ARTICLESشرعی سوالات

بغیر محرم کے سفرِ حج کا شرعی حکم اور حکومت کی حج پالیسی

الاستفتاء : محترم علّامہ صاحب، عورت کے بغیر محرم کے سفرِ حج کی ادائیگی کا شرعی حکم اور حکومت کی حج پالیسی، اس کے بارے میں مدلّل جواب عنایت فرمائیں ۔ قرآن و حدیث اور ائمہ کے اقوال کی روشنی میں جواب دیں ۔ مزید یہ کہ گذشتہ حکومتیں اور موجودہ حکومت نے جو اس سلسلے میں اقدام کئے انہیں بھی واضح کرکے ممنون فرمائیں ۔ آیا حکومت کی پالیسی اسلام کے قوانین کے مطابق ہے یا نہیں اور اگر نہیں ہے تو اسے صحیح کرنے کیلئے اپنی ذاتی آراء سے نوازیں ۔ مزید یہ کہ اس موضوع پر کن کُتُب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

(السائل : محمد حسین، از جامع مسجد ربّانی، کھوکھراپار نمبر4، ملیر، کراچی)

جواب

باسمہ سبحانہ تعالی و تقدس الجواب : جس عورت کو حج کے لئے شرعی سفر کرنا پڑے اور اس کے ساتھ اس کا شوہر یا محرم نہ ہو تو اس پر حج فرض نہیں ۔ سفر کی قسمیں : کیونکہ سفر کی دو قسمیں ہیں : ایک اضطراری ہے اور دوسرا اختیاری۔ اضطراری سفر کا حکم یہ ہے کہ اس کے لئے محرم یا شوہر کی کوئی قید نہیں جیسا کہ علامہ شمس الدین سرخسی متوفی 483ھ لکھتے ہیں : ’’اور ہجرت کرنے والی عورت کا مسئلہ جُدا ہے کیونکہ وہ اختیاراً نہیں بلکہ اضطراراً نجات حاصل کرنے کے لئے جارہی ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر اس کو راستہ میں مسلمانوں کا لشکر مل جائے اور اس کو پناہ اور امن حاصل ہوجائے تو اب بغیر محرم کے جانا اس کے لئے جائز نہیں ہے اور پہلے اپنی جان بچانے کے لئے اس کا جانا اضطراراً تھا‘‘۔ (208) اور اختیاری سفر کا حکم یہ ہے کہ بغیر محرم یا شوہر کے عورت تین دن یا اس سے زائد کا سفر نہیں کرسکتی اور حج کا سفر اختیاری ہے اضطراری نہیں ۔ قرآن : قرآن میں ہے :

{ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً } (209)

ترجمہ : اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (کنزالایمان) اللہ تعالی نے حج اس پر فرض فرمایا جو استطاعت رکھتا ہو تو جیسے کسی کے پاس زادِ راہ نہ ہو تواس میں حج کی استطاعت نہیں ہوتی، اور جو عاقل و بالغ نہ ہو اس میں بھی استطاعت نہیں ہوتی، اسی طرح وہ عورت جس کے ساتھ اس کا محرم یا شوہر نہ ہو اس میں بھی حج کی استطاعت نہیں کیونکہ عورت کو بغیر محرم یا شوہر کے سفر کرنا حرام ہے اور یہ اس وقت ہے جب عورت کو حج کے لئے شرعی سفر کرنا پڑے (یعنی عورت کی رہائش اور حرم مکہ کے درمیان تین دن پیدل سفر کی مسافت ہو)۔ احادیث : چنانچہ حدیث شریف میں ہے

1۔ عن ابن عمر رضٰی اللّٰہ عنھما أن رسول اللّٰہ ﷺ قال : ’’لاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ ثَلَاثًا، إِلاَّ وَ مَعَھَا ذُوْ مَحْرَمٍ‘‘۔ (210)

یعنی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا کوئی عورت بغیر محرم کے تین دن کا سفر نہ کرے ۔

