بہار شریعت

باب اعتبار حالتہ القتل

باب اعتبار حالتہ القتل

مسئلہ ۲۱۱ : قتل میں آلہ قتل کے استعمال کرنے کے وقت کی حالت معتبر ہے (بحرالرائق ص ۳۲۶ ج ۸، تبیین ص ۱۳۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۳ ج ۵)

مسئلہ ۲۱۲ : کسی شخص نے مسلمان کو تیر مارا قبل اس کے کہ تیر اسے لگے معاذ اللہ وہ مرتد ہوگیا اس کے بعد تیر لگا اور وہ مرگیا تو مقتول کے ورثاء کے لئے تیر مارنے والے پر دیت واجب ہے اور اگر مرتد کو تیر مارا اور تیر لگنے سے پہلے وہ مسلمان ہوگیا اور پھر تیر لگنے سے مرگیا تو تیر مارنے والے پر کچھ تاوان نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۲۳ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۲۴ ج ۶، درمختار و شامی ۵۰۳ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۲۶ ج ۸، فتح القدیر و عنایہ ص ۲۹۲ ج ۸)

مسئلہ ۲۱۳ : کسی شخص نے غلام کو تیر مارا تیر لگنے سے قبل اس کے مولا نے اسے آزاد کر دیا تو تیر مارنے والے پر غلام کی قیمت لازم ہوگی۔ (عالمگیری ص ۲۳ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۲۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۳ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۲۶ ج ۸، فتح القدیر و عنایہ ص ۲۹۲ ج ۸)

مسئلہ ۲۱۴ : اگر کسی نے کسی قاتل کو قصاص معاف کر دینے کے بعد قتل کر دیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ (بدائع صنائع ص ۲۴۷ ج ۷)

مسئلہ ۲۱۵ : کسی کافر نے شکار کو تیر مارا اور شکار کو تیر لگنے سے پہلے وہ مسلمان ہوگیا تو وہ گوشت حرام ہے اور اگر مسلمان نے مارا اور معاذ اللہ لگنے سے پہلے وہ مرتد ہوگیا تو وہ گوشت حلال ہے۔ (بحرالرائق ص ۳۲۶ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۲۵ ج ۶، فتح القدیر ص ۳۰۰ ج ۸، عالمگیری ص ۲۳ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۳ ج ۵)

مسئلہ ۲۱۶ : حکومت عدل یعنی انصاف کے ساتھ تاوان لینے کا طریقہ یہ ہے کہ اس شخص کو غلام فرض کر کے یہ اندازہ کیا جائے کہ جنایت کے اثر کی وجہ سے اس کی قیمت میں کس قدر کمی آگئی۔ یہ کمی حکومت عدل کہلائے گی۔ مثلاً غلام کی قیمت کا دسواں حصہ کم ہوگیا تو وہاں دیت کا دسواں حصہ لازم ہوگا۔ یا قیمت نصف رہ گئی تو نصف دیت لازم ہوگی۔ (قاضی خان ص ۳۸۵ ج ۴، شامی ص ۴۹۴ ج ۵)

مسئلہ ۲۱۷ : یا ان زخموں میں سے جن میں شارع نے ارش معین کیا ہے کسی قریب ترین جگہ کے زخم کے ساتھ اس زخم کا مقابلہ دو ماہر عادل جراحوں سے کرا کے یہ معلوم کیا جائے گا کہ اس زخم کو اس زخم سے کیا نسبت ہے؟ اور قاضی ان کے قول کے مطابق اس زخم سے اس زخم کو جو نسبت ہو اسی نسبت سے ارش کا حصہ متعین کر دے۔ مثلا یہ زخم اس زخم کا نصف ہے تو نصف اور ربع ہے تو ربع ارش (بدائع صنائع ص ۳۲۴ ج ۷)

مسئلہ ۲۱۸ : حکومت عدل جنایات مادون النفس میں سے جن میں قصاص نہیں اور شارع نے کوئی ارش بھی معین نہیں کیا ہے ان میں جو تاوان لازم آتا ہے اس کو حکومت عدل کہتے ہیں ۔ (بدائع صنائع ص ۳۲۳ ج ۷، شامی ص ۵۱۱ ج ۵)

کتاب الدیات

مسئلہ ۲۱۹ : دیت اس مال کو کہتے ہیں جو نفس کے بدلے میں لازم ہوتا ہے۔ اور ارش اس مال کو کہتے ہیں جو مادون النفس میں لازم ہوتا ہے۔ اور کبھی ارش اور دیت کو بطور مترادف بھی بولتے ہیں (عالمگیری ص ۲۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۴ ج ۵)

