بہار شریعت

بچہ کی پرورش کے متعلق مسائل

بچہ کی پرورش کے متعلق مسائل

حدیث ا: امام احمد و ابوداود عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ ایک عورت نے حضور ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرا یہ لڑکا ہے میرا پیٹ اس کے لیئے ظرف تھا اور میرے پستان اس کے لیئے مشک اورمیری گوداس کی محافظ تھی اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دیدی اور اب اسکو مجھ سے چھیننا چاہتا ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تو زیا دہ حقدار ہے جب تک تو نکاح نہ کرے ۔

حدیث ۲: صحیحین میں برائن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ صلح حدیبیہ کے بعد دوسرے سال میں جب حضور اقدس ﷺ عمرۂ قضا سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی پیچھے ہو لیں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انھیں لے لیا اور ہاتھ پکڑ لیا پھر حضرت علی و زید بن حارثہ و جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہم میں ہر ایک نے اپنے پاس رکھنا چاہا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں نے ہی اسے لیا اور میرے چچا کی لڑکی ہے اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میرے چچا کی لڑکی ہے اور اس کی خالہ میری بی بی ہے اور حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میرے ( رضاعی ) بھائی کی لڑکی ہے حضور اقدس ﷺ نے لڑکی خالہ کو دلوائی اور فرمایا کہ خالہ بمنزلہ ماں کے ہے اور حضرت علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے اور حضرت جعفر سے فرمایا کہ تم میری صورت اور سیرت میں مشابہ ہواور حضرت زید سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولی ہو۔

سائل فقہیہ

مسئلہ۱: بچہ کی پر ورش کا حق ماں کے لئے ہے خواہ وہ نکاح میں ہو یا نکاح سے باہر ہوگئی ہو ہاں اگر وہ مرتدہ ہوگئی تو پرورش نہیں کرسکتی یا کسی فسق میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے بچہ کی تربیت میں فرق آئے مثلاًزانیہ یا چور یا نوحہ کرنے والی ہے تو اس کی پرورش میں نہ دیا جائے بلکہ بعض فقہانے فرمایا اگر وہ نماز کی پابندنہیں تو اسکی پر ورش میں بھی نہ دیا جائے مگر اصح یہ ہے کہ اس کی پرورش میں اس وقت تک رہے گا کہ نا سمجھ ہو جب کچھ سمجھنے لگے تو علیحدہ کر لیں کہ بچہ ماں کو دیکھ کر وہی عادت اختیار کریگا جو اس کی ہے یونہی ماں کی پرورش میں اسوقت بھی نہ دیاجائے جبکہ بکثرت بچہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر چلی جاتی ہو اگر چہ اسکا جانا کسی گناہ کے لیئے نہ ہو مثلاًوہ عورت مردے نہلاتی ہے یا جنائی ہے یا اور کوئی ایسا کام کرتی ہے جس کی وجہ سے اسے اکثر گھر سے باہر جانا پڑتا ہے یاوہ عورت کنیزیا ام ولدیا مدبرہ ہو یا مکاتبہ ہو جس سے قبل عقد کتابت بچہ پیدا ہوا جبکہ وہ بچہ آزادہو اور اگر آزاد نہ ہو تو حق پرورش مولی کے لئے ہے کہ اس کی ملک ہے مگر اپنی ماں سے جدا نہ کیا جائے ۔ ( عالمگیری ‘درمختار‘ ردالمحتار وغیرہا)

مسئلہ۲: اگر بچہ کی ماں نے بچہ کے غیر محرم سے نکاح کر لیا تو اسے پرورش کاحق نہ رہا اور اس کے محرم سے نکاح کیا تو حق پر ورش باطل نہ ہوا ۔ غیر محرم سے مراد وہ شخص ہے کہ نسب کی جہت سے بچہ کیلئے محرم نہ ہو اگرچہ رضاع کی جہت سے محرم ہو جیسے اس کی ماں نے اس کے رضاعی چچا سے شادی کرلی تو اب ماں کی پرورش میں نہ رہے گا اگر چہ رضاع کے لحاظ سے بچہ کا چچا ہے مگر نسباً اجنبی ہے او ر نسبی چچا سے نکاح کیا تو باطل نہیں ۔( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۳: ماں اگر مفت پرورش کرنا نہیں چاہتی اور باپ اجرت دے سکتا ہے تو اجرت دے اور تنگ دست ہے تو ماں کے بعد جن کو حق پرورش ہے اگر ان میں کوئی مفت پرورش کرے تو اس کی پرورش میں دیاجائے بشرطیکہ بچہ کے غیر محرم سے اس نے نکاح نہ کیا ہو اور ماں سے کہ دیا جائے کہ یامفت پرورش کر یا بچہ فلاں کو دیدے مگر ماں اگر بچہ کو دیکھنا چاہے یا اس کی دیکھ بھال کرنا چاہے تو منع نہیں کر سکتے ۔اور اگر کوئی دوسری عورت ایسی نہ ہوجس کو حق پرورش ہے مگر کوئی اجنبی شخص یا رشۃ دار مرد مفت پرورش کرنا چاہتا ہے تو ماں ہی کو دیں گے اگر چہ اس نے اجنبی سے نکاح کیا ہواگرچہ اجرت مانگی ہو۔( درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۴: جس کے لئے حق پرودرش ہے اگر وہ انکار کرے اور کوئی دوسری نہ ہو جو پرورش کرے تو پرورش کرنے پر مجبور کی جائے گی یونہی اگر بچہ کی ماں دودھ پلانے سے انکار کرے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہ لیتا ہو یا مفت کوئی دودھ نہیں پلاتی اور بچہ اس کے باپ کے پاس نہیں تو ماں دودھ پلانے پر مجبور کی جائے گی۔( ردالمحتار)

