ARTICLES

بلا احرام میقات سے گزرنے والے پر سے دم کیسے ساقط ہوگا؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص بلا احرام میقات سے تجاوز کر جائے تو کیاایسی کوئی صورت ہے کہ جس کے سبب سے لازم انے والا دم ساقط ہوجائے ؟

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجوابـ : ۔ صورت مسؤلہ میں اگر ایساشخص مواقیت میں سے کسی میقات کی طرف لوٹ کر وہاں احرام باندھ لیتا ہے تو ایسی صورت میں اس پر لازم انے والا دم با لاجماع ساقط ہوجائے گا۔ چنانچہ قاضی ومفتی مکہ مکرمہ امام ابو البقاء محمد بن احمد بن محمد بن الضیاء مکی حنفی متوفی : 54 8ھ لکھتے ہیں :

ولو جاوز المیقات ولم یحرم حتی عاد واحرم منہ سقط عنہ الدم بالاجماع ۔(41)

یعنی،اگر کسی نے بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کیا یہاں تک کہ وہ لوٹا اور اس نے میقات سے احرام باندھ لیا تو بالاجماع اس سے دم ساقط ہوگیا۔ اورعلامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ اور ملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(من جاوز وقتہ غیر محرم) ای میقاتہ الذی وصل الیہ سواء کان میقاتہ الموضع المعین لہ شرعا ام لا( ثم احرم)ای بعد المجاوزۃ( او لا)ای لم یحرم بعدھا( فعلیہ العود)ای فیجب علیہ الرجوع(الی وقت)ای الی میقات من المواقیت (وان لم یعد)ای مطلقا( فعلیہ دم)ای لمجاوزۃ الوقت۔(42)

یعنی،جس نے اپنی میقات سے بلا احرام تجاوز کیا یعنی اس میقات سے کہ جس کی طرف پہنچاتو برابر ہے کہ اس کی میقات اس کے لیے شرعی اعتبار سے معین جگہ ہویا نہ ہو،پھر اس نے تجاوز کرنے کے بعد احرام باندھا یا نہ باندھا(دونوں صورتوں میں )اس پر مواقیت میں کسی ایک میقات کی طرف لوٹنا واجب ہوگا اور اگروہ مطلقًانہ لوٹے تواس پر میقات کو تجاوز کرنے کے سبب سے دم لازم ہوگا۔ اور یہ بات واضح رہے کہ اگرکوئی افاقی بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حج اور عمرہ کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو تب بھی اس پر مکہ میں داخل ہونے کی وجہ سے حج اور عمرہ کرنا لازم ہوگا ۔ چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اور علمائے ہند کی جماعت نے لکھا :

اذا دخل الافاقی مکۃ بغیر احرامٍ وہو لا یرید الحج والعمرۃ فعلیہ لدخول مکۃ اما حجۃ او عمرۃ ۔(43)

یعنی، افاقی جب مکہ مکرمہ اس حال میں داخل ہوا کہ اس کا حج یا عمرہ کاکوئی ارادہ نہیں تھاتواس پر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی وجہ سے حج یاعمرہ لازم ہے ۔ اوراگرکوئی شخص بغیر احرام کے میقات کوتجاوز کرتے وقت عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا تو یہ دو حال سے خالی نہ ہوگا یا تو اس نے میقات کے اندر اکر باندھا ہوگا یا پھر میقات کی طرف لوٹ کر احرام باندھا ہوگا پس اگر وہ میقات کی طرف لوٹا ہے تو یہ بھی دو حال سے خالی نہ ہوگا یاتو وہ حالت احرام ہی میں لوٹا ہوگا یا نہیں پہلی صورت میں امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک اگر وہ میقات پر لبیک کہہ لیتا ہے تو دم ساقط ہوجائے گااوراگر وہ میقات کے اندر احرام باندھ کر میقات کو لوٹتا ہے اوروہاں لبیک نہیں کہتا تو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم ساقط نہ ہوگا لیکن صاحبین(امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) کے نزدیک دونوں صورتوں میں (یعنی لبیک کہا ہو یا نہیں )لازم انے والا دم ساقط ہوجائے گا۔ چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اور علمائے ہند کی جماعت نے لکھا ہے :

ومن جاوز المیقات وہو یرید الحج والعمرۃ غیر محرمٍ فلا یخلو اما ان یکون احرم داخل المیقات او عاد الی المیقات ثم احرم فان احرم داخل المیقات ینظر ان خاف فوت الحج متی عاد فانہ لایعود ویمضی فی احرامہ ولزمہ دم، وان کان لا یخاف فوات الحج فانہ یعود الی الوقت واذا عاد الی الوقت فلا یخلو اما ان یکون حلالا او محرمًا فان عاد حلالًا ثم احرم؛ سقط عنہ الدم وان عاد الی الوقت محرمًا قال ابو حنیفۃ- رحمہ اللہ تعالی ان لبی سقط عنہ الدم وان لم یلب لا یسقط وعندہما یسقط فی الوجہین۔(44)

یعنی،جو میقات بغیراحرام کے اس حال میں تجاوز کرے کہ وہ حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتا ہوتو یہ(دو حال سے )خالی نہ ہوگا یا تو اس نے میقات کے اندر احرام باندھا ہوگا یا پھرمیقات کی طرف لوٹ کر احرام باندھا ہوگاپس اگر اس نے میقات کے اندر احرام باندھا ہے تو دیکھاجائے گا اگر اسے لوٹنے پر حج کے فوت ہونے کا خوف ہوتو وہ نہ لوٹے اور اسی احرام میں ارکان کی ادائیگی کرے اور اسے دم لازم ہوگااور اگر اسے حج کے فوت ہونے کا خوف نہ ہو تو وہ میقات کی طرف لوٹے اور جب وہ میقات کی طرف لوٹ جائے گا تو وہ (دوحال سے )خالی نہ ہوگایا تو غیر محرم ہوگا یا محرم تو اگر وہ بغیر احرام کے لوٹ کرپھر احرام باندھے تو اس سے دم ساقط ہوجائے اور اگر وہ میقات کی طرف حالت احرام میں لوٹاہے تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر اس نے (میقات پر) لبیک کہہ لیا تو اس سے دم ساقط ہوجائے گااور اگر لبیک نہیں کہا تو دم ساقط نہ ہوگااور صاحبین(امام ابویوسف اورامام محمدعلیہما الرحمہ) کے نزدیک دونوں صورتوں میں دم ساقط ہو جائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ،17،ذوالحجۃ،1439ھ۔28اغسطس2018م FU-39

حوالہ جات

(41) البحر العمیق،الباب السادس : فی المواقیت،فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام ،1/620

(42)لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط ،باب المواقیت،فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام ، ص118۔119

(43)الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک ،الباب العاشر : فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام ،1/253

(44)الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک ،الباب العاشر : فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام ،1/253

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button