ARTICLES

بھیڑ کے خوف سے خواتین کی طرف سے رمی کا حکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے ساتھ گئی تین خواتین کی طرف سے رمی کی اور اس کا کہنا ہے کہ میں بھیڑ کے خوف سے ان خواتین کو اس کے لیے نہیں لے گیااور ایسا اس نے تین روز کیا تو اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

(سائل : ایک حاجی ،العزیزیہ، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : ۔ صورت مسؤلہ میں خواتین میں سے ہر ایک پردم لازم ہوگاکیونکہ تمام دنوں کی رمی واجبات حج سے ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993 ھ واجبات حج میں لکھتے ہیں :

ورمی الجمار۔(53)

یعنی،(واجبات حج میں سے )جمروں کی رمی کرنا ہے ۔ علامہ ملاعلی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(ورمی الجمار فی ایامہ)ای : ا یام رمیھا من الایام الثلاثۃ۔(54)

یعنی،جمروں کی رمی کرنااس کے ایام میں (واجب ہے )میری مراد جمروں کی رمی کے ایام تین دن ہیں ۔ صدر الشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : تینوں جمروں پر دسویں ، گیارہویں ، بارہویں تینوں دن کنکریاں مارنا یعنی دسویں کو صرف جمرہ العقبہ پر اور گیارہویں بارھویں کو تینوں پر رمی کرنا۔ (55) اور رمی کے حکم میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملا علی بن سلطان قاری حنفی لکھتے ہیں :

(والرجل والمراۃ فی الرمی سواء) الا ان رمیھا فی اللیل افضل،وفیہ ایماء الی انہ لا تجوز النیابۃ عن المراۃ بغیر عذرٍ۔(56)

یعنی، مرداور عورت رمی(حکم میں )میں برابر ہیں مگر یہ کہ عورت کی رمی رات میں افضل ہے اوراس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بلاعذر شرعی عورت کی طرف سے نائب بن کر رمی جائز نہیں ہے ۔ اور ایک بات ذہن نشین رہے کہ چند اعذار ایسے بھی ہیں کہ جن کے پائے جانے کی صورت میں حاجی پر بذات خودرمی کرنا ساقط ہوجائے گالیکن اب اسے چاہیے کہ وہ دوسرے کو اپنا نائب بنا دے ۔مثلا کوئی شخص اس حد تک بیمار ہے کہ اسے رمی کرنے پر قدرت حاصل نہیں توایسے مریض کی جانب سے کوئی شخص بطور نائب رمی کرسکتا ہے جبکہ اس کی اجازت حاصل ہو۔یونہی کوئی شخص بے ہوش ہے یا ایسا بچہ ہے کہ جو تمیز رکھنے والا نہیں یعنی ناسمجھ ہے یاکوئی مجنون ہے تو ان کی اجازت کے بغیر بھی ان کے ساتھ والے ان کی طرف سے رمی کرسکتے ہیں ۔لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کے ہاتھ پرکنکری رکھ کر رمی کروائیں ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

(الخامس ان یرمی بنفسہ فلا تجوز النیابۃ عند القدرۃ وتجوز عند العذر فلو رمی عن مریض) ای لا یستطیع الرمی (بامرہ او مغمی علیہ ،ولو بغیر امرہ او صبی)غیر ممیز(او مجنون جاز)،والافضل ان توضع الحصی فی اکفہم فیرمونھا)ای رفقاوھم۔(57)

