بہار شریعت

بہار شریعت کتاب کی خصوصیات

بہار شریعت کتاب کی خصوصیات

ایک وہ زمانہ تھا کہ ہر مسلمان اتنا علم رکھتا جو اس کی ضروریات کو کافی ہو بفضلہِ تعالیٰ علماء بکثرت موجود تھے جو نہ معلوم ہوتا ان سے بآسانی دریافت کر لیتے حتیٰ کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خریدوفروخت کریں جو دین میں فقیہہ ہوں۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا پھر جس قدرعہدِ نبوت سے بُعد ہوتا گیا اسی قدر علم کی کمی ہوتی رہی اب وہ زمانہ آگیا کہ عوام تو عوام بہت سے وہ جو علماء کہلاتے ہیں روزمرہ کے ضروری جزئیات حتیٰ کہ فرائض و واجبات سے ناواقف اور جتنا جانتے ہیںا س پر بھی عمل سے منحرف کہ ان کو دیکھ کر عوام کو سیکھنے اور عمل کا موقع ملتا اسی قلّتِ علم و بے پروائی کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے مسائل کا جن سے واقف نہیں انکار کر بیٹھتے ہیں حالانکہ نہ خود علم رکھتے ہیں کہ جان سکیں نہ سیکھنے کا شوق کہ جاننے والوں سے دریافت کریں نہ علماء کی خدمت میں حاضر رہتے کہ ان کی صحبت باعثِ برکت بھی ہے اور مسائل جاننے کا ذریعہ بھی اور اُردو میں کوئی ایسی کتاب کہ سلیس عام فہم قابل اعتماد ہو اب تک شائع نہ ہوئی       بعض میں بہت تھوڑے مسائل کہ روزمرّہ کی ضروری باتیں بھی ان میں کافی طور پر نہیں اور بعض میں اغلاط کی کثرت لاجرم ایک ایسی کتاب کی بے حد ضرورت ہے کہ کم پڑھے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ لہٰذا فقیر بہ نظرِ خیر خواہی مسلمانان اور بمقتضائے الدین النصح لکل مسلم دین ہر مسلمان کو نصیحت کرتا  ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اس امر اہم و اعظم کی طرف متوجہ ہوا۔ حالانکہ میں خوب جانتا ہوں کہ نہ میرا یہ منصب نہ میں اس کام کے لائق نہ اتنی فرصت کہ پورا وقت صرف کرکے اس کا م کو انجام دوں۔

                          وحسنا اللہ و نعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم       (اللہ ہم کو کافی ہے اور کوئی طاقت اور قوت نہیں مگر اللہ بزرگ و برتر ہے)

متعلقہ مضامین

 (۱)                   اس کتاب میں حتی الوسیع یہ کوشش ہو گی کہ عبارت بہت آسان ہو کہ سمجھنے میں وقت نہ ہو اور کم علم اور عورتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ پھر بھی علم بہت مشکل چیز ہے یہ ممکن نہیں کہ علمی دشواریاں بالکل جائیں رہیں ضرور بہت مواقع ایسے بھی ہوں گے کہ اہلَ علم سے سمجھنے کی حاجت ہوگی کم از کم اتنا نفع ضرور ہو گا کہ اس کا بیان انہیں متنبہ کرے گا اور نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رجوع کی توجہ دلائے گا۔

 (۲)                   اس کتاب میں مسائل کی دلیلیں نہ لکھی جائیں گی کہ اوّل تو دلیلوںکا سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں دوسرے دلیلوں کی وجہ سے اکثر الجھن پڑ جاتی ہے کہ نفس مسئلہ سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے لہٰذا ہر مسئلے میں خالص منقع حکم بیان کر دیا جائے گا اور اگر کسی صاحب کو دلائل کا شوق ہو تو فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ کریں کہ اس میں ہر مسئلہ کی ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کی نظیر آج دنیا میں موجود نہیں اور اس میں ہزار ہا ایسے مسائل ملیں گے جن سے علماء کے کان بھی آشنا نہیں۔

 (۳)                  اس کتاب میں حتی الوسع اختلافات کا بیان نہ ہوگا کہ عوام کے سامنے جب دو مختلف باتیں پیش ہوں تو ذہن متحیر ہو گا کہ عمل کس پر کریں اور بہت سے خواہش کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جس میں اپنا فائدہ دیکھتے ہین اسے اختیار کر لیتے ہیں یہ سمجھ کر نہیں کہ یہی حق ہے بلکہ یہ خیال کر کے کہ اس میں اپنا مطلب حاصل ہو تا ہے پھر جب کبھی دوسرے میں اپنا فائدہ دیکھا تو اسے اختیار کر لیا اور یہ ناجائز ہے کہ اتباع شریعت نہیں بلکہ اتباع نفس ہے لہٰذا ہر مسئلے میں مفتیٰ بہ صحیح اصح راجح قول بیان کیا جائے گا کہ بلا دِقت ہر شخص عمل کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے اور مسلمانوں کی اس سے فائدہ پہنچائے اور اس بے بضاعت کی کوشش قبول فرمائے۔ (اٰمین)

                         وما توفیقی الا باللّٰہ علیہ توکلت والیہ انیب و صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ حبیبہ المختار والہ الاطھار و صحبہ المھاجرین والانصار۔ وخلفائہ الاختان منھم والامھار۔ والحمد للّٰہ العزیز الغفار۔ وھا انا اشرع فی لمقصود بتوفیق الملک المعبود۔

                        (اور میری توفیق نہیں مگر ساتھ اللہ کے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع لاتا ہوں اور درُود نازل ہو اللہ کا اس کے پسندیدہ محبوب پر اور ان کی پاکیزہ آل پر اور ان کے اصحابہ و مہاجرین و انصار پر اور ان کے خلفاء دامادوں اور خسروں پر ۔ حمد ہے اللہ کی جو عزیز اور گناہ معاف کرنے والا ہے ۔ اور اب میں مقصد کو شروع کرتا ہوں بادشاہ معبود کی توفیق سے)۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button