شرعی سوالات

ایسی ذخیرہ اندوزی جو لوگوں کی تکلیف کا سبب نہ ہو جائز ہے   نیز احتکار ممنوع کی و ضا حت

 :

سوال:

فصل کے موقع پر گندم اکٹھی کرنا اور وقتاً فوقتاً جو موجود نرخ ہو اس کے مطابق فروخت کرتے رہنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

 ایسی تجارت شرعا جائز ہے اور نیک نیتی ہو تو ثواب بھی ہے۔ گندم  میں شرعا ایک صورت تجارت کی ناجائز ہے جسے احتکار کہا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ شہر کا غلہ جمع کر لے اور انتظار گرانی یا انتظار قحط میں رہے اور جلدی فروخت نہ کرے اور لوگوں کی تکلیف کا باعث بنے، اور اگر لوگوں کو فروخت نہ کرنے سے تکلیف نہ ہو تو خرید کر رکھنا احتکار و ناجائز نہیں ، اور یہ شخص تو فروخت کرتا رہتا ہےاور لوگوں کو غلہ جمع کر کے بھوکا نہیں رکھتا تو اس میں کسی کا نقصان نہیں بلکہ زمینداروں کا مفاد ہے، اگر ایسی خرید و فروخت  بھی جائز نہ ہو تو زمیندار بیچارے جنس جمع کر کے رکھیں تو ان کے ضروریات کیسے پورے ہوں ؟ بہر حال یہ صورت احتکار نہیں اور جب جائز ہے تو مل کر کام کرنا بھی ناجائز نہیں بلکہ بہتر ہے کہ اہل اسلام کا میل جول شرعا محمود ہے اور وہی آیتیں بھی جواز کی کافی دلیل ہیں۔

(فتاوی نوریہ، جلد 4، صفحہ  148، دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور ضلع اوکاڑہ)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button