بہار شریعت

باب القسامتہ

باب القسامتہ

مسئلہ ۱ : قسامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ ہو اور اولیائے مقتول اہل محلہ پر قتل عمد یا قتل خطا کا دعوی کریں اور اہل محلہ انکار کریں تو اس محلے کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں اور یہ قسم کھانے والے عاقل بالغ آزاد مرد ہوں ۔ (ہندیہ ص ۷۷ ج ۶، شامی ص ۵۴۹ ج ۵)

قسامت واجب ہونے کے لئے چند شرائط ہیں :۔

متعلقہ مضامین

(۱) مقتول کے جسم پر زخم یا ضرب کے نشانات یا گلا گھونٹنے کی علامات پائی جائیں یا ایسی جگہ سے خون بہے جہاں سے عادتاً نہیں نکلتا۔ مثلا آنکھ، کان۔ (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۲ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۲ ج ۸)

(۲) قاتل کا پتہ نہ ہو۔ (فتح القدیرص ۳۹۰ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۴ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۸۷ ج ۷)

(۳) مقتول انسان ہو۔ (بدائع صنائع ص ۲۸۸ ج ۷)

(۴) مقتول کے اولیاء دعوی کریں ۔ (بدائع صنائع ص ۲۸۹ ج ۷)

(۵) اہل محلہ قتل کرنے کا انکار کریں ۔ (عالمگیری ص ۷۷ ج ۶، شامی ص ۵۴۹ ج ۵)

(۶) مدعی قسامت کا مطالبہ کرے۔ (بدائع صنائع ص ۲۸۹ ج ۷)

(۷) جس جگہ مقتول پایا گیا وہ کسی شخص کی ملکیت ہو یا کسی کے قبضے میں ہو یا محلہ میں پایا جائے یا آبادی کے اتنا قریب پایا جائے کہ وہاں کی آواز بستی میں سنی جاسکے۔ (شامی ص ۵۵۳ ج ۵، عالمگیری ص۸۰ ج ۶)

(۸) مقتول زمین کے مالک یا قابض کا مملوک نہ ہو۔ (ہندیہ ص ۷۷ ج ۶، شامی ص ۵۴۹ ج ۵، بدائع صنائع ۲۸۷ ج ۷، مبسوط ص ۱۰۶ ج ۲۶، فتح القدیر و عنایہ ص ۳۸۴ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۹۱ ج ۸)

مسئلہ ۲ : اگر کسی جگہ ایسا مردہ پایا جائے کہ اس پر ضرب کا کوئی نشان نہ ہو، یا اس کے منہ یا ناک یا پیشاب و پاخانہ کے مقام سے خون بہہ رہا ہو یا اس کے گلے میں سانپ لپٹا ہوا ہو تو وہاں کے لوگوں پر قسامت و دیت کچھ نہیں ہے۔ (درمختار و شامی ص ۵۵۱ ج ۵)

مسئلہ ۳ : قسامت کا حکم یہ کہ اگر مقتول کے اولیاء نے قتل عمد کا دعوی کیا ہے اور اہل محلہ نے قسم کھائی کہ نہ انھوں نے قتل کیا ہے نہ ان کو قاتل کا علم ہے تو اہل محلہ پر دیت لازم ہوگی اور اگر اولیائے مقتول نے قتل خطا کا دعوی کیا ہے اور اہل محلہ نے قسم کھالی تو اہل محلہ کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی جس کو وہ لوگ تین سال میں ادا کریں گے اور انکار کی صورت میں ان کو قید کیا جائے گا۔ حتی کہ قسم کھائیں ۔ (درمختار و شامی ص ۵۵۰ ج ۵، ملتقی الابحر ص ۶۶۸ ج ۲، فتح القدیر ص ۳۸۸ ج ۸)