مسئلہ۵: ماں کی پر ورش میں بچہ ہواور وہ اس کے باپ کے نکاح یا عدت میں ہو تو پرورش کا معاوضہ نہیں پائے گی ورنہ اسکا بھی حق لے سکتی ہے اور دودھ پلانے کی اجرت او ر بچہ کا نفقہ بھی اور اگر اس کے پاس رہنے کا مکان نہ ہو تو یہ بھی اور بچہ کو خادم کی ضرورت ہو تو یہ بھی اور یہ سب اخراجات اگر بچہ کا مال ہو تو اس سے دیئے جائیں ورنہ جس پر بچہ کا نفقہ ہے اسی کے ذمہ یہ سب بھی ہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۶: ماں نے اگر پرورش سے انکار کر دیا پھر یہ چاہتی ہے کہ پرورش کرے تو رجوع کر سکتی ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۷: ماں اگر نہ ہو یا پرورش کی اہل نہ ہو یا انکار کر دیا یا اجنبی سے نکاح کیا تو اب حق پرورش نانی کے لئے ہے یہ بھی نہ ہو تو نانی کی ماں اس کے بعد دادی پر دادی بشرائط مذکورٔہ بالا پھر حقیقی بہن پھر اخیافی بہن پھر سوتیلی بہن پھر حقیقی بہن کی بیٹی پھر اخیانی بہن کی بیٹی پھر خالہ یعنی ماں کی حقیقی بہن پھر اخیافی پھر سوتیلی پھر سوتیلی بہن کی بیٹی پھر حقیقی بھتیجی پھر اخیافی بھائی کی بیٹی پھر سوتیلے بھائی کی بیٹی پھر اسی ترتیب سے پھوپیاں پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ پھر ماں کی پھوپیاں پھر باپ کی پھوپیاں اور ان سب میں وہی ترتیب ملحوظ ہے کہ حقیقی پھر اخیافی پھر سوتیلی ۔اور اگر کوئی عورت پر ورش کرنے والی نہ ہو یا ہو مگر اسکا حق ساقط ہو تو عصبات بہ ترتیب ارث یعنی باپ پھر دادا پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا پھر بھتیجے پھر چچا پھر اس کے بیٹے مگر لڑکی کو چچا زاد بھائی کی پرورش میں نہ دیں خصوصاً جبکہ مشتہاۃ ہوا ور اگر عصبات بھی نہ ہوں تو ذوی الارحام کی پرورش میں دیں مثلاً اخیافی بھائی پھر اسکا بیٹا پھر ماں کا چچا پھر حقیقی ماموں ۔ چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ کی بیٹیوں کو لڑکے کی پرورش کاحق نہیں ۔( درمختار ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۸: اگر چند شخص ایک درجہ کے ہوں تو ان میں جو زیادہ بہتر ہو پھر وہ کہ زیادہ پر ہیزگار ہو پھر وہ کہ ان میں بڑا ہو حقدار ہے ۔( عالمگیری درمختار)

مسئلہ۹: بچے کی ماں اگر ایسے مکان میں رہتی ہے کہ گھر والے بچہ سے بغض رکھتے ہیں تو باپ اپنے بچہ کو اس سے لے لیگا یا عورت وہ مکان چھوڑدے اور اگر ماں نے بچہ کے کسی رشتہ دار سے نکاح کیا مگر وہ محرم نہیں جب بھی حق ساقط ہو جائیگا مثلاًاس کے چچازاد بھائی سے ہاں اگر ماں کے بعد اسی چچا کے لڑکے کا حق ہے یا بچہ لڑکا ہے تو ساقط نہ ہوگا ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۱۰: اجنبی کے ساتھ نکاح کرنے سے حق پرورش ساقط ہوگیا تھا پھر اس نے طلاق بائن دیدی یا رجعی دی مگر عدت پوری ہوگئی تو حق پر ورش عود کر آئیگا ۔( ہدایہ وغیرہا)

