ARTICLES

بعد عصر نماز طواف ادا کرنا کیسا ہے ؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیا نماز عصر کے بعد نماز طواف پڑھنا جائزہے ؟

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں جاننا چاہیے کہ نماز عصرادا کرنے کے بعد سے لے کر غروب افتاب تک نماز پڑھنا ممنوع ہے کیونکہ یہ وقت نماز طواف اورسنن ونوافل کے لئے مکروہ وقت ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اور ملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(واوقات الکراہۃ)ای لھذہ الصلاۃ۔۔۔۔۔(وبعد العصر)ای بعد ادائہ(الی ادائ المغرب)ای حتی بعد الغروب قبل اداء الفرض۔(44)

یعنی،اوقات کراہت یعنی اس نماز کے لئے ۔۔۔۔۔عصر کے بعد یعنی نماز عصر کی ادائیگی کے بعد سے لے کر نماز مغرب کی ادائیگی تک ہے یعنی یہاں تک کہ غروب افتاب کے بعدمغرب کے فرض ادا کرنے سے پہلے بھی (مکروہ وقت ہے )۔ لہٰذا اگر کسی نے نماز عصر کے بعد طواف کیایا پہلے کیامگر طواف کے نفل ادانہ کئے تواب وہ نمازطواف نہ پڑھے ،نمازمغرب پڑھنے کے بعد پڑھے ۔ چنانچہ امام ابو عبداللہ محمدبن حسن شیبانی متوفی189ھ لکھتے ہیں :

ان طاف بعد العصر لم یصل حتی یصلی المغرب۔(45)

یعنی،اگر کسی نے نماز عصر کی ادائیگی کے بعد طواف کیا تووہ نماز طواف نہ پڑھے یہاں تک کہ مغرب کے فرض اداکرے ۔ اور فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ مغرب کے فرض ادا کرنے کے بعدنماز طواف اداکرے پھر مغرب کی سنتیں پڑھے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں :

ولو طاف بعد العصر یصلی المغرب ثم رکعتی الطواف ، ثم سنۃ المغرب۔(46)

یعنی،اگر کسی نے نماز عصر کی ادائیگی کے بعد طواف کیا تووہ مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد طواف کی دورکعتوں کو پڑھے اور پھر مغرب کی سنت پڑھے ۔ علامہ سید محمد ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں :

ولو طاف بعد العصر یصلی المغرب ثم رکعتی الطواف ثم سنۃ المغرب۔(47)

یعنی،اگر کسی نے نماز عصر کی ادائیگی کے بعد طواف کیا تووہ مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد طواف کی دورکعتوں کو پڑھے اور پھر مغرب کی سنت پڑھے ۔ اور اگر کوئی نماز عصر کی ادائیگی کے بعد نماز طواف شروع کردے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نماز توڑدے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اورملا علی قاری لکھتے ہیں :

(ویجب علیہ قطعھا)ای فی اثنائھا۔(48)

یعنی،درمیان نماز میں ہی اسے توڑدینا واجب ہے ۔ لیکن اگر اگر کسی نے اس نماز کو نماز عصر کی ادائیگی کے بعدپوراکرلیا تواس کی نماز کراہت کے ساتھ صحیح ہوجائے گی البتہ زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ اسے وقت مباح میں لوٹایا جائے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اورملا علی قاری لکھتے ہیں :

(فان مضی فیھا)ای بان کملھا(فالاحب ان یعیدھا)لعموم القاعدۃ : ان کل صلاۃٍ ادیت مع الکراہۃ التنزیھۃ یستحب اعادتھا ، ومع الکراہۃ التحریمیۃ یجب اعادتھا۔ (49)

یعنی،اگر اس نے نماز کو جاری رکھایعنی مکمل کرلیاتوپسندیدہ یہ ہے کہ اس کا اعادہ کرے ایک قاعدے کے عموم کی وجہ سے اوروہ قاعدہ یہ ہے کہ ہر اس نماز کو لوٹانا مستحب ہے کہ جس کی ادائیگی کراہت تنزیہی کے ساتھ ہوئی ہواور جس نمازکی ادائیگی کراہت تحریمی کے ساتھ ہوئی ہوتواسے (وقت کے اندر’’جیسا کہ فقیرکے غیر مطبوعہ فتوی میں بالدلائل ثابت ہے ‘‘) لوٹانا واجب ہے ۔ واضح رہے کہ اس عبارت کا اطلاق محل نظرہے ۔چنانچہ علامہ شامی اور ان کے حوالے سے علامہ قاضی حسین بن محمد سعید حنفی متوفی1366ھ نقل کرتے ہیں :