مسئلہ ۴ : کسی محلہ میں مقتول پایا جائے اور اس کے اولیاء، تمام یا بعض اہل محلہ پر دعوی کریں کہ انھوں نے اس کو عمدا یا خطاء قتل کیاہے اور اہل محلہ انکار کریں تو ان میں سے پچاس آدمیوں سے اس طرح قسم لی جائے گی کہ ہر آدمی ا للہ کی قسم کھا کر یہ کہے کہ نہ میں نے اس کو قتل کیا ہے نہ میں قاتل کو جانتا ہوں ۔ اگر وہاں کی آبادی میں پچاس سے زیادہ مرد ہیں تو ان میں سے پچاس کے انتخاب کا حق مقتول کے اولیاء کو ہے۔ اگر پچاس سے کم مرد ہیں تو ان سے قسم کی تکرار کرا کر پچاس کے عدد کو پورا کیا جائے گا۔ (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۱ ج ۳، عالمگیری ص ۷۷ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۲ ج ۸، فتح القدیر و عنایہ ص ۳۸۴ ج ۸)

مسئلہ ۵ : مدعی سے اس بات کی قسم نہیں لی جائے گی کہ اہل محلہ نے قتل کیا ہے۔ خواہ ظاہری حالات مدعی کی تائید میں ہوں مثلاً مقتول اور اہل محلہ کے درمیان کھلی دشمنی تھی یا ظاہری حالات مدعی کی تائید میں نہ ہوں ۔ مثلا مقتول اور اہل محلہ کے درمیان کھلی عداوت کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ (عالمگیری ص ۷۷ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۲ ج ۸)

مسئلہ ۶ : اگر اولیائے مقتول یہ دعوی کریں کہ اہل محلہ میں سے فلاں فلاں اشخاص نے قتل کیا ہے۔ یا بغیر معین کئے یوں کہیں کہ اہل محلہ میں سے بعض لوگوں نے قتل کیا ہے، جب بھی قسامت و دیت کا وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ (عالمگیری ص ۷۷ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۲ ج ۸)

مسئلہ ۷ : اگر ولی مقتول نے یہ دعوی کیا کہ اہل محلہ کے غیر کسی شخص نے قتل کیا ہے تو اہل محلہ پر قسامت و دیت کچھ نہیں ہے بلکہ مدعی سے گواہ طلب کئے جائیں گے۔ اگر گواہ پیش کر دیئے تو اس کا دعوی ثابت ہو جائے گا اور اگر گواہ نہ ہوں تو مدعا علیہ سے ایک مرتبہ قسم لی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۷۷ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۲ ج ۸، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۳ ج ۳، مبسوط ص ۱۱۵ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۵ ج ۷)

مسئلہ ۸ : اولیائے مقتول کو یہ اختیار ہے کہ جس خاندان کے درمیان مقتول پایا جائے اس خاندان کے یا جس محلہ میں پایا جائے تو اس محلے کے صالحین کو قسم کھانے کے لئے منتخب کریں ، اگر صالحین کی تعداد پچاس سے کم ہو تو وہ باقی لوگوں میں سے منتخب کر کے پچاس پورے کر لیں ۔ ولی کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جوانوں کو یہ فساق کو قسم کھانے کے لئے منتخب کر لیں ۔ یہ اختیار صرف ولی کو ہے امام کو نہیں ہے (عالمگیری ص ۷۸ ج ۶، شامی ص ۵۵۰ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۱ ج ۳، مبسوط ص ۱۱۰ ج ۲۶)

مسئلہ ۹ : قسامت میں بچہ اور پاگل اور عورت اور غلام داخل نہیں ہیں لیکن اندھا اور محدود فی القذف اور کافر قسامت میں داخل ہیں ۔ (عالمگیری ص ۷۸ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۱ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۲ ج ۸)

مسئلہ ۱۰ : جس جگہ مقتول کا پورا جس یا جسم کا اکثر حصہ یا نصف حصہ بشرط یہ کہ اس کے ساتھ سر بھی پایا جائے تو اس جگہ کے لوگوں پر قسامت و دیت ہے۔ اور اگر لمبائی میں سے چرا ہوا نصف پایا جائے یا بدن کا نصف سے کم حصہ پایا جائے۔ اگرچہ عرضاً ہو اور اس کے ساتھ سر بھی ہو یا صرف ہاتھ یا پیر یا سر پایا جائے تو قسامت و دیت کچھ نہیں ہے۔ (درمختار و شامی ص ۵۴۹ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۳ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۲ ج ۸، فتح القدیر ص ۳۹۰ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۶ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۸۸ ج ۷)