یعنی،پانچویں شرط یہ ہے کہ وہ اپنی رمی خودکرے پس قدرت کے وقت نیابت جائز نہیں اور عذر کے وقت نیابت جائز ہوتی ہے پس اگر کسی نے ایسے مریض کی جانب سے اس کے حکم سے رمی کی جو رمی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو یا بے ہوش شخص کی طرف سے اگر چہ اس کے حکم کے بغیر کرے یا ناسمجھ بچے یامجنون کی طرف سے رمی کرے تو یہ جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ کنکریاں ان کی ہتھیلی میں رکھی جائیں پھر ان کے ساتھی ان کی رمی کریں ۔ صدر الشریعہ
محمدامجدعلی اعظمی حنفی لکھتے ہیں : جو شخص مریض ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جا سکتا ہو، وہ دوسرے کو حکم کر دے کہ اس کی طرف سے رمی کرے اور اس کو چاہیے کہ پہلے اپنی طرف سے سات کنکریاں مارنے کے بعد مریض کی طرف سے رمی کرے یعنی جب کہ خود رمی نہ کرچکا ہو اور اگر یوں کیا کہ ایک کنکری اپنی طرف سے ماری پھر ایک مریض کی طرف سے ، یوہیں سات بار کیا تو مکروہ ہے اور مریض کے بغیر حکم رمی کردی تو جائز نہ ہوئی اور اگر مریض میں اتنی طاقت نہیں کہ رمی کرے تو بہتر یہ کہ اس کا ساتھی اس کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رمی کرائے ۔ یوہیں بیہوش یا مجنون یا نا سمجھ کی طرف سے اس کے ساتھ والے رمی کر دیں اور بہتر یہ کہ ان کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رمی کرائیں ۔(58) لہٰذا سوال میں ذکر کردہ خواتین میں کسی ایک کی بھی رمی نہ ہوئی کیونکہ بھیڑ کا خوف ہونا عورتوں کے حق میں جو ازنیابت کے لیے عذرنہیں ہے ۔تو جب ان کا بذات خود رمی کرناان کے حق میں ساقط نہ ہواتو مطلب یہ ہوا کہ عذر نہ پایا گیا تو جب عذر متحقق نہ ہوا تو تینوں خواتین میں سے ہر ایک پر دم کی ادائیگی کرنا لازم ہوگاکیونکہ ان خواتین سے تینوں دن کی مکمل رمی ترک ہوچکی ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

ولو ترک رمی الایام کلھا فعلیہ دم واحد۔(59)

اورعلامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اور علماء ہند کی جماعت نے لکھا ہے :

ولو ترک الجمار کلہا او رمی واحدۃً او جمرۃ العقبۃ یوم النحر فعلیہ شاۃ۔(60)

یعنی،اگرکسی نے تمام جمروں کی رمی ترک کی یا صرف ایک جمرہ پررمی کرے یایوم نحر کوصرف جمرہ عقبہ پررمی ترک کرے تو اس پر بکری ذبح کرنا لازم ہے ۔ صدر الشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی لکھتے ہیں : اگر بالکل رمی نہ کی جب بھی ایک ہی دم واجب ہوگا۔(61)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الثلاثاء،14ذوالحجۃ 1439ھ۔25اغسطس2018م FU-35

حوالہ جات

(53) لباب المناسک و عباب المسالک، باب فرائض الحج۔۔۔۔۔الخ ،فصل فی واجباتہ ، ص71

(54) بدایۃ السالک فی نھایۃ المسالک فی ضمن مجموع رسائل العلامۃ الملا علی القاری ،الباب الثانی : فی الواجبات، 3/464

(55) بہارشریعت،حج کا بیان،حج کے واجبات ،1/1048

(56) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب مناسک منی ، فصل فی احکام الرمی وشرائطہ وواجباتہ ،ص351

(57) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط، باب مناسک منی ، فصل فی احکام الرمی وشرائطہ وواجباتہ ،ص349

(58) بہارشریعت،حج کا بیان،منی کے اعمال اور حج کے بقیہ افعال،باقی دنوں کی رمی،1/1148

(59) لباب المناسک و عباب المسالک، باب الجنایات۔۔۔۔۔الخ ،فصل فی الجنایۃ فی رمی الجمار، ص221

(60) الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب الثامن فی الجنایات،الفصل الخامس فی الطواف۔۔۔۔۔الخ، 1/247

(61) بہارشریعت،حج کا بیان،منی کے اعمال اور حج کے بقیہ افعال،باقی دنوں کی رمی،1/1147)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button