وفی اطلاقہ نظر لما مر فی اوقات الصلاۃ من ان الواجب، ولو لغیرہ کرکعتی الطواف والنذر لا تنعقد فی ثلاثۃٍ من الاوقات المنہیۃ : اعنی الطلوع والاستواء والغروب، بخلاف ما بعد الفجر، وصلاۃ العصر فانہا تنعقد مع الکراہۃ فیہما۔(50)

یعنی،اس عبارت کے اطلاق میں نظرہے اس لئے کہ اوقات صلوٰۃ میں گزراکہ واجب اگر چہ لغیرہ ہوجیسے طواف کی دورکعتیں اور منت کی نمازتین اوقات منہیہ میں منعقد نہیں ہوتیں اور اوقات ممنوعہ سے میری مراد طلوع،زوال،اور غروب افتاب کا وقت ہے برخلاف اس کے جو فجرا ورنماز عصرکے بعد ہوپس ان اوقات میں نمازکراہت کے ساتھ منعقدہوجائے گی۔ اور فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ ان تین اوقات میں نماز جائز نہیں چاہے نفل ہو یا فرض سوائے غروب افتاب کے وقت نماز عصر کے ۔ چنانچہ علامہ حسن بن منصور اوزجندی حنفی متوفی 592ھ لکھتے ہیں :

ویجوز قضاء الفوائت فی ای وقت شاء الا فی ثلاث ساعات لایجوزفیھا التطوع ولا تجوز المکتوبۃ ولا صلاۃ الجنازۃ ولا سجدۃ التلاوۃ اذا طلعت الشمس حتی ترتفع وعند الانتصاف الی ان تزول الشمس وعنداحرار الشمس الی ان تغیب الاعصر یومہ فانہ یجوز اداوھا عندالغروب۔(51)

یعنی، فوت ہونے والی نماز کی قضاء کرنا کسی بھی وقت جائز ہے سوائے تین اوقات کے (کیونکہ)تین اوقات میں نفل ، فرض، نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت جائز نہیں ہے (اور تین اوقات یہ ہیں ) جب سورج طلوع ہوجائے یہاں تک وہ بلند ہوجائے اور استواء کے وقت یہاں تک کہ سورج زائل ہوجائے اور سور ج کے سرخ ہونے کے وقت یہاں تک کہ سور ج غروب ہوجائے سوائے اس دن کی عصر کے کیونکہ اسے وقت غروب اداکرناجائز ہے ۔ اور اسی طرح علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ ان اوقات میں نماز کے درست نہ ہونے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ثلاثۃ اوقات لایصح فیھا شی ء من الفرائض والواجبات التی لزمت فی الذمۃ قبل دخولھا عند طلوع الشمس الی ترتفع وعنداستوائھا الی ان تزول وعند اصفرارھا الی ان تغرب۔(52)

یعنی، تین اوقات ہیں کہ جن میں فرائض، واجبات جواس وقت کے کرنے سے قبل ذمے میں لازم ہوئے کچھ بھی درست نہیں (اور وہ تین اوقات ) طلوع افتاب کے وقت سے لے کر افتاب کے بلند ہونے تک ، استوائے شمس کا وقت زوال تک اور سورج کے زرد ہونے کا وقت غروب افتاب تک۔

واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ،19رمضان1440ھ۔24مئی 2019م FU-84

حوالہ جات

(44) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا،فصل : اوقات الکراھۃ لھذہ الصلاۃ،ص223۔224

(45)کتاب الاصل،کتاب المناسک،باب الطواف،2/337۔338

(46)لباب المناسک وعباب المسالک،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا،فصل فی رکعتی الطواف، ص 116

(47) منحۃ الخالق علی البحر الرائق،کتاب الحج،باب الاحرام،تحت قولہ : فواجبۃ علی الصحیح، 2/580

(48) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا،فصل : فی رکعتی الطواف واحکامھما،ص223

(49)لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا،فصل : فی رکعتی الطواف واحکامھما،ص223

(50) رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب الحج،مطلب فی طواف القدوم،تحت قولہ : فی وقت مباح،3/585

ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا،فصل : فی رکعتی الطواف واحکامھما،تحت قولہ : فالاحب ان یعیدھا،ص223

(51) فتاوی قاضیخان (علی ھامش الھندیۃ)،کتاب الصلاۃ، باب الاذان ،1/74

(52) نورالایضاح ، کتاب الصلاۃ ، فصل : ثلاثۃ اوقات ، ص59

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button