مسئلہ ۲۲۰ : قطع و قتل کی چار صورتوں میں دیت واجب ہوتی ہے۔ (۱)) قتل خطا (۲) شبہ عمد (۳) قتل بالسبب (۴) قائم مقام خطا۔ ان سب صورتوں میں دیت عصبات پر واجب ہوتی ہے۔ سوائے اس صورت میں کہ باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو اس کو اپنے مال میں دیت واجب ہوگی اور ہر اس قتل و قطع عمد میں جس میں کسی شبہ کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جائے مجرم کے اپنے مال میں دیت واجب ہوگی۔ اور جنایت عمد کی صلح کا مال بھی مجرم کے مال سے ادا کیا جائے گا۔ (ہندیہ ص ۲۴ ج ۶، قاضی خان ص ۳۹۲ ج ۴)

مسئلہ ۲۲۱ : دیت صرف تین قسم کے مالوں سے ادا کی جائے گی۔ (۱) اونٹ ایک سو (۲) دینار ایک ہزار (۳) درہم دس ہزار۔ قاتل کو اختیار ہے کہ ان تینوں میں سے جو چاہے ادا کرے۔ (عالمگیری از محیط ص ۲۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۲۲ : اونٹ سب ایک عمر کے واجب نہیں ہوں گے بلکہ مختلف العمر لازم آئیں گے۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ خطا قتل کی صورت میں پانچ قسم کے اونٹ دیئے جائیں گے۔ بیس بنت مخاض یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو اور بیس ابن البون یعنی اونٹ کے وہ نر بچے جو تیسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں اور بیس بنت لبون یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو اور بیس حقے یعنی اونٹ کے وہ بچے جو عمر کے چوتھے سال میں داخل ہوچکے ہوں اور بیس جذعہ یعنی وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے اور شبہ عمد میں ، پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون اور پچیس حقے اور پچیس جذعے صرف یہ چار قسمیں دی جائیں گی۔ (عالمگیری ۲۴ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۴ ج ۵)

مسئلہ ۲۲۳ : مسلم ،ذمی، مستامن سب کی دیت ایک برابر ہے اور عورت کی دیت نفس مادون النفس میں مرد کی دیت کی نصف دی جائے گی اور وہ جنایات جن میں کوئی دیت معین نہیں ہے بلکہ انصاف کے ساتھ تاوان دلایا جاتا ہے ان میں مرد و عورت کا تاوان برابر ہوگا۔ (شامی ص ۵۰۵ ج ۵، عالمگیری ۲۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۲۴ : خنثی کا ہاتھ عمداً کاٹنے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اگرچہ قاطع عورت ہو اور خنثی سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا اور اگر اس کو کسی نے خطا ًقتل کر دیا یا ہاتھ پیر کاٹ دیئے تو عورت کی دیت یعنی مرد کی نصف دیت دے دی جائے گی جب آثار رجولیت ظاہر ہوں گے تو بقیہ نصف بھی اس کو دے دی جائے گی۔ (شامی ص ۵۰۵ ج ۵، از الاشباہ والنظائر)

مسئلہ ۲۲۵ : مقتول کی دیت کے مستحقین میں ایک نابالغ بچہ اور ایک بالغ شخص ہے جو آپس میں باپ بیٹے ہیں تو باپ کل دیت پر قبضہ کر لے گا اور اگر وہ آپس میں بھائی بھائی یا چچا بھتیجے ہیں اور بالغ نابالغ کا ولی نہیں ہے تو بالغ صرف اپنے حصے پر قبضہ کرے گا، نابالغ کے حصے پر نہیں ۔ (عالمگیری ص ۲۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۲۶ : اگر کوئی کسی کا سر بالجبر مونڈ دے تو ایک سال تک انتطار کیا جائے گا۔ اگر ایک سال میں سر پر بال اگ آئیں تو حالق پر کچھ تاوان نہیں ہے۔ ورنہ پوری دیت واجب ہوگی۔ اس میں مرد، عورت، صغیر و کبیر سب کا حکم یکساں ہے اور اگر جس کا سر مونڈا گیا تھا، وہ سال گزرنے سے پہلے مرگیا اور اس وقت تک اس کے سر پر بال نہیں اگے تھے تو حالق کے ذمے کچھ نہیں ہے (عالمگیری ص ۲۴ ج ۶، بحرالرائق ۳۳۱ ج ۸، عنایہ و ہدایہ ص ۳۰۹ ج ۸)

مسئلہ ۲۲۷ : اگر کسی نے کسی کی دونوں بھنوئوں کو اس طرح اکھیڑا یا مونڈا کہ آئندہ بال اگنے کی امید نہ رہی تو پوری دیت لازم ہوگی اور ایک میں نصف دیت (ہدایہ و عنایہ ص ۳۰۹ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۰۷ ج ۵، عالمگیری ص ۲۴ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۲۹ ج ۶)