مسئلہ ۱۱ : اگر کسی محلے میں کوئی مردہ بچہ تام الخلقت یا ناقص الخلقت پایا جائے اور اس پر ضرب کے کچھ نشانات نہ ہوں تو اہل محلہ پر کچھ نہیں ہے اور اگر ضرب کے نشانات ہوں اور بچہ تام الخلقت ہو تو قسامت و دیت واجب ہے اور اگر ناقص الخلقت ہو تو کچھ نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۷۸ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۲ ج ۵، قاضی خان ص ۴۵۳ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸، فتح القدیر ص ۳۹۱ ج ۸)

مسئلہ ۱۲ : اگر کسی کے مکان میں مقتول پایا جائے اور صاحب خانہ کے عاقلہ بھی وہاں موجود ہوں تو قسامت میں سب شریک ہوں گے اور اگر اس کے عاقلہ وہاں موجود نہ ہوں تو گھر والا ہی پچاس مرتبہ قسم کھائے گا اور دیت دونوں صورتوں میں عاقلہ پر ہوگی۔ (عالمگیری ص ۷۸ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸)

مسئلہ ۱۳ : اگر کسی محلہ میں مقتول پایا جائے اور اہل محلہ دعوی کریں کہ محلہ کے باہر کے فلاں شخص نے اس کو قتل کیا ہے اور اس محلے کے باہر کے دو گواہ بھی اس پر شہادت دیں تو اہل محلہ قسامت و دیت سے بری ہو جائیں گے۔ ولی مقتول نے یہ دعوی کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ (عالمگیری ص ۷۹ ج ۶)

مسئلہ ۱۴ : اگر ولی مقتول دعوی کرے کہ جس محلے میں مقتول پایا گیا ہے اور اس محلے کے باہر رہنے والے فلاں شخص نے اس کے آدمی کو قتل کیا ہے تو ولی کو اپنا دعوی گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا۔ ورنہ مدعی علیہ سے ایک مرتبہ قسم لی جائے گی۔اگر وہ قسم کھالے تو بری الذمہ ہو جائے گا اور اگر قسم سے انکار کرے اور دعوی قتل خطا کا ہو تو دیت لازم ہوگی اور اگر دعوی قتل عمد کا تھا تو قید کیاجائے گا۔ یہاں تک کہ قتل کا اقرار کرے یا قسم کھائے یا بھوکا مر جائے (درمختار ص ۵۲۲ ج ۵)

مسئلہ ۱۵ : کسی محلہ یا قبیلے میں کوئی شخص زخمی کیا گیا۔ وہاں سے وہ زخمی حالت میں دوسرے محل میں منتقل کیا گیا اور اسی وجہ صاحب فراش رہ کر مرگیا تو قسامت اور دیت پہلے محلے والوں پر ہے۔ (عالمگیری ص ۷۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۸ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۷۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۸ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۸۸ ج ۷)

مسئلہ ۱۶ : اگر تین مختلف قبائل کے لوگوں کو کوئی خطہ زمین الاٹ کیا گیا وہاں انھوں نے مکانات یا مسجد بنائی اور اس آبادی یا مسجد میں کوئی مقتول پایا گیا تو دیت تین قبیلوں پر لازم ہوگی۔ ہر قبیلے پر ایک تہائی اگرچہ ان کے افراد کی تعداد کم و بیش ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی قبیلے کا صرف ایک ہی شخص ہو تو اس پر بھی ایک تہائی دیت لازم ہوگی اور یہ دیت ان سب کے عاقلہ ادا کریں گے (عالمگیری ص ۷۹ ج ۶)

