ARTICLESشرعی سوالات

بلا احرام مکہ پہنچنے والے حاجی کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب ہم کراچی سے حج کے لئے روانہ ہوئے تو ہمارے ساتھ ایک خاتون ماہواری سے تھیں ماہواری کی وجہ سے اس نے احرام نہیں باندھا بلا احرام مکہ آ گئی اب اُس پر کیا لازم ہو گا؟

(السائل : محمد فرید بن حاجی مختار، لبیک حج گروپ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : یاد رہے کہ ماہواری احرام کو مانع نہیں ہے جو عورت ماہواری سے ہو اُسے چاہئے کہ وہ اُسی حال میں احرام باندھ لے پھر مکہ معظمہ پہنچ کر جب پاک ہو جائے تو غسل کرے ، حج تمتع یا قران کا احرام ہو تو عمرہ ادا کر لے اور اگر حجِ افراد کا حج کا احرام ہو تو طوافِ قُدوم کرے اور مکہ پہنچ کر پاک ہونے تک حالتِ احرام میں رہے ، جب پاک ہو جائے تب غسل کر کے عمرہ یا طوافِ قُدوم کرے ۔ اب اس عورت پر لازم ہے کہ کسی بھی میقات پر جائے اور عمرہ کا احرام باندھ کر آئے پاک ہو گئی ہو تو عمرہ ادا کرے ورنہ پاک ہونے کے بعد عمرہ ادا کرلے اور اُس پر میقات سے بغیر احرام گزرنے کی وجہ سے جو دَم لازم ہوا وہ ساقط ہو جائے گا اور بغیر احرام میقات سے گزرنے کا گُناہ باقی رہے گا جس کے لئے اُسے سچی توبہ کرنی ہو گی۔ کیونکہ میقات سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے مکہ جانے کا ارادہ رکھنے والے بلا احرام نہیں گزر سکتا چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

المواقیت : المواضعُ الِّتی لا یُجاوزُہا مُریدُ مکّۃَ إلاّ مُحرِماً (79)

یعنی، میقاتیں وہ جگہیں ہیں جہاں سے مکہ معظمہ کا ارادہ رکھنے والا سوائے احرام کے نہیں گزر سکتا۔ اور اگر بلا احرام گزر گیا پھر احرام باندھنے کے لئے کسی میقات کو نہ گیا، پھر چاہے احرام باندھا یا نہ باندھا بہر حال اُس پر دَم لازم آجائے گا چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں :

آفاقیٌّ مسلمٌ بالغٌ یُریدُ الحجَّ و لو نفلاً و العمرۃَ و جَاوَزَ وقتَہ ثمَّ أحرمَ لزِمَہ دمٌ کما إذا لم یُحرِم، ملخصاً (80)

یعنی، آفاقی مسلمان بالغ اگر نفلی حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو اور وہ میقات سے گزر جائے پھر احرام باندھے تو اُسے دَم لازم ہو گا جیسا کہ اُسے دم لازم ہو گا جو احرام نہ باندھے ۔ احرام نہ باندھنے کی صورت میں لزوم دَم کے بارے میں علامہ رافعی لکھتے ہیں :

فإنَّہ یکونُ مشغولَ الذّمۃِ بأحدِ النُّسُکَین و دمَ المجاوزۃ (81)

یعنی، بے شک اس کے ذمہ دو عبادتوں (حج و عمرہ) میں سے کسی ایک عبادت کے ساتھ مشغول ہو جانا ہے اور (بلا احرام) میقات سے گزرنے کا دم۔ اور اگر وہ دوبارہ کسی بھی میقات پر چلا جاتا ہے تو دَم ساقط ہو جاتا ہے چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں :

فإنْ عَادَ إلی میقاتٍ مّاثُمَّ أحرَمَ سَقَط دمُہ و الأفضلُ عَودُہُ ملخصاً (82)

یعنی، پس اگر کسی بھی میقات کو لوٹا پھر (وہاں سے ) سے احرام باندھا تو دَم ساقط ہو گیا اور افضل لوٹنا ہے ۔ لہٰذا مذکورہ عورت پر کسی میقا ت پر جا کر احرام باندھ کر آئے اور پاک ہونے کے بعد عمرہ ادا کرے اور کسی میقات پر نہیں جا سکتی تو جہاں ہے وہی سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے اور ساتھ دم بھی دے اور دونوں صورتوں میں توبہ بھی کرے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 24 ذو القعدہ 1429ھ، 22نوفمبر 2008 م477-F

حوالہ جات

79۔ الدُّرُّ المختار، کتاب الحجّ، ص157

80۔ الدُّرُّ المختار ، کتاب الحج، باب الجنایات، ص170

81۔ تقریرات الرّافعی علی الدّرِّ و الرَّدِّ، کتاب الحج، باب الجنایات، 3/704

82۔ الدّر المختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، ص171

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button