مسئلہ ۲۲۸ : چاروں پپوٹوں سے پلک اس طرح اکھیڑ دیئے جائیں کہ آئندہ بال نہ جمیں تو پوری دیت واجب ہے۔ دو پلکوں میں نصف دیت اور ایک پلک میں ربع دیت واجب ہے (درمختار و شامی ص ۵۰۸ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۳۱ ج ۸، عالمگیری ص ۲۴ ج ۶، ہدایہ و عنایہ ص ۳۱۰ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۲۹ ج ۶)

مسئلہ ۲۲۹ : اگر کسی مرد کی پوری داڑھی اس طرح مونڈ دی کہ ایک سال تک بال نہ اگے تو پوری دیت واجب ہے اور نصف میں نصف دیت اور نصف سے کم میں انصاف کے ساتھ تاوان لیاجائے گا اور سال سے پہلے مرگیا تو کچھ تاوان نہیں لیا جائے گا۔ سر اور داڑھی کے مونڈنے میں عمد و خطا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (درمختار و شامی ص ۵۰۷ ج ۵، عالمگیری ص ۲۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۰ : کوسج، یعنی جس کی داڑھی نہ اگے، اگر اس کی ٹھڈی پر چند بال تھے اور وہ کسی نے مونڈ دیئے تو کچھ لازم نہیں ہے۔ اور اگر ٹھڈی اور رخساروں پر چند متفرق بال ہیں تو ان کے مونڈنے والے پر انصاف کے ساتھ تاوان ہے اور اگر ٹھڈی اور رخساروں پر چھدرے بال ہیں تو پوری دیت ہے۔ کیوں کہ یہ کوسج ہی نہیں ہے یہ حکم اس صورت میں ہے کہ مونڈنے کے بعد ایک سال تک بال نہ اگیں ، لیکن اگر سال کے اندر حسب سابق بال اگ آئیں تو کچھ تاوان نہیں ہے، لیکن تنبیہہ کے طور پر سزا دی جائے گی اور اگر سال تمام ہونے سے پہلے مرگیا اور اس وقت تک بال نہ اگے تو کچھ نہیں اور اگر دوبارہ سفید بال اگے تو اگر سفیدی کی عمر ہے تو کچھ نہیں اور اس عمر سے پہلے سفید نکلے تو آزاد اور غلام دونوں میں انصاف کے ساتھ تاوان واجب ہوگا سر اور داڑھی وغیرہ ہر جگہ کے بالوں میں صرف اس صورت میں تاوان لازم ہوتا ہے کہ ایک سال تک نہ اگیں ورنہ نہیں ، اور سال تمام ہونے سے پہلے مر جانے کی صورت میں کوئی تاوان لازم نہیں آتا ہے (تبیین الحقائق ص ۱۲۹ ج ۶، فتح القدیر و ہدایہ و عانیہ ص ۳۰۹ ج ۸، شامی و درمختار ص ۵۰۷ ج ۵، عالمگیری ص ۲۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۱ : کسی کی داڑھی بالجبر مونڈ دی پھر چھدری اگی، یعنی کہیں بال اگے اور کہیں نہیں اگے تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (قاضی خان ص ۳۸۵ ج ۴، عالمگیری ص ۲۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۲ : اگر مونچھیں اور داڑھی دونوں مونڈ دیں تو صرف ایک دیت واجب ہوگی۔ اور اگر صرف مونچھیں مونڈیں تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (شامی ص ۵۰۷ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۳۰ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۳ : اگر عورت کی داڑھی مونڈوی تو کچھ نہیں ہے۔ (شامی از جوہرہ غیرہ ص ۵۰۷ ج ۵)