مسئلہ ۱۷ : اگر کسی بازار یا مسجد میں کوئی مقتول پایا جائے اور وہ مسجد یا بازار کسی خاص قبیلے کی ملکیت ہو تو قسامت و دیت ان پر لازم ہوگی۔ اور اگر وہ مسجد و بازار حکومت کی ملک میں ہیں تو اس کی د یت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۷۹ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۶۵۲ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۶ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۶ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۸ ج ۲۶، صنائع بدائع ص ۲۹۰ ج ۷)

مسئلہ ۱۸ : اگر شارع عام پر یا پل پر مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۶ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۷ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۹۰ ج ۷)

مسئلہ ۱۹ : مسجد حرام یا میدان عرفات میں اژدہام کے بغیر کوئی مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بھی قسامت کے بغیر بیت المال سے ادا کی جائے گی (عالمگیری ۸۰ ج ۶)

مسئلہ ۲۰ : اگر کسی ایسی زمین یا مکان میں مقتول پایا جائے جس کو معین لوگوں پر وقف کیا گیا تھا تو قسامت و دیت انہی لوگوں پر ہے جن پر وقف کیا گیا ہے اور اگر مسجد پر وقف کیا گیا تھا تو اس کا حکم مقتول فی المسجد کا ہے (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶ از محیط سرخسی، تبیین الحقائق ص ۱۷۶ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۶۰ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۷ ج ۸)

مسئلہ ۲۱ : اگر کسی ایسے گائوں میں مقتول پایا جائے جو ذمی کفار اور مسلمانوں کی ملکیت ہے تو قسامت اور دیت دونوں فریقوں پر ہے۔ مسلمانوں پر دیت کا جتنا حصہ لازم ہوگا وہ ان کے عاقلہ ادا کریں گے اور کفار پر جتنا حصہ لازم ہوگا، اگر ان کے عاقلہ ہوں تو ان کے عاقلہ ادا کریں گے۔ ورنہ ان کے مال سے وصول کیا جائے گا۔ (عالمگیری از مبسوط ص ۸۰ ج ۶)

مسئلہ ۲۲ : اگر دو محلوں یا دو گائوں کے درمیان مقتول پایا جائے اور یہاں سے دونوں جگہ آواز پہنچتی ہو تو جس آبادی کا فاصلہ کم ہوگا اس آبادی کے لوگوں پر قسامت و دیت ہے اور اگر کسی جگہ آواز نہیں پہنچتی ہے تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۵۱ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۹۳ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۱ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۸۹ ج ۷)

مسئلہ ۲۳ : اگر دو بستیوں کے درمیان مقتول پایا جائے اور دونوں جگہوں کا فاصلہ وہاں سے برابر ہو اور دونوں جگہ آواز پہنچتی ہو تو دونوں بستیوں والوں پر دیت نصف نصف ہوگی، اگرچہ ان کے افراد کی تعداد مختلف ہو۔ (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶)

مسئلہ ۲۴ : اگر کسی شخص کے گھر میں مقتول پایا جائے تو اس کے عاقلہ اس وقت دیت ادا کریں گے جب گواہوں سے یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہ گھر اس کی ملکیت ہے (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۶ ج ۸)

مسئلہ ۲۵ : اگر کسی شخص کے گھر میں مقتول پایا جائے اور اس گھر میں مالک کے غلام یا آزاد ملازم رہتے ہوں تو قسامت و دیت گھر کے مالک پر ہوگی۔ ملازمین یا غلاموں پر نہیں ۔ (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶)

مسئلہ ۲۶ : ملک مشترک میں اگر قتیل پایا جائے تو سب مالکوں پر دیت برابر برابر لازم ہوگی جس کو ان کے عواقل ادا کریں گے اگرچہ ملک میں ان کے حصے کم و بیش ہوں ۔ (عالمگیری ص ۸۰ ج ۶، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۵۲ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۳ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۵ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۳ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۳ ج ۷)

