شرعی سوالات

ایڈوانس ضبط کی شرط فاسد ہے ، لیکن معاہدہ فاسد نہیں

سوال :

محمد سعید قریشی نے اپنا مکان 19 جنوری 2012 کو محمد شاہد اقبال کو تین ماہ کی مدت میں ادائیگی کے معاہدے کے تحت فروخت کیا تھا۔ محمد شاہد نے بطور ٹوکن پچاس ہزار روپے سعید قریشی کو دئیے اور گواہان کے سامنے کہا کہ فریقین میں سے کسی کی مجبوری کی صورت میں ایک یا دو ماہ کی مدت کا اضافہ کیا جا سکتا ہے ،لہذا معاہدہ کی مدت پوری ہونے پر باہمی رضامندی سے مزید دو ماہ کا اضافہ کیا ۔اس نئے معاہدے کے وقت شاہد اقبال نے ایک لاکھ پچانوے ہزار روپے ادا کئے ،اس نئے معاہدے کے وقت شاہد اقبال نے اپنی بہن اور میرے گواہ کے سامنے اس بات کی تاکید کی کہ مکان ہر صورت خالی کرنا ہو گا یا قبضہ نہ دینے کی صورت میں ڈبل رقم ادا کرنا ہو گی اور محمد شاہد کی طرف سے مکمل رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں محمد سعید کو دی ہوئی رقم ضبط کر نے کا اختیار ہو گا ،لہذا محمد سعید نے ایک مکان خرید نے کا معاہد ہ کیا جس کا ٹوکن ایک لاکھ پچاس ہزار روپے ادا کیا اور اس مکان کی کل ادائیگی کی تاریخ 27 جون 2012 مقرر کی ۔محمد شاہد اقبال نے نئے معاہدے کی مدت پوری ہونے سے قبل مکمل رقم نہ ہونے کی صورت میں بقیہ رقم کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ جس کے سبب سعید قریشی کی آ گے دوسرے مکان کے لئے دی ہوئی رقم ایک لاکھ پچاس  ہزار روپے اور اسٹیٹ ایجنٹ کو دئیے ہوئے دس ہزار روپے ضائع ہو گئے ۔ مذکورہ رقم کے نقصان کا ذمہ دار کون ہو گا ؟

جواب:

اسلامی تعلیمات کے مطابق تجارت ومعاملات میں دیانت ،امانت ،صداقت اور عہد و پیمان کی پابندی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور یہ خو بیاں اسلامی تعلیمات کا طرہ امتیاز ہیں۔

صورت مسئولہ میں مشتری ( خریدار ) کی جانب سے بائع (فروخت کنندہ) پر یہ شرط گانا فاسد ہے کہ قبضہ نہ دینے کی صورت میں ایڈوانس کی رقم دو گنی واپس کرنی ہو گی ،اسی طرح بائع کی طرف سے یہ شرط کہ مذکورہ مدت میں بقایا رقم نہ دی تو ایڈوانس کی رقم ضبط ہو جائے گی، یہ شروط فاسدہ ہیں لیکن ان سے بیع فاسد نہیں ہوتی بلکہ بیع صحیح منعقد ہو گئی ،اب فریقین پر معاہدے کی تکمیل لازم تھی ۔شریعت میں مالی جرمانہ جائز نہیں ہے ،ہاں ! کوئی شخص اگر کسی شخص کا مال ضائع کر دے تو اس سے مال کی قیمت لی جا سکتی ہے کیونکہ قاعد ہ یہ ہے کہ: المال بالمال یعنی اگر کسی کا حقیقی مالی نقصان ہوجائے تو وہ اس کے بدلے مال لے سکتا ہے۔ شریعت میں تعزیر بالمال منسوخ ہے۔ ایسی صورت میں جب فریقین میں سے کوئی ایک فریق معاہد ہ پورا نہ کر سکے تو دوسرا فریق اس بیع کو اٹھا لے۔

 لہذا شریعت کی رو سے آپ کے لئے محمد شاہد اقبال کی رقم ضبط کرنا جائز نہیں ہے اور آپ نے جس شخص سے معاہدہ کیا تھا، اس کے لئے بھی آپ کی ایڈوانس کی رقم کو بلا معاوضہ ضبط کرنا ناجائز ہے ۔ البتہ اسٹیٹ ایجنٹ نے اگر معاہدہ طے کرنے کا معاوضہ لیا ہے تو وہ اپنی محنت کا معاوضہ لے سکتا ہے ، اگر چہ اخلاقاً ا سے اس طرح نہیں کرنا چاہیے ۔ اور اگر اس نے سودا مکمل ہونے پر فیصد کمیشن یا کوئی بھی مخصوص رقم طے کی تھی تو بیع کے منعقد نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لئے لینا جائز نہیں ہے۔

(تفہیم المسائل، جلد7،صفحہ 308،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button