مسئلہ ۲۳۴ : اگر سر مونڈنے والا کہتا ہے کہ جس کا سر میں نے مونڈا ہے وہ چندلا تھا۔ اس لئے چندلی جگہوں پر بال نہیں اگے ہیں تو جتنی جگہ پر بال ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ اس کے بقدر حصہ دیت دے گا۔ اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ داڑھی مونڈنے کے بعد کہے کہ کوسج تھا اور اس کے رخساروں پر بال نہ تھے یا بھنویں اور پلکیں مونڈنے کے بعد کہے کہ بال نہ تھے۔ ان سب صورتوں میں مونڈنے والے کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا۔ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں اور اگر گواہ ہیں تو اس کی بات مانی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۵ : اعضاء کی دیت میں قاعدہ یہ ہے کہ اعضاء پانچ قسم کے ہیں (۱) ایک ایک جیسے ناک، زبان ،ذکر (۲) دو دو جیسے آنکھیں ، کان، بھنویں ، ہونٹ، ہاتھ، پیر، عورت کے پستان، خصیتین (۳) چار ہوں جیسے پپوٹے (۴) دس ہوں ، جیسے ہاتھوں کی انگلیاں ، پیروں کی انگلیاں (۵) دس سے زائد ہوں ، جیسے دانت۔ اگر جنایت کی وجہ سے حسن صورت یا منفعت عضوی بالکل فوت ہو جائے تو پوری دیت نفس لازم ہوگی (تبیین ص ۱۲۹ ج ۶، شامی ص ۵۰۵ ج ۵) ۔ اور اگر حسن صوری یا منفعت عضوی پہلے ہی ناقص تھی۔ اس کو ضائع کر دیا جیسے گونگے کی زبان یا خصی یا عنین کا ذکر یا کسی کا شل ہاتھ یا لنگڑے کا پیر یا کسی کی اندھی آنکھ یا کسی کا کالا دانت اکھیڑ دیا تو ان اعضاء میں قصداً جنایت کی صورت میں بھی قصاص نہیں ہے اور خطا ئً میں دیت بھی نہیں بلکہ حکومت عدل ہے۔ (عنایہ ہدایہ ص ۳۰۷ ج ۸، شامی ص ۵۰۶ ج ۵)

مسئلہ ۲۳۶ : اگر قسم اول کا عضو کاٹا تو اس میں پوری دیت ہے اور اگر قسم ثانی کے دونوں عضو کو کاٹا تو پوی دیت ہے اور ایک میں نصف دیت اور اگر تیسری قسم کے چاروں اعضاء کو ضائع کیا تو پوری دیت ہے۔ دو میں نصف دیت اور ایک میں چوتھائی دیت ہے اور اگر چوتھی قسم کے دسوں انگلیوں کو کاٹا تو پوری دیت ہے۔ اور ایک میں دسواں حصہ ہے اور اگر پانچویں قسم یعنی سب دانت توڑ دیئے تو پوری دیت ہے اور ایک میں بیسواں حصہ (تبیین الحقائق ص ۱۳۰ ج ۶، شامی ص ۵۰۵ ج ۵، مبسوط ص ۶۸ ج ۲۶)

مسئلہ ۲۳۷ : اگر دونوں کان خطا ًکاٹ دیئے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ ایک میں نصف دیت ہے۔ اور اگر بوچہ بنا دیا تو حکومت عدل ہے۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۸ : اگر کان پر ایسی ضرب لگائی کہ بہرا ہوگیا تو پوری دیت واجب ہوگی۔ (تبیین ص ۱۳۱ ج ۶، عالمگیری ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۳۹ : خطائً دونوں آنکھیں پھوڑ دینے کی صورت میں پوری دیت اور ایک میں نصف دیت ہے اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ آنکھیں نہ پھوٹیں مگر بینائی جاتی رہے۔ (عالمگیری ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۴۰ : کانے کی اچھی آنکھ پھوڑ دینے سے نصف دیت لازم ہوگی۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۴۱ : اگر پپوٹوں کو مع پلکوں کے کاٹ دیا تب بھی ایک ہی دیت ہے۔ (تبیین ص ۱۳۱ ج ۶، ہدایہ فتح القدیر و عنایہ ص ۳۱۰ ج ۸، عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۸ ج ۵)

مسئلہ ۲۴۲ : اگر ایسے پپوٹے کو کاٹا جس پر بال نہ تھے تو حکومت عدل ہے اور اگر ایک نے پلک کاٹے اور پپوٹے دوسرے نے تو پپوٹے کاٹنے والے پر پوری دیت ہے اور پلک کاٹنے والے پر حکومت عدل ہے۔ (عالمگیری از محیط ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۴۳ : اگر کسی نے کسی کی پوری ناک کاٹ دی یا ناک کا نرم حصہ کاٹ دیا یا نرم حصے میں سے کچھ کاٹ دیا تو پوری دیت واجب ہے۔ (صنائع بدائع ص ۳۰۸ ج ۷، بحرالرائق ص ۳۲۹ ج ۸، قاضی خان ص ۳۸۵ ج ۴، درمختار و شامی ص ۵۰۶ ج ۵، عالمگیری ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۴۴ : اگر ناک کی نوک کاٹ دی تو اس میں حکومت عدل ہے۔ (درمختار ص ۵۰۶ ج ۵)

مسئلہ ۲۴۵ : کسی نے کسی کی ناک توڑ دی یا اس پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ ناک سے سانس لینے کے قابل نہیں رہا۔ صرف منہ سے سانس لے سکتا ہے تو اس میں حکومت عدل ہے۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۲۹ ج ۸)