2۔عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما عن النبی ﷺ قال : ’’لاَ یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِیْرَۃَ ثَلَاثِ لَیَالٍٍ، إِلاَّ وَ مَعَھَا ذُوْ مَحْرَمٍ‘‘۔ (211)

یعنی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ بغیر مَحرم کے تین راتوں کی مسافت نہ کرے ۔ 3۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا :

’’لاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ ثَلَاثًا، اِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ‘‘۔ (212)

یعنی، بغیر محرم کے عورت تین دن کا سفر نہ کرے ۔ 4۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا :

’’لاَ یَحِلُ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الآخِرِ، أَنْ تُسَافِرَ سَفْراً یَکُوْنُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَصَاعِداً، اِلاَّ وَ مَعَھَا أَبُوْھَا أَوِ ابْنَھَا أَوْ زَوْجَھَا أَوْ أَخُوْھَا أَوْ ذُوْ مَحْرَمٍ مِنْھَا‘‘۔ (213)

یعنی، جو عورت اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر یقین رکھتی ہے اس کے لئے اس کے باپ، بیٹے ، بھائی، شوہر یا کسی اور مَحرم کے بغیر تین دن کاسفر حلال نہیں ۔ 5۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا :

’’لاَ یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍمُسْلِمَۃٍ تُسَافِرُ مَسِیْرَۃَ لَیْلَۃٍ اِلاَّ وَ مَعَھَا رَجُلٌ ذُوْ حُرْمَۃٍ مِّنْھَا‘‘۔ (214)

یعنی، کسی عورت کو بھی جائز نہیں کہ وہ ایک رات کا سفر بھی بغیر مَحرم مرد کے کرے ۔ 6۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت ا میں عرض کی یا رسول اللہ ا!

إِنَّ امْرَأَتِیْ خَرَجَتْ حَاجَّۃً، وَ إِنِّیْ اکْتُتِبْتُ فِیْ غَزْوَۃٍ کَذَا وَ کَذَا، فَقَالَ ’’انْطَلِقَ فَحُجَّ مَعَ
امْرَأَتِکَ‘‘۔ (215)

یعنی، میری بیوی حج کو جارہی ہے اور میرا نام فلاں فلاں جہاد میں لکھا ہوا ہے ؟ تو رسول اللہ ا نے فرمایا جاؤ تم اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ اور حج کا سفر اختیاری ہے اضطراری نہیں اس لئے اسے بغیر شوہر یا مَحرم کے جانا شرعاً جائز نہیں جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث سے ثابت ہے اور احناف کا یہی نظریہ ہے چنانچہ امام شمس الدین سرخسی حنفی متوفی 483ھ لکھتے ہیں : ’’ہمارے نزدیک بغیر شوہر یا مَحرم کے عورت کا سفر حج پر جانا جائز نہیں ‘‘۔ (216) اسی لئے احناف کے نزدیک مَحرم یا شوہر کا ساتھ ہونا عورت پر وجوبِ حج کی شرائط میں سے ہے یعنی جب عورت اور مکہ مکرمہ کے درمیان تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت ہو تو عورت پر حج فرض ہونے کے لئے شرط ہے کہ اس کے ساتھ شوہر یا اس کا مَحرم ہو اگر یہ شرط پائی گئی تو حج فرض ہوگا اور اگر نہ پائی گئی تو حج بھی فرض نہیں بالکل اسی طرح جیسے بالغ ہونا وجوبِ حج کی شرط ہے تو نابالغ پر حج فرض نہیں کیونکہ وجوبِ حج کی ایک شرط بلوغ مفقود ہے ۔چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ لکھتے ہیں :

و منھا المَحْرم للمرأۃ شابۃً کانت أو عجوزاً إذا کانت بینھا و بین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ھکذا فی ’’المحیط‘‘۔ (217)

