شرعی سوالات

بیسی کی رقم کو کمی بیشی کے ساتھ بیچنا سود ہے

سوال:

 بولی والی کمیٹی کا حکم کیا ہے؟ ایسا کام کرنے والے کی امامت و اذان کا حکم کیا ہے؟  ملخصا

جواب:

روپیہ سونے چاندی کی بیع جب اپنے ہم جنس سے ہو تو نقد دینا اور برابر رکھنا شرط ہے۔ کمی یا زیادتی ہو یا ادھار ہو تو حرام ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں پچھتر ہزار  کی بیسی کو کمی یا زیادتی سے بیچنا حرام ہے اور بیسی ڈالنے والوں کا بھی اپنا دیا ہوا روپیہ پورا واپس نہ ملنا بھی ناجائز ہے۔ اس لئے کہ بیشی کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہر مہینے تھوڑا تھوڑا روپیہ جمع کر کے سب کو قرعہ اندازی کر کے پوری رقم ایک ساتھ مل جائے جو امام و مؤذن اس حرام کاروبار میں شریک ہوتا ہے ، اس کی امامت اور اذان دینا ناجائز ہے۔ اور ناجائز کام میں حمایت کرنے والا بھی اتنا ہی گنہگار ہے جتنا کہ حرام کام کرنے والا۔

(وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 299، بزم وقار الدین، کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button