مسئلہ ۲۴۶ : کسی کی ناک پر ایسی ضرب لگائی کہ سونگھنے کی قوت ضائع ہوگئی تو پوری دیت واجب ہوگی۔ (قدوری ہدایہ ص ۵۸۷ ج ۴، عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۲۹ ج ۸، قاضی خان ص ۳۸۵ ج ۴)

مسئلہ ۲۴۷ : کسی نے پہلے ناک کا نرم حصہ کاٹا پھر اچھا ہونے کے بعد پوری ناک کاٹ دی تو نرم حصے کی پوری دیت اور باقی میں حکومت عدل ہے۔ اور اگر اچھے ہونے سے پہلے پوری ناک کاٹ دی تو ایک ہی دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۲۹ ج ۸)

مسئلہ ۲۴۸ : اگر دونوں ہونٹ کاٹ دیئے تو پوری دیت واجب ہوگی اور ایک میں نصف دیت اور اوپر نیچے کے ہونٹوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، درمختار ص ۵۰۷ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۲۹ ج ۶، صنائع بدائع ص ۳۱۴ ج ۷)

مسئلہ ۲۴۹ : بچہ کے کان اور ناک میں بھی پوری دیت ہے (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۵۰ : ہر دانت کے ضائع کرنے پر دیت کا بیسواں حصہ ہے۔ سامنے کے دانتوں ، کیلوں اور ڈاڑھوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۳۲ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۳۱ ج ۶، مبسوط ۷۱ ج ۲۶)

مسئلہ ۲۵۱ : کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد دوسرا اس جیسا دانت آیا تو دیت ساقط ہو جائے گی اور اگر دوسرا دانت کالا اگا تو دیت ساقط نہیں ہوگی۔ (تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶، عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، بحرالرئق ص ۳۴۰ ج ۸)

مسئلہ ۲۵۲ : کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا جس کا دانت اکھڑا تھا اس نے اکھڑا ہوا دانت اپنی جگہ پر لگا دیا اور وہ جم گیا تو اگر حسن صوری اور منفعت میں کوئی فرق نہیں آیا تو دیت نہیں ہے ورنہ دانت کی پوری دیت واجب ہے۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، درمختار و شامی ۵۱۵ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶، مجمع الانہر ملتقی الابہر ص ۶۴۷ ج ۶، طحطاوی ص ۲۸۴ ج ۴)

مسئلہ ۲۵۳ : کسی نے کسی کے دانت پر ایسی ضرب لگائی کہ دانت ہل گیا تو ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اگر اس مدت میں دانت سرخ، سبز یا سیاہ پڑ گیا اور چبانے کے قابل نہیں رہا تو دانت کی پوری د یت واجب ہوگی اور اگر چبانے کے قابل ہے لیکن رنگ بدل گیا تو سامنے کے دانتوں میں حسن صوری فوت ہو جانے کی وجہ سے دانت کی پوری دیت واجب ہوگی اور ڈاڑھوں اور کیلوں میں نہیں ہے۔ اور اگر چبانے کے قابل ہے لیکن رنگ پیلا پڑ گیا تو دیت واجب نہیں ہوگی۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، قاضی خان ص ۳۸۷ ج ۴، تبیین ص ۱۳۷ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۴۰ ج ۸)

مسئلہ ۲۵۴ : اگر ضارب کہتا ہے کہ میری ضرب سے رنگ نہیں بدلا بلکہ میری ضرب کے بعد کسی دوسری ضرب سے رنگ بدلا ہے اور مضروب اس کی تکذیب کرتا ہے۔ تو اگر ضارب اپنے قول پر گواہ پیش کر دے تو اس کی بات مان لی جائے گی۔ ورنہ قسم کے ساتھ مضروب کا قول معتبر ہوگا۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶)

زبان کی دیت

مسئلہ ۲۵۵ : کسی نے کسی کی پوری زبان کاٹ دی یا اس قدر کاٹ دی کہ کلام پر قادر نہ رہا تو پوری دیت نفس واجب ہے اور اگر بعض حروف کے ادا کرنے پر قادر ہے اور بعض پر نہیں تو یہ دیکھا جائے گا کہ کتنے حروف ادا کر سکتا ہے۔ جتنے حروف ادا کرسکتا ہے اس کے بقدر دیت ساقط ہو جائے گی مثلاً اگر آدھے حروف ہجا ادا کرسکتا ہے تو آدھی دیت ساقط ہو جائے گی۔ اور اگر چوتھائی حروف ادا کرسکتا ہے تو چوتھائی دیت ساقط ہو جائے گی۔وعلی ہذا القیاس (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، شامی و درمختار ص ۵۰۶ ج ۵، فتح ص ۳۰۸ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۳۰ ج ۸)

