شرعی سوالات

باغ ایک ہی قسم کے درخت ہوں اور بعض پر پھل آ چکے ہوں تو تبعاً پورے باغ کی بیع جائز ہے

سوال:

            آم، سیب، ناشپاتی وغیرہ کے وہ باغات جس میں پھل تو آ گئے ہوں مگر عام طریقے سے وہ کھانے کے لائق نہ ہوں البتہ اچار، چٹنی وغیرہ اس سے بنائے جاتے ہوں تو ان باغات کی خرید و فروخت از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

            باغات میں عموماً یکبارگی پھل نمودار نہیں ہوتے اور نہ یکبارگی کر کے سب کے سب قابل استعمال ہو جاتے ہیں اگر باغ کے تمام درخت ایک ہی قسم کے پھل کے ہوں پھر ان میں بعض درختوں کے پھل اس قابل ہو گئے ہوں کہ ان سے اچار، چٹنی وغیرہ بنائی جا سکے ۔ اور بعض پھل ابھی اس قابل بھی نہ ہوں تو تبعاً پورے باغ کے پھلوں کی خرید و فروخت جائز ہے، پھر اگر اس کا مالک پھلوں کے پکنے یا قابل استعمال ہونے تک پھلوں کو درختوں پر رکھنے کی صریح اجازت دیدے یا اس علاقہ میں یہی تعامل ہو کہ خریدار خام پھلوں کو درختوں پر خرید لیتے ہوں اور پختہ ہونے کے بعد توڑتے ہوں تو اس تعامل کے ذیل میں خریدار مالکِ باغ کی اجازت کے بغیر اپنے پھلوں کو درختوں پر رکھ سکتا ہے لیکن درختوں کوکسی قسم کا نقصان پہنچانے پر اسے تاوان دینا ہو گا ۔

  (فتاوی یورپ، صفحۃ454،شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button