بہار شریعت

بغیر احرام میقات سے گزرنا

بغیر احرام میقات سے گزرنا

مسئلہ ۱: میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگر چہ نہ حج کا ارادہ ہو نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات سے واپس نہ گیا یہیں احرام باندھ لیا تو دم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دم ساقط ‘ اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے جو اس پر حج یا عمرہ واجب ہوا تھا اس کا احرام باندھا اور ادا کیا تو بری الذمہ ہوگیا ۔ یونہی حجۃ الاسلام یا نفل یا منت کا عمرہ یا حج جو اس پر تھا اس کا احرام باندھا اور اسی سال ادا کیا جب بھی بری الذمہ ہو گیا اور اگر اس سال ادانہ کیا تو اس سے بری الذمہ نہ ہوا جو مکہ میں جانے سے واجب ہو اتھا(عالمگیری ص۲۵۳ج۱‘ درمختار وردالمحتار ص۳۰۹۔۳۱۰ج۲‘ بحر ص۴۸ج۳‘ جوہرہ ص ۲۲۹‘ تبیین ص۷۳ج۲‘ منسک ص۵۵‘ ۵۶‘ ۶۰‘ ۶۱)

مسئلہ ۲: چند بار بغیر احرا م مکہ معظمہ کو گیا پچھلی بار میقات کو واپس آکر حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر ادا کیا تو صرف اس بار حج یا عمرہ واجب ہوا تھا اس سے بری الذمہ ہو اپہلوں سے نہیں (عالمگیری ص ۲۵۲ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۳۱۳ج۲‘ منسک ص۶۱)

مسئلہ ۳: حج یا عمرہ کا ارادہ ہے اور بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا تو اگر یہ اندیشہ ہے کہ میقات کو واپس جائے گا تو حج فوت ہو جائے گا تو واپس نہ ہو وہیں سے احرام باندھ لے اور دم دے اور اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو واپس آئے ‘ پھر اگر میقات کو بغیر احرام آیا تو دم ساقط یونہی اگر احرام باندھ کر آیا اور لبیک کہہ چکا تو دم ساقط اور نہیں کہا تو نہیں (عالمگیری ص۲۵۳ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۱۰ج۲‘ بحر ص۴۸ ج۳)

مسئلہ ۴: میقات سے بغیر احرام گیا پھر عمرہ کا احرام باندھا اور عمرہ کو فاسد کردیا ‘ پھر میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کی قضا کی تو میقات سے بغیر احرام گزرنے کا دم ساقط ہو گیا (درمختار و ردالمحتار ص۲۱۴ج۲‘ عالمگیری ص۲۵۳ج۱‘ بحر ص۴۸ ج۳‘ تبیین ص۷۳ج۲)

مسئلہ ۵: متمتع نے حرم کے باہر سے حج کا احرام باندھا اسے حکم ہے کہ جب تک وقوف عرفہ نہ کیا اور حج فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو حرم کو واپس آئے ۔اگر واپس نہ آیا تو دم واجب ہے اور اگر واپس ہو ااورلبیک کہہ چکا ہے تو دم ساقط ہے ‘نہیں تو نہیں ۔ اور باہر جاکر احرام نہیں باندھا تھا اور واپس آیا اور یہاں سے احرام باندھا تو کچھ نہیں ۔ مکہ میں جس نے اقامت کرلی ہے اس کا بھی یہی حکم ہے اور اگر مکہ والا کسی کام سے حرم سے باہر گیا تھا اور وہیں سے حج کا احرام باندھ کر وقوف کرلیا تو کچھ نہیں ‘ اور اگر عمرہ کا احرام حرم میں باندھا تو دم لازم آیا (عالمگیری ص۲۵۴ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۳۱۱ج۲‘ بحر ص۵۰ج۳‘تبیین ص۷۴ج۲منسک ‘ص۵۸)

مسئلہ ۶: نا بالغ بغیر احرام میقات سے گزرا پھر بالغ ہو گیا اور وہیں سے احرام باندھ لیا تو دم لازم نہیں ‘ اور اگر غلام بغیر احرام گزرا پھر اس کے آقا نے احرام کی اجازت دیدی اور اس نے احرام باندھ لیا تو دم لازم ہے جب آزاد ہو ادا کرے (عالمگیری ص۲۵۳ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۳۰۹ج۲‘ بحر ص۵۰ج۳‘ منسک ص۶۱)

مسئلہ ۷: میقات سے بغیر احرام گزرا پھر عمرہ کا احرام باندھا اس کے بعد حج کا یا قران کا تو دم لازم ہے اور اگر پہلے حج کا باندھا پھر حرم میں عمرہ کا تودو (۲) دم (عالمگیری ص۲۵۳ج۱‘ درمختا ر وردالمحتار ص۳۱۷ج۲‘ بحر ص۴۸ ج۳)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button