مسئلہ ۲۷: اگر کسی ایسے شخص کے گھر میں مقتول پایا جائے جس کی شہادت مقتول کے حق میں مقبول نہیں ہوتی ہے یا عورت اپنے شوہر کے گھر میں مقتول پائی جائے تو ان صورتوں میں بھی قسامت و دیت لازم ہوگی اور مالک مکان میراث سے محروم نہیں ہوگا۔ (عالمگیری از محیط سرخسی ص ۸۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۶۱ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۳ ج ۳، مبسوط ص ۱۱۶ ج ۲۶)

مسئلہ ۲۸ : اگر کسی ایسی عورت کے گھر میں مقتول پایا جائے جو ایسے شہر میں رہتی ہے کہ وہاں اس کا کوئی رشتہ دار نہیں رہتا، تو اس عورت سے پچاس مرتبہ قسم لی جائے گی اس کے بعد اس کے قریب ترین رشتہ داروں پر دیت لازم ہوگی۔ اگر اس کے رشتہ دار بھی اس شہر میں رہتے ہیں تو وہ بھی عورت کے ساتھ قسامت میں شریک ہوں گے۔ (عالمگیری از کفایہ ص ۸۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۹ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۲ ج ۳، علی الہندیہ ،مبسوط ص ۱۲۰ ج ۲۶)

مسئلہ ۲۹ : اگر کسی بچے یا پاگل کے گھر میں مقتول پایا جائے تو بچے اور پاگل سے قسم نہیں لی جائے گی بلکہ ان کے عاقلہ سے قسم بھی لی جائے گی اور دیت بھی لی جائے گی (عالمگیری از ذخیرہ ص ۸۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۶۱ ج ۵)

مسئلہ ۳۰ : اگر یتیموں کے گھر میں مقتول پایا جائے یا ان کے محلہ میں پایا جائے تو ان یتیموں میں جو بالغ ہے اس سے قسم لی جائے گی اور دیت سب کے عاقلہ پر ہوگی۔ اور اگر ان میں سے کوئی بالغ نہیں ہے تو قسامت و دیت دونوں سب کے عاقلہ پر واجب ہیں ۔ (عالمگیری از محیط سرخسی ص ۸۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۶۱ ج ۵، مبسوط ص ۱۲۱ ج ۲۶)

مسئلہ ۳۱ : اگر کسی ذمی کے گھر میں مقتول پایا جائے تو اس سے پچاس مرتبہ قسم لی جائے گی۔ اس کے بعد اگر ان ذمیوں میں یہ رواج ہے کہ دیت ان کے عاقلہ ادا کرتے ہیں تو ان کے عاقلہ سے دیت وصول کی جائے گی ورنہ اس کے مال سے ادا کی جائے گی۔ (عالمگیری از ذخیرہ ص ۸۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۶۱ ج ۵)

مسئلہ ۳۲ (الف) :اگر کسی قوم کی مملوکہ چھوٹی نہر میں مقتول پایا جائے تو اس نہر کے مالکوں پر قسامت اور ان کے عاقلہ پر دیت واجب ہے (عالمگیری از ذخیرہ ص ۸۲ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۳ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۴ ج۶، درمختار و شامی ص ۵۵۷ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۷ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۸ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۰ ج ۷)

مسئلہ ۳۲ (ب) : اگر کسی بڑی بہتی ہوئی نہر میں مقتول بہتا ہوا پایا جائے اور وہ نہر دارالاسلام سے نکلی ہے تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی اور اگر وہ نہر دارالحرب سے نکلی ہے تو اس کا خون رائیگاں جائے گا۔ اور اگر لاش نہر کے کنارے پر اٹکی ہوئی ہے اور اس کنارے کے اتنے قریب کوئی آبادی ہے جہاں تک اس جگہ کی آواز پہنچ سکتی ہے تو اس آبادی والوں پر دیت واجب ہوگی اور اگر وہاں تک آواز نہیں پہنچ سکتی تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی۔ (عالمگیری از ذخیرہ ص ۸۲ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۵۷ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۷ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۸ ج ۲۶)