مسئلہ۱۱: پاگل اور بوہرے کو حق پرورش حاصل نہیں اور اچھے ہوگئے تو حق حاصل ہو جائیگا یوہیں مرتد تھا اب مسلمان ہو گیا تو پرورش کا حق اسے ملے گا ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۱۲: بچہ نانی یا دادی کے پاس ہے اور وہ خیانت کرتی ہے تو پھوپی کو اختیار ہے کہ اس سے لے لے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۳: بچہ کا باپ کہتا ہے کہ اس کی ماں نے کسی سے نکاح کر لیا اور ماں انکار کرتی ہے تو ماں کا قول معتبر ہے اور اگر یہ کہتی ہے کہ نکاح تو کیا تھا مگر اس نے طلاق دیدی اور میراحق عود کر آیا تو اگر اتنا ہی کہا اور یہ نہ بتایاکہ کس سے نکاح کیا جب بھی ماں کا قول معتبر ہے اور اگر یہ بھی بتایا کہ فلاں سے نکاح کیا تھا تو اب جب تک وہ شخص طلاق کااقرار نہ کرے محض اس عورت کا کہنا کافی نہیں ۔(خانیہ)

مسئلہ۱۴: جس عورت کے لیئے حق پرورش ہے اس کے پاس لڑکے کو اس وقت تک رہنے دیں کہ اب اسے اس کی حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا پہنتا استنجا کرلیتا ہواس کی مقدار سات برس کی عمر ہے۔ اور اگر عمر میں اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اس کے پاس سے علیحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں ۔اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اس کے حوالے کیا جائے ۔اور لڑکی اس وقت تک عورت کی پرورش میں رہے گی کہ حد شہوت کو پہنچ جائے اس کی مقدار نو برس کی عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں لڑکی کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اسی کی پرورش میں رہے گی جس کی پرورش میں ہے نکاح کردینے سے حق پرورش باطل نہ ہو گا جب تک مرد کے قابل نہ ہو ۔( خانیہ بحر وغیرہما)

مسئلہ ۱۵: سات برس کی عمر سے بلوغ تک لڑکاک اپنے باپ یا دادا یا کسی اور ولی کے پاس رہے گا پھر جب بالغ ہوگیا اور سمجھ دارہے کہ فتنہ یا بدنامی کا اندیشہ نہ ہوا ور تا دیب کی ضرورت نہ ہو تو جہاں چاہے وہاں رہے اور اگر ان باتوں کا اندیشہ ہواور تا دیب کی ضرورت ہو تو باپ دادا وغیرہ کے پاس رہے گا خود مختار نہ ہوگامگربالغ ہونے کے بعد باپ پر نفقہ واجب نہیں اب اگر اخراجات کا متکفل ہو تو تبرع واحسان ہے ۔( عالمگیری ‘ درمختار) یہ حکم فقہی ہے مگر نظر بحال زمانہ خود مختار نہ رکھا جائے جب تک چال چلن اچھی طرح درست نہ ہو لیں اور پورا وثوق نہ ہولے کہ اب اس کی وجہ سے فتنہ و عار نہ ہوگا کہ آج کل اکثر صحبتیں مخرب اخلاق ہوتی ہیں اور نو عمری میں فساد بہت جلد سرایت کرتا ہے ۔

مسئلہ۱۶: لڑکی نو برس کے بعد سے جب تک کنو اری ہے باپ دادا بھائی وغیرہم کے یہاں رہے گی مگر جبکہ عمر رسیدہ ہو جائے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے جہاں چاہے رہے اور لڑکی ثیب ہے مثلاً بیوہ ہے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے ۔ ورنہ باپ دادا وغیرہ کے یہاں رہے اور یہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ چچا کے بیٹے کو لڑکی کے لئے حق پرورش نہیں یہی حکم اب بھی ہے کہ وہ محرم نہیں بلکہ ضرور ہے کہ محرم کے پاس رہے اور محرم نہ ہو تو کسی ثقہ امانت دار عورت کے پاس رہے جو اس کی عفت کی حفاظت کرسکے اور اگر لڑکی ایسی ہو کہ فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اختیار ہے ۔( درمختار‘ ردالمحتار‘ عالمگیری)

