شرعی سوالات

بیع سلم میں مدت مقرر  کرنا ضروری ہے جو ایک ماہ سے کم نہ ہو  وگرنہ عقد فاسد ہو گا

سوال:

زید نے عمرو کو کچھ دنوں کے لیے نقدسوروپے قرض دیے مگر اس شرط پر کہ نوے روپے کے بدلے میں روپیہ ہی ملنا چاہیے اور باقی دس روپے کے عوض میں  پانچ من دھان یا کوئی غلہ بعد تیاری ِفصل  دو ماہ خواہ چار بعد  مجھے دینا اور نرخ بھی دو یا تین روپے کے حساب سے طے کرلیے۔یہ صورت بیع وشراء وقرضہ کی عند الشرع جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

روپیہ اسوقت دینا اور مبیع آئندہ کسی وعدہ پر لینا اس کو بیع سلم کہتے ہیں اور بیع سلم کی چند شرطیں ہیں۔ایک شرط یہ بھی  ہے کہ مدت مقرر ہوجو کہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہولہذا یہ کہہ کر دینا کہ چاہے دو مہینہ بعد دینا یا چار مہینے بعد میں دینا یہ مدت کی تعیین نہیں ہے بلکہ اس صورت میں مدت مجہول ہے لہذا بیع سلم صحیح نہ ہوئی بلکہ فاسد ہوئی اور غلہ  کا مستحق نہیں ہوگا بلکہ اپنے روپے واپس لینے کا حقدار ہے اگر مدت معین ہو توفقط ان دس روپوں کا غلہ لے سکتا ہے اس نرخ سے جو وقت عقد سلم طے ہوچکا ہے باقی نوے روپے قرض ہیں کہ ان   کے عوض روپے ہی کا مطالبہ ہوگا اور اگر مدیون غلہ دے اور یہ لینا چاہے تو وقت ادا جو نرخ بازار کا اس حساب سے لینا ہوگا اس سے زائد کا مطالبہ ناجائز ہے۔

(فتاوی امجدیہ،کتاب البیوع،جلد3،صفحہ187،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button