شرعی سوالات

بلا ضرورت شرعیہ سود پر روپیہ یا غلہ لینا حرام ہے

سوال:

کسی شخص  نے سود  پر روپیہ یا غلہ لیا پھر ادا کرتے وقت اصل دیا اور سود نہ دیا تو اس پر مواخذہ شرعی ہے یا نہیں؟

جواب:

اگر بلا ضرورت شرعیہ سود پر روپیہ یا غلہ لیا تو یہ عقد ربا بہرحال حرام ہے  اور سود دیا تو یہ دوسرا حرام ہوا۔اگر ادا کرتے وقت سود نہ دیا ،جب بھی  انشاء عقد حرام کا گناہ تو اس کے ذمے رہا اس سے توبہ کرے۔

(فتاوی امجدیہ، کتاب الرباء ،جلد3،صفحہ 209،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

سوال :

اس زمانہ میں جو لوگ سرکاری قرض مجبوراً لیتے ہیں اس قرض کا سود بھرنے (دینے)  میں کوئی گناہ تو نہیں ۔

جواب:

            مجبوری کی صورت میں سود پر قرض لیا جا سکتا ہے۔ لیکن آج کل عام لوگوں نے جس چیز کا نام مجبوری رکھ چھوڑا ہے وہ شرعا مجبوری نہیں ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ نے کھاتا پیتا بنایا ہے آپ تجارت کے لیے سودی قرضہ لے رہے ہیں یہ  ضرورت شرعیہ نہیں ہے                  (فتاوی بحر العلوم، جلد4، صفحہ63، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button