مسئلہ ۲۵۶ : اگر زبان کاٹنے والے اور اس شخص میں جس کی زبان کاٹی گئی، یہ اختلاف ہے کہ کلام پر قدرت ہے یا نہیں تو خفیہ طریقے سے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ کلام کرسکتا ہے یا نہیں (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۳۰ ج ۸)

مسئلہ ۲۵۷ : گونگے کی زبان کو کاٹنے کی صورت میں حکومت عدل ہے (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۳۰ ج ۸)

مسئلہ ۲۵۸ : ایسے بچے کی زبان کاٹ دی جس نے ابھی بولنا نہیں شروع کیا، صرف روتا ہے تو حکومت عدل ہے او اگر بولنے لگا ہے تو دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۳۴ ج ۶)

مسئلہ ۲۵۹ : دونوں ہاتھ خطائً کاٹنے کی صورت پوری دیت نفس واجب ہے اور ایک میں نصف۔ اور اس میں داہنے بائیں ہاتھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (عالمگیری ص۲۶ ج ۶، فتح القدیر و ہدایہ ص ۳۱۰ ج ۸، تبیین ص ۱۳۱ ج ۶)

مسئلہ ۲۶۰ : خنثی کا ہاتھ کاٹنے والے پر عورت کے ہاتھ کی دیت واجب ہوگی (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶)

مسئلہ ۲۶۱ : ہر انگلی میں دیت نفس کا دسواں حصہ ہے۔ اور جن انگلیوں میں تین جوڑ ہیں ۔ ایک جوڑ پر انگلی کی دیت کا تہائی حصہ ہے اور جن میں دو جوڑ ہیں ان میں ایک جوڑ پر انگلی کی د یت کا نصف حصہ ہے۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۳۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۸ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۳۲ ج ۸، مبسوط ص ۷۵ ج ۲۶، قاضی خان ص ۳۸۵ ج ۴)

مسئلہ ۲۶۲ : زائد انگلی کاٹنے پر حکومت عدل ہے۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۱۳ ج ۵، ہدایہ فتح القدیر ص ۳۱۶ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۳۷ ج ۸)

مسئلہ ۲۶۳ : شل ہاتھ یا لنگڑا پیر کاٹنے پر حکومت عدل ہے (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، قاضی خان ص ۳۸۶ ج ۴)

مسئلہ ۲۶۴ : کسی نے کسی کی ایسی ہتھیلی کو کاٹ دیا جس میں پانچوں انگلیاں یا چار یا تین یا دو یا ایک انگلی یا کسی انگلی کا صرف ایک پورا لگا ہوا تھا تو انگلیوں یا پورے کی دیت ہوگی اور ہتھیلی کی کچھ دیت نہیں ہوگی۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۳۶ ج ۸، مبسوط ص ۸۲ ج ۲۶، شامی و درمختار ص ۵۱۲ ج ۵، ہدایہ و فتح القدیر ص ۳۱۶ ج ۸، بدائع صنائع ص ۳۱۸ ج ۷)

مسئلہ ۲۶۵ : اور اگر ایسی ہتھیلی کو کاٹا جس میں نہ کوئی انگلی تھی اور نہ کسی انگلی کا جوڑ تھا تو ایسی ہتھیلی میں حکومت عدل ہے اور یہ تاوان ایک انگلی کی دیت سے کم ہوگا۔ (بحرالرائق ص ۳۳۷ ج ۸، شامی ص ۵۱۲ ج ۵، مبسوط ص ۸۲ ج ۲۶)

مسئلہ ۲۶۶ : کسی کے ہاتھ پر ایسا مارا کہ ہاتھ شل ہوگیا، تو ہاتھ کی پوری دیت واجب ہوگی جو دیت نفس کی نصف ہوگی۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۹ ج ۵)

مسئلہ ۲۶۷ : اگر کلائی یا بازو توڑ دیا تو حکومت عدل ہے (عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، مبسوط ص ۸۰ ج ۲۶، قاضی خان ص ۳۸۶ ج ۴)

مسئلہ ۲۶۸ : کسی کی انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جس کی وجہ سے باقی انگلی یا پورا ہاتھ ایسا شل ہوگیا کہ قابل انتفاع نہیں رہا تو پوری انگلی کی یا پورے ہاتھ کی دیت ہوگی اور اگر قابل انتفاع ہے تو پورے کی دیت اور شل حصہ میں حکومت عدل ہوگی (شامی ص ۵۱۳ ج ۵، عالمگیری ص ۲۶ ج ۶، فتح القدیر، ہدایہ، عنایہ ۳۱۸ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۳۶ ج ۶، بحرالرائق ۳۳۹ ج ۸)

