شرعی سوالات

اگلے سالوں کی پیداوار کو خریدنا مطلقاً جائز نہیں ہے ۔

اگلے سالوں کی پیداوار کو خریدنا مطلقاً جائز  نہیں ہے ۔

حربی کافر کے ساتھ یہ بیع جائز ہے

سوالات:

(۱) باغ کی بیچ کرنا اس حالت میں کہ بور آ تا ہو یا صرف پتے ہی ہوں اور پھل آنے کا وقت قریب ہو یا آئندہ پانچ یا دو سال کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

(۲) پھولوں کی بیع اس کی کم سے کم کتنی حالت میں جائز ہے؟

(۳) یہ بیع کا فر حربی اور مسلم کے درمیان یکساں حکم رکھتی ہے یا جدا گا نہ؟

جوابات:

بہار شریعت میں عالمگیری کے حوالہ سے ہے کہ فصل اس وقت بیچ ڈالی کہ ابھی نمایاں بھی نہیں ہوئی ہے ، یہ بیع باطل ہے اور اگر پھل ظاہر ہو چکے ہیں مگر قابل انتفاع نہیں ہوئے یہ بیچ صحیح  ہے گر مشتری پر فوراً توڑ لینا ضروری ہے اگر یہ شرط کر لیا جائے کہ جب تک تیار نہ ہوں گے تب تک درخت پر رہیں گے بیع فاسد ہے۔ اور اگر بلا شر ط خریدے ہیں اگر بائع نے بعد بیع اجازت دے دی کہ تیار ہوئے تک درخت پر ر ہیں گے تو اب کوئی حرج نہیں۔

(۳) ہندوستان کے غیر مسلموں سے ان کا مال عقود فاسدہ کے ذریعے ان کی مرضی سے حاصل کرنا جائز ہے ۔مگر دیندار