مسئلہ۱۷: لڑکا بالغ نہ ہوا مگر کام کے قابل ہوگیا ہے تو باپ اسے کسی کام میں لگادے جو کام سیکھانا چاہے اس کے جاننے والوں کے پاس بھیجدے کہ ان سے کا م سیکھے نوکری یا مزدوری کے قابل ہو اور باپ اس سے نوکری یا مزدوری کرانا چاہے تو نوکری یا مزدوری کرائے اور جو کمائے اس پر صرف کرے اور بچ رہے تو اس کے لئے جمع کرتا رہے اور اگر باپ جانتا ہے کہ میرے پاس خرچ ہوجائے گا تو کسی اور کے پاس امانت رکھدے ۔(درمختار) مگر سب سے مقدم یہ ہے کہ بچوں کو قرآ ن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں روزہ نماز و طہارت اور بیع واجارہ و دیگر معاملات کے مسائل جن کی روز مرہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلاف شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہوتے ہیں ا ن کی تعلیم ہو اگر دیکھیں کہ بچہ کو علم کی طرف رجحان ہے اور سمجھ دار ہے تو علم دین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تصحیح و تعلیم عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد جس جائز کام میں لگائیں اختیار ہے ۔

مسئلہ۱۸: لڑکی کو بھی عقائد و ضروری مسائل سکھانے کے بعد کسی عورت سے سلائی اور نقش و نگار وغیرہ ایسے کام سکھائیں جن کی عورتوں کو اکثر ضرورت پڑتی ہے اور کھانا پکانے اور دیگر امور خانہ داری میں اسکو سلیقہ ہونے کی کوشش کریں کہ سلیقہ والی عورت جس خوبی سے زندگی بسر کرسکتی ہے بدسلیقہ نہیں کرسکتی ۔

مسئلہ۱۹: لڑکی کو نوکر نہ رکھائیں کہ جس کے پاس نوکر رہے گی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ مرد کے پاس تنہا رہے اور یہ بڑ ے عیب کی بات ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۰: زمانۂ پرورش میں باپ یہ چاہتا ہے کہ عورت سے بچہ لے کر کہیں دوسری جگہ چلا جائے تو اس کو یہ اختیار حاصل نہیں اور اگر عورت چاہتی ہے کہ بچہ کولے کر دوسرے شہر کو چلی جائے اور دونوں شہروں میں اتنا فاصلہ ہے کہ باپ اگر بچہ کو دیکھنا چاہے تو دیکھ کر رات آنے سے پہلے واپس آسکتا ہے تو لیجا سکتی ہے اور اس سے زیادہ فاصلہ ہے تو خود بھی نہیں جاسکتی۔ یہی حکم ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں یا گاؤں سے شہر میں جانے کا ہے کہ قریب ہے توجائز ہے ورنہ نہیں ۔اور شہر سے گاؤں میں بغیر اجازت نہیں لیجا سکتی ہاں اگر جہاں جانا چاہتی ہے وہاں ا س کا میکاہے اور وہیں اس کا نکاح ہوا ہے تو لیجاسکتی ہے اور اگر اس کا میکا ہے مگر وہاں نکاح نہیں ہوا بلکہ نکاح کہیں اور ہوا ہے تو نہ میکے لے جاسکتی ہے نہ وہاں جہاں نکاح ہوا ۔ماں کے علاوہ کوئی اور پرورش کرنے والی لے جانا چاہتی ہو تو باپ کی اجازت سے لے جاسکتی ہے ۔مسلمان یا ذمی عورت بچہ کو دارالحرب میں مطلقاًنہیں لیجاسکتی اگر چہ وہیں نکاح ہوا ہو ۔( درمختار‘ ردالمحتار‘ عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ۲۱: عورت کو طلاق دیدی اس نے کسی اجنبی سے نکاح کرلیا تو باپ بچہ کو اس سے لے کر سفر میں لے جاسکتا ہے جبکہ کوئی اور پرورش کا حقدار نہ ہو ورنہ نہیں ۔(درمختار)

مسئلہ۲۲: جب پرورش کازمانہ پورا ہوچکا اور بچہ باپ کے پاس آگیا تو باپ پر یہ واجب نہیں کہ بچہ کو اس کی ماں کے پاس بھیجے نہ پرورش کے زمانہ میں ماں پر باپ کے پاس بھیجنا لازم تھا ہاں اگر ایک کے پاس ہے اور دوسرااسے دیکھنا چاہتا ہے تودیکھنے سے منع نہیں کیا جاسکتا ۔( درمختار)

مسئلہ۲۳: عورت بچہ کو گہوارے میں لٹا کر باہر چلی گئی گہوارہ گرا اور بچہ مر گیا تو عورت پر تا وان نہیں کہ اس نے خود ضائع نہیں کیا ۔( خانیہ)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button