مسئلہ ۲۶۹ : انگلی کے پورے کا بعض حصہ کاٹنے میں حکومت عدل ہے اگر ناخن جدا کر دیا اور پھر دوسرا ناخن مثل پہلے کے اگ گیا تو ناخن میں کچھ نہیں اور اگر نہ اگا تو حکومت عدل ہے۔ اور اگر خراب اگا تو بھی حکومت عدل ہے۔ مگر نہ اگنے کی صورت سے کم ہوگی۔ (عالمگیری ص ۲۷ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۲۳ ج ۷)

مسئلہ ۲۷۰ : ایسے کمزور چھوٹے بچے کا ہاتھ یا پیر یا ذکر کاٹ دیا جس نے ابھی ہاتھ پیر ہلائے تک نہ تھے اور ذکر میں حرکت نہ تھی تو حکومت عدل ہے۔ اور اگر ہاتھ پیر ہلاتا تھا اور ذکر میں حرکت تھی تو پوری دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۲۷ ج ۶، سراج الوہاج، بدائع صنائع ص ۳۲۳ ج ۷، قاضی خان ص ۳۸۲ ج ۴)

مسئلہ ۲۷۱ : مرد کے دونوں پستان کاٹنے میں حکومت عدل ہے اور اگر صرف گھنڈیاں کاٹی ہیں تو اس سے کم حکومت عدل ہے اور اگر ایک پستان کاٹا تو اس کا نصف ہے اور ایک گھنڈی کاٹی تو اس کا نصف ہے (عالمگیری و شامی ص ۵۰۸ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۳۱ ج ۶)

مسئلہ ۲۷۲ : ہنسلی یا پسلی کی ہڈی توڑ دینے میں حکومت عدل ہے (عالمگیری ص۲۷ ج ۶ از ذخیرہ قاضی خاں ص ۳۸۶ ج ۴)

مسئلہ ۲۷۳ : عورت کے دونوں پستان یا دونوں گھنڈیاں کاٹ دیں تو پوری دیت نفس ہے اور اگر ایک میں نصف دیت نفس ہے اور اس حکم میں صغیرہ و کبیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۲۷ ج ۶، قاضی خان ص ۳۸۵ ، بدائع صنائع ص ۳۱۴ ج ۷، تبیین الحقائق ص ۱۲۹ ج ۶)

مسئلہ ۲۷۴ : کسی کی پیٹھ پر ایسی ضرب لگائی کہ قوت جماع جاتی رہی۔ یا رطوبت نخاعیہ خشک ہوگئی یا کبڑا ہوگیا تو پوری دیت ہے۔ (تبیین الحقائق ص ۱۳۲ ج ۶، عالمگیری ص ۲۷ ج ۶)

مسئلہ ۲۷۵ : اور اگر کبڑا نہ ہوا، اور منفعت جماع بھی فوت نہ ہوئی مگر نشان زخم باقی رہا تو حکومت عدل ہے۔ اور اگر نشان بھی باقی نہ رہا تو اجرت طبیب ہے۔ (عالمگیری ص ۲۷ ج ۶، درمختار و شامی ص ۵۰۹ ج ۵)

مسئلہ ۲۷۶ : اگر کبڑا تھا مگر ضرب کے بعد سیدھا ہوگیا تو کچھ نہیں (تبیین ا لحقائق ص ۱۳۲ ج ۶)

مسئلہ ۲۷۷ : عورت کے سینے کی ہڈی توڑ دی جس سے پانی خشک ہوگیا تو دیت نفس ہے۔ (عالمگیری ص ۲۷ ج )

مسئلہ ۲۷۸ : ذکر کاٹنے کی صورت میں پوری دیت ہے اور خصی کا ذکر کاٹنے کی صورت میں حکومت عدل ہے۔ خواہ اس میں حرکت ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو۔ اور جماع پر قادر ہو یا نہ ہو۔ اور عنین اور ایسا شیخ کبیر جوجماع پر قادر نہ ہو ان کا بھی یہی حکم ہے (عالمگیری ص ۲۷ ج ۶، قاضی خان ص ۳۸۶ ج ۴)

مسئلہ ۲۷۹ : حشفہ کاٹنے کی صورت میں پوری دیت نفس ہے اور اگر پہلے حشفہ کاٹا اس کے بعد مابقی عضو بھی کاٹ دیا تو اگر درمیان میں صحت نہیں ہوئی تھی تو ایک ہی دیت ہے اور اگر درمیان میں صحت ہوگئی تھی تو حشفہ میں پوری دیت نفس اور باقی میں حکومت عدل ہے (عالمگیری ص۲۸ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۲۹ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۱۱ ج ۷)

