کبھی ایسا ہوتا ہے کاریگر کو فرمائش دے کر چیز بنوائی جاتی ہے اس کو استصنا ع کہتے ہیں اگر اس میں کوئی میعاد مذکور ہواور وہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہوتو وہ سلم ہے۔ تمام وہ شرائط جو بیع سلم میں مذکور ہوئے ان کی مراعات کی جائے یہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کے بنوانے کا چلن اور رواج مسلمانوں میں ہے یا نہیں بلکہ صرف یہ دیکھیں گے کہ اس میں سلم جائز ہے یا نہیں اگر مدت ہی نہ ہویا ایک ماہ سے کم کی مدت ہو تو استصناع ہے اور اس کے جواز کے لئے تعامل ضروری ہے یعنی جس کے بنوانے کا رواج ہے جیسے موزہ۔جوتا۔ ٹوپی وغیرہ اس میں استصناع درست ہے اور جس میں رواج نہ ہو جیسے کپڑا بنوانا۔کتاب چھپوانا اس میں صحیح نہیں ۔( درمختاروغیرہ)

مسئلہ۱: علماء کا اختلاف ہے کہ استصناع کو بیع قرار دیا جائے یا وعدہ جس کو بنوایا جاتا ہے وہ معدوم شے ہے اور معدوم کی بیع نہیں ہوسکتی لہذا وعدہ ہے جب کاریگر بنا کر لاتا ہے اس وقت بطور تعاطی بیع ہوجاتی ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بیع ہے تعامل نے خلاف قیاس اس بیع کو جائز کیا اگر وعدہ ہوتا تو تعامل کی ضرورت نہ ہوتی۔ ہرجگہ استصناع جائز ہوتا ہے ۔ استصناع میں جس چیزپر عقد ہے وہ چیز ہے کاریگر کا عمل معقود علیہ نہیں لہذا اگر دوسرے کی بنائی ہوئی چیز لایا یا عقد سے پہلے بنا چکا تھا وہ لایا اور اس نے لے لی درست ہے اور عمل معقود علیہ ہوتا تو درست نہ ہوتا۔( ہدایہ )

مسئلہ۲: جو چیز فرمائش کی بنائی گئی وہ بنوانے والے کے لئے متعین نہیں جب وہ پسند کرلے تو اس کی ہوگی اور اگر کاریگر نے اس کے دکھانے سے پہلے ہی بیچ ڈالی تو بیع صحیح ہے اور بنوانے والے کے پاس پیش کرنے پر کاریگر کو یہ اختیار نہیں کہ اسے نہ دے دوسرے کو دیدے۔ بنوانے والے کو اختیار ہے کہ لے یا چھوڑ دے۔ عقد کے بعد کاریگر کو یہ اختیار نہیں کہ نہ بنائے۔ عقد ہوجانے کے بعد بنانا لازم ہے ۔( ہدایہ )

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button