شرعی سوالات

ایسی کوئی لاٹری جائز نہیں جس میں ممبران میں سے کسی کے مال  کےضیاع کا اندیشہ ہو

ایسی کوئی لاٹری جائز نہیں جس میں ممبران میں سے کسی کے مال  کےضیاع کا اندیشہ ہو

                                  انعامی رقم  اگر کمپنی اپنی طرف سےدے تو قرعہ اندازی کے ذریعے ایسا مال لینا  جائز ہے

سوال:

 کمپنی ممبران سے ماہانہ پانچ روپے جمع کر تی ہے جو ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ اس پر عمرے کا ٹکٹ وغیرہ دیتی ہے، ایسا کرنا کیسا؟ ملخصا

  1. کمپنی بلب کی خریداری پر کوپن دیتی ہے، جسے فل کر کے جمع کروائیں تو قرعہ اندازی پر انعام دیا جاتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟ ملخصا

جواب:

ایسی کوئی لاٹری جائز نہیں جس میں قرعہ اندازی کرنے سے اگر کسی ممبر کا نام نہ نکلے تو اس کا اپنا روپیہ  ختم ہو جائے گا اور جس کا نام نکلا وہ دوسروں کو روپیہ حاصل کر لے، یہ جوا ہے۔ اس قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے کو عمرے کیلئے بھیجا جائے یا نقد روپیہ اسے دیا جائے ۔ فلپس کمپنی نے جس طرح کی قرعہ اندازی بلب خریدنے والوں کیلئے رکھی ہے اس میں انعام کمپنی اپنی طرف سے دیتی ہے۔ خریدار نے بلب خریدنے کیلئے روپیہ دیا تھا قرعہ اندازی میں روپیہ نہیں دیا تھا ، لہذا یہ جائز ہے۔ قرعہ اندازی کے بعد باقی روپیہ کس کام میں خرچ کیا جائے گا یہ جن سے لیا گیا ہے، ان کی اجازت پر موقوف ہے۔ لہذا چندہ لینے سے پہلے یہ طے کر لیا جائے کہ تمام ممبر جس کام میں خرچ کرنے کے لئے کہیں گے اس میں خرچ کیا جائے گا یا رسید پر لکھ دیں کہ کس کام کیلئے چندہ جمع کیا جا رہا ہے۔

(وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 310، بزم وقار الدین، کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button