مسئلہ ۲۸۰ : خصیتین کاٹنے کی صورت میں پوری دیت نفس ہے۔ (بدائع صنائع ص ۳۱۴ ج ۷، عالمگیری ص ۲۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۸۱ : تندرست آدمی کے خصیتین و ذکر خطائً کاٹنے کی صورت میں اگر پہلے ذکر کاٹا اور بعد میں خصیتین تو دو دیتیں لازم ہوں گی اور اگر پہلے خصیتین کاٹے اور پھر ذکر تو خصیتین میں پوری دیت نفس اور ذکر میں حکومت عدل ہے۔ اور اگر رانوں کی جانب سے اس طرح کاٹا کہ سب ایک ساتھ کٹ گئے تب بھی دو دیتیں لازم ہوں گی۔ (عالمگیری ص ۲۸ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۲۴ ج ۷)

مسئلہ ۲۸۲ : اگر خصیتین میں سے ایک کاٹا کہ پانی منقطع ہوگیا تو پوری دیت ہے اور اگر پانی منقطع نہیں ہوا تو نصف دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۲۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۸۳ : اگر دونوں چوتڑ خطائً اس طرح کاٹے کہ کولھے کی ہڈی پر گوشت نہ رہا تو پوری دیت نفس ہے اور اگر گوشت باقی رہ گیا تو حکومت عدل ہے (قاضی خان ص ۳۲۵ ج ۴)

مسئلہ ۲۸۴ : پیٹ پر ایسا نیزہ مارا کہ امساک غذا ناممکن ہوگیا یا مقعد پر ایسا نیزہ مارا کہ پیٹ میں غذا نہیں ٹھہر سکتی یا پیشاب روکنے پر قادر نہ رہا اور سلس البول میں مبتلا ہوگیا یا عورت کے دونوں مخرج پھٹ کر ایک ہوگئے۔ اور پیشاب روکنے کی قدرت نہ رہی تو ان سب صورتوں میں پوری دیت نفس ہے۔ (عالمگیری ص۲۸ ج ۶، قاضی خان ص ۳۸۵ ج ۴)

مسئلہ ۲۸۵ : عورت کی شرم گاہ کو خطائً ایسا کاٹ دیا کہ اس میں پیشاب روکنے کی قدرت نہ رہی یا وہ جماع کے قابل نہ رہی تو پوری دیت نفس ہے۔ (عالمگیری ۲۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۸۶ : عورت کو ایسا مارا کہ وہ مستحاضہ ہوگئی تو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ اگر اس دوران اچھی ہوئی تو کچھ نہیں ورنہ پوری دیت ہے (عالمگیری ص ۲۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۸۷ : ایسی صغیرہ سے جماع کیا جو اس قابل نہ تھی اور وہ مرگئی تو اجنبیہ ہونے کی صورت میں عاقلہ پر دیت ہے اور منکوحہ ہونے کی صورت میں عاقلہ پر دیت ہے اور شوہر پر مہر (عالمگیری ص ۲۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۸۸ : ازالہ عقل، سمع، بصر، شم، کلام، ذوق، انزال، کبھ پیدا کرنے، سر اور داڑھی کے بال مونڈنے، دونوں کان، دونوں بھنوئوں ، دونوں آنکھوں کے پپوٹوں ، دونوں ہاتھوں یا دونوں پیروں کی انگلیوں ، عورت کے پستانوں کی دونوں گھنڈیوں کے کاٹنے میں ، عورت کے مخرجین کا اس طرح ایک کر دینا کہ پیشاب یا پاخانے کے امساک کی قدرت نہ رہے۔ حشفہ، ناک کے نرم حصے، دونوں ہونٹوں ، دونوں جبڑوں ، دونوں چوتڑوں ، زبان کے کاٹنے، چہرے کے ٹیڑھا کر دینے۔ عورت کی شرم گاہ کو اس طرح کاٹ دینے میں کہ جماع کے قابل نہ رہے اور پیٹ پر ایسی ضرب لگانے میں کہ پانی منقطع ہو جائے، پوری دیت نفس ہے۔ بشرط یہ کہ یہ جرائم خطاء ًصادر ہوں ۔ (قاضی خاں ص ۳۸۶ ج ۴)

مسئلہ ۲۸۹ : کسی باکرہ لڑکی کو دھکا دیا کہ وہ گر پڑی اور اس کی بکارت زائل ہوگئی تو دھکا دینے والے پر مہر مثل لازم ہے۔ (قاضی خان ص ۲۸۶ ج ۴، عالمگیری ص ۲۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۹۰ : کسی رسی پر دو آدمیوں نے جھگڑا کیا اور ہر آدمی ایک ایک سرا پکڑ کر کھینچ رہا تھا، تیسرے نے آکر درمیان سے رسی کاٹ دی اور وہ دونوں شخص گر پڑے او مرگئے، رسی کاٹنے والے پر نہ قصاص ہے نہ دیت۔ (قاضی خان ص ۳۸۷ ج ۴)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button