ARTICLES

ایام منیٰ میں گروپ ارگنا ئزروں کا حجاج کو منیٰ چھوڑنے کی ترغیب دلانا

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ منیٰ میں رات کا اکثر حصہ گزرنا سنت موکدہ ہے اب ہوا یہ ہے کہ کئی گروپ اپریٹر (ارگنائزر) حضرات نے حاجیوں کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کہ وہ سارا دن ہوٹل میں گزارتے ہیں ایام منیٰ میں کھانا بھی عزیزیہ کے ہوٹل میں مہیا کرنا شروع کردیا ہے ان دنوں خیمے حاجیوں سے خالی ہوتے ہیں حالانکہ شیخ عبدالحق محد ث دہلوی علیہ الرحمۃ کی عبارت ہے کہ ایام منیٰ میں حرم کعبہ میں نمازپڑھنے سے بھی منیٰ میں نماز پڑھنا افضل ہے ایام نحر میں منیٰ میں دن میں ٹھہرنے کا کیا حکم ہے کیا یہ ٹھہرنا سنت ہے یا مستحب ہے ؟

(السائل : محمد عرفان ضیائی ، میٹھادر، کراچی )

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج ادا فرمایا جسے ’’حجۃ الوداع‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے کتب احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ ایام منیٰ میں جب یوم نحر (دس ذی الحجہ) کو منیٰ تشریف لائے تو سوائے طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے جانے کے کہیں بھی تشریف نہیں لے گئے ،اپ ﷺ طواف زیارت کرنے کے بعد بلا تاخیر منیٰ واپس تشریف لائے ، پھر تیرہ تاریخ تک دن اور رات منیٰ میں قیام فرمایا۔چنانچہ اما م ابوداود سلیمان بن اشعث سجستانی متوفی 275ھ (الف-91) اور امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی 485ھ (ب-91)لکھتے ہیں :

’’ عن ابن عمر انہ کان یاتی الجمار فی الایام الثلاثۃ بعد یوم النحرماشیا ًذاھبا و راجعا، ویخبر : ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ن یفعل ذلک‘‘

یعنی، ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اپ یوم نحر (یعنی دس ذوالحجہ) کے بعد تینوں دن (یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ ) میں جمرات پر پیدل اتے اور جاتے اور بتاتے تھے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے ‘‘۔ اس کے تحت ملا علی قاری حنفی متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

قال الطبری : فی الحدیث دلالۃ علی ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم استکمل الایام الثلاثۃ۔‘‘ (89)

یعنی، امام طبری نے فرمایا اس حدیث شریف میں اس بات پر دلالت ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کے بعد کے تین دن منی میں پورے فرمائے ۔ اور لکھتے ہیں کہ :

بہ صرح ابن حزم فی صفۃ حجۃ صلی اللہ علیہ وسلم،فقال : اقام بھا یوم النحر ولیلۃ القر ویومہ، ولیلۃ النفر الاول و یومہ، ولیلۃ النفر الثانی ویومہ،ھذہ ایام التشریق وایام منی (90)

یعنی، اسی کی ابن حزم نے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ کے حج کی صفت کے بیان میں تصریح کی ہے ، پس کہا کہ اپ ﷺ یو م نحر (دس ذوالحجہ کے دن)، قر (یعنی گیارہ) کی رات اور اس کا دن اور نفر اول (یعنی بارہ) کی رات اور اس کا دن اور نفر ثانی (یعنی تیرہ) کی رات اور اس کا دن منیٰ میں ٹھہرتے اور یہ ایام تشریق اور ایام منیٰ ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ نے ایام منیٰ سر زمین منیٰ میں گزارتے اور نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اسی میں ہے کہ حاجی سوائے طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے کہ ایام منیٰ میں منیٰ کو نہ چھوڑے اور ایام منیٰ میں منیٰ میں نماز ادا کرنا مسجد الحرام میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔چنانچہ ملا علی قاری حنفی حنفی نقل کرتے ہیں :

من ثم قال السبکی : صلاۃ الظھر بمنیٰ یوم النحر افضل منھا بمکۃ بالمسجد الحرام۔‘‘ (91)

یعنی : اسی لئے امام سبکی نے فرمایا : نحر کے روز نماز ظہر منیٰ میں پڑھنا مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘ لہذا حجاج کرام کو چاہئے کہ وہ یہ ایام منیٰ میں ہی گزاریں اور خاص طور پر بعض گروپ اپریٹرز نے حجاج کرام کے حالات کو د یکھتے ہوئے منیٰ میں کھانے کا بندوبست کرنے کی بجائے عزیزیہ وغیرہ میں کھانا مہیا کرنا شروع کردیا ہے جو حاجی نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ کے مبارک طریقے کے تارک ہیں ، یہ گروپ اپریٹرز کی جانب سے ان کی ترک سنت پر معاونت ہے اور جو حاجی حضور ﷺ کی مبارک سنت پر علم پیرا ہوتے ہیں ان کو ترک سنت پر مجبور کرنا ہے لہٰذا انہیں اس سے باز انا چاہیے ۔ کوئی گروپ ارگنائزر جسے رسول اللہ ﷺ کی مبارک سنت کا ذرا برابر بھی لحاظ نہ ہو اور وہ منیٰ میں کھانے کا اہتمام کرنے کی بجائے عزیزیہ وغیرہ میں ہی کھانا مہیا کرنے پر مصر ہو تو حاجی صاحبان کو چاہئے کہ وہ کھانے کو چھوڑ کر سنت کی ادائیگی کو ترجیح دیں اور اس بات پر غور کریں کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ، صحابہ کرام علیہم الرضوان، تابعین عظام اور ہمارے دیگر اسلاف کیسے منیٰ میں قیام کرتے تھے سوائے طواف زیارت کے منیٰ کو نہ چھوڑتے تھے جب کہ اس زمانے میں اجکل پائی جانے والی سہولتیں بھی موجود نہ تھیں ۔ لہٰذا ایام منیٰ سرزمین منیٰ پر گزارنا نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ کی مبارک سنت اور عمل صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے ،اس لئے حاجی کو چاہیئے کہ صرف طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ کو جائے اور ایام منیٰ میں منیٰ میں ہی رہے اور نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کو زندہ رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

ذو الحجۃ 1436ھـ، ستمبر 2015 م 982-F

حوالہ جات

(الف-89) ۔ سنن ابی داود، کتاب المناسک، باب رمی الجمار، برقم : 1969، 2/339

(ب-89)۔ و السنن الکبری للبیہقی، کتاب الحج، باب استحباب النزول فی الرمی الخ ، برقم : 9558، 5/213

90۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب رمی الجمار،فصل : اذا فرغ من الرمی، تحت قولہ : و رمیھا علی الجمرۃ مکروہ، ص 345

91۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب رمی الجمار، فصل : اذا فرغ من الرمی، تحت قولہ : و رمیھا علی الجمرۃ مکروہ، ص 345

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button