شرعی سوالات

بلا ضرورت شدیدہ خالص کفار کو بھی سودی قرض پر نفع دینا منع ہے ۔

سوال:

دکان یا مکان کے لیے بینک سے قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب :

بینک اگر مسلمان کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے تو ایسے بینک سے سود دینے کی شرط پر قرض لینا حرام ہے اور سود دینے والا بھی سود لینے والے کی مثل گنہگار ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ ولہ وسلم نے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔  اور اگر بینک یہاں کے خالص کافروں کا ہے تو اگرچہ ایسے بینک سے زائد رقم دینے کی شرط پر دوکان وغیرہ کے لیے روپیہ لانا شرعا سود نہیں کہ یہاں کے کفار حربی ہیں اور مسلمان اور حربی کے درمیان سود نہیں  مگر ایسے بینک سے بھی بلا ضرورت شدیدہ قرض لانا اور انھیں نفع دینا منع ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button