مسئلہ ۳۳ : اگر کسی کشتی میں مقتول پایا جائے تو اس کشتی کے سواروں پر قسامت و دیت ہے جس میں ملاح مسافر اور اگر اس میں مالک بھی ہو تو وہ بھی داخل ہے اور چھکڑے کا حکم بھی یہی ہے۔ (عالمگیری ص ۸۲ ج ۶، ہدایہ ص ۶۲۴ ج ۴، درمختار و ردالمحتار ص ۵۵۶ ج۵، تبیین الحقائق ص ۱۷۴ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۶ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۷ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۱ ج ۷)

مسئلہ ۳۴ : اگر کسی جانور کی پیٹھ پر مقتول پایا جائے اور اس جانور کا کوئی سائق یا قائد یا اس پر کوئی سوار ہے تو دیت اسی پر ہے، اور اگر سائق و قائد و راکب تینوں ہیں تو تینوں پر برابر برابر دیت واجب ہوگی۔ اور اگر جانور اکیلا ہے تو قسامت و دیت اس محلہ کے لوگوں پر ہے جہاں اس جانور پر مقتول پایا گیا ہے۔ (عالمگیری ص ۸۲ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۳ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۵۳ ج ۵، ہدایہ ص ۶۲۲ ج ۴، مبسوط ص ۱۱۷ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۲ ج ۷)

مسئلہ ۳۵ : اگر دو آبادیوں کے درمیان کسی جانور پر مقتول پایا جائے اور جانور اکیلا ہو تو جس بستی تک آواز پہنچ سکتی ہو اس کے رہنے والوں پر اور اگر دونوں جگہ آواز پہنچتی ہو تو دونوں بستیوں میں قریب والی کے باشندوں پر قسامت و دیت واجب ہوگی۔ (عالمگیری ص ۸۲ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۳ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۵۳ ج ۵)

مسئلہ ۳۶ : اگر کسی کی افتادہ زمین میں مقتول پایا جائے تو زمین کے مالک اور اس کے قبیلے والوں پر قسامت و دیت ہے اور اگر وہ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہے اور اس کے اتنے قریب کوئی آبادی ہے جس میں وہاں کی آواز سنی جاسکتی ہے تو اس آبادی والوں پر قسامت و دیت واجب ہوگی اور اگر اس کے قریب کوئی آبادی نہیں ہے یا آبادی اس قدر دور ہے کہ و ہاں کی آواز اس آبادی تک نہیں پہنچتی ہے تو اگر اس زمین سے مسلمان کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں مثلا ًوہاں سے لکڑی یا گھاس کاٹتے ہیں ۔ یا وہاں جانور چراتے ہیں تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی۔ اور اگر وہ زمین انتفاع کے قابل ہی نہیں ہے تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا۔ (عالمگیری از محیط سرخسی ص ۸۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۳ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۵۴ ج ۵)

مسئلہ ۳۷ : اگر کسی پل پر مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی اور اگر شہر کے اردگرد کی خندق میں مقتول پایا جائے تو اس کا حکم شارع عام پر پائے جانے والے مقتول کا سا ہے (عالمگیری از محیط سرخسی ص ۸۲ ج ۶)

مسئلہ ۳۸ : مسلمان لشکر کسی مباح زمین میں جو کسی شخص کی ملکیت نہ تھی پڑائو ڈالے ہوئے تھا۔ ان میں سے کسی لشکری کے خیمے میں مقتول پایا جائے تو اس خیمے والوں پر دیت و قسامت ہے اور اگر خیمے کے باہر پایا جائے اور لشکریوں کے قبائل الگ الگ ٹھہرے ہوں تو جس قبیلے میں پایا جائے گا اس قبیلے پر دیت و قسامت ہے اور اگر دو قبیلوں کے درمیان پایا جائے تو قریب والے قبیلے پر قسامت و دیت ہے اور اگر دونوں کا فاصلہ برابر ہو تو دونوں پر قسامت و دیت ہے (عالمگیری ص ۸۲ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۶۰ ج ۵، مبسوط ص ۱۱۹ ج ۲۶)