یعنی، وجوبِ حج کی شرائط میں سے عورت کے لئے محرم (یا شوہر) کا ساتھ ہونا ہے عورت چاہے جوان ہو یا بوڑھی جبکہ اس کے اور مکہ مکرمہ کے مابین تین دن کی مسافت ہو اسی طرح ’’محیط‘‘ میں ہے ۔ نابالغ پر حج فرض نہیں مگر جانے سے اُسے منع نہیں کیا جائے اور عورت کا معاملہ دوسرا ہے وہ اگر مَحرم یا شوہر کے بغیر جائے تو گنہگار ہوگی جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث سے واضح ہے ۔ اور اس معاملے حکومت کی پالیسی بھی وہی ہے جو ہم احناف کا مذہب ہے یعنی قانوناً بھی ہر اس عورت کو حج کے سفر پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کے ساتھ مَحرم یا شوہر نہ ہو۔ ہاں عورت اگر بغیر محرم کے حج کا سفر کر لیتی ہے تو گناہگار ہو گی مگر اس کا حج ادا ہو جائے گا، چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی ’’جوہرہ‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : عورت بغیر محرم یا شوہر کے حج کو گئی تو گناہگار ہوئی مگر حج کرے گی تو حج ادا ہو جائے گا۔ (218) نیز وہ عورت کہ جو استطاعت رکھتی ہے مگر اس کا کوئی محرم اپنے خرچ پر اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار نہیں اس صورت میں عورت پر یہ لازم ہے کہ محرم کا نفقہ بھی برداشت کرے اور اگر وہ دونوں (یعنی اپنے اور ساتھ جانے والے محرم) کے سفری اخراجات پر قدرت نہیں رکھتی تو ایسی صورت میں اس پر حج فرض نہیں ، چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی ’’در مختار‘‘ اور ’’رد المحتار‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : محرم کے ساتھ جائے تو اس (محرم) کا نفقہ عورت کے ذمہ ہے ، لہٰذا اب یہ شرط ہے کہ وہ اپنے اور محرم کے نفقہ پر قادر ہو۔ (219) یہ مسئلہ جمیع کُتُبِ فقہ و فتاویٰ میں مذکورہے جیسے ہدایہ، شرح وقایہ، کنز الدقائق، قدوری، نور الایضاح، فتح القدیر، کفایہ، عنایہ، بنایہ، تبیین الحقائق، بحر الرائق، جوہرۃ النیرہ، مراقی الفلاح، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، در مختار، رد المحتار، حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، فتاویٰ قاضیخان، فتاویٰ بزازیہ، فتاویٰ ہندیہ، فتاویٰ رضویہ، بہارِ شریعت وغیرھا۔ ان کے علاوہ خصوصاً حج کے موضوع پر لکھی گئی کتب و رسائل موجود ہیں ، جیسے مناسک ملا علی قاری، حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، ’’انوارالبشارہ‘‘ مصنّفہ امام اہلسنت امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور علامہ فیض احمد اویسی مدظلہ کی کتاب ’’حج کا ساتھی‘‘ بہت مفید ہیں ان کے علاوہ آپ بہارِ شریعت حصہ (6) اور رفیق الحرمین سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 18 ؍محرم الحرام 1423ھ، 3 اپریل 2002ء (235_JIA)

حوالہ جات

208۔ المبسوط، کتاب المناسک، باب المحصر،2/100

209۔ اٰل عمران : 97

210۔ صحیح مسلم، کتاب (15) الحج، باب(74) سفر المرأۃ مع محرم الی حج و غیرہ، الحدیث : 413،2/975

211۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفرالمرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ، برقم414 ،2/975

212۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج غیرہ، برقم الحدیث : 417،2/975

213۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج غیرہ، برقم الحدیث : 423، 2/977

214۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج غیرہ، برقم الحدیث : 424، 2/975

215۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج غیرہ، برقم الحدیث : 419، 2/975

216۔ المبسوط، کتاب المناسک، باب المحصر، 2/100

217۔ الفتاویٰ الھندیہ،کتاب المناسک، الباب الأول فی تفسیر الحج وفرضیتہ و وقتہ و شرائطہ الخ، 1/217، 219

218۔ بہار شریعت، حج کابیان، وجوب ادا کے شرائط،1/1045

219۔ بہار شریعت، حج کابیان، وجوبِ ادا کے شرائط، 1/1045

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button