مسئلہ ۳۹ : اگر لشکریوں کے قبیلے ملے جلے ٹھہرے ہوں اور مقتول کسی کے خیمے میں پایا گیا تو صرف اس خیمے والوں پر ہی قسامت و دیت واجب ہوگی اور اگر خیمے سے باہر پایا جائے تو سب لشکر پر قسامت و دیت واجب ہوگی (عالمگیری از محیط ص ۸۲ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۶۱ ج ۵)

مسئلہ ۴۰ : مسلمانوں کا لشکر کسی کی مملوکہ زمین میں پڑائو ڈالے ہوئے تھا تو ہر صورت میں زمین کے مالک پر قسامت و دیت واجب ہے۔ (عالمگیری از محیط ص ۸۲ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۷۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۹۲ ج ۷، درمختار و شامی ص ۵۶۱ ج ۵)

مسئلہ ۴۱ : اگر مسلمان لشکر کا کافروں سے مقابلہ ہوا پھر وہاں کوئی مسلمان مقتول پایا گیا تو کسی پر قسامت و دیت نہیں اور اگر دو مسلمان گروہوں میں مقابلہ ہوا اور ان میں سے ایک گروہ باغی اور دوسرا حق پر تھا اور جو مقتول پایا گیا وہ اہل حق کی جماعت کا تھا تو کسی پر کچھ نہیں ہے (عالمگیری از محیط ص ۸۲ ج ۶)

مسئلہ ۴۲ : اگر کسی مقفل مکان میں مقتول پایا جائے تو گھر کے مالک پر قسامت و دیت ہے (عالمگیری از محیط ص ۸۳ ج ۶، شامی ص ۵۵۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۵ ج ۸)

مسئلہ ۴۳ : اگر کوئی شخص اپنے باپ یا ماں کے گھر میں مقتول پایا جائے یا بیوی شوہر کے گھر میں مقتول پائی جائے توا س میں قسامت ہے اور دیت عاقلہ پر ہے۔ مگر مالک مکان میراث سے محروم نہیں ہوگا۔ (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۳ ج ۳)

مسئلہ ۴۴ : اگر کسی ایسے ویران محلے میں جس میں کوئی شخص نہیں رہتا ہے مقتول پایا جائے تو اس کے اتنے قریب کی آبادی پر قسامت و دیت واجب ہے۔ جہاں تک وہاں کی آواز پہنچتی ہے۔ (بحرالرائق ص ۳۹۴ ج ۸)

مسئلہ ۴۵ : اگر کسی جگہ دو گروہوں میں عصبیت کی وجہ سے تلوار چلی پھر ان لوگوں کے متفرق ہو جانے کے بعد وہاں کوئی مقتول پایا گیا تو اہل محلہ پر قسامت و دیت ہے۔ مگر جب ولی مقتول ان متحاربین پر یا ان میں سے کسی معین شخص پر قتل کا دعوی کرے تو اہل محلہ بری ہوجائیں گے اور متحاربین کے خلاف غیر اہل محلہ میں سے دو گواہ اگر اس بات کی گواہی دیں کہ مدعی علیہم نے قتل کیا ہے تو قصاص یا دیت واجب ہوگی ورنہ وہ بھی بری ہو جائیں گے۔ (درمختار و شامی ص ۵۵۸ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۹۷ ج ۸)

مسئلہ ۴۶ : اگر کسی کا جانور کسی جگہ مردہ پایا جائے تو اس میں کچھ نہیں ہے (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۳ ج ۳، درمختار ص ۵۶۱ ج ۵، فتح القدیر ص ۳۸۴ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۶ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۸۸ ج ۷)

مسئلہ ۴۷ : اگر جیل خانے میں کوئی مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی (ہدایہ ص ۶۲۵ ج ۴، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۵۲ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۷۴ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۹۷ ج ۸، مبسوط ص ۱۱۲ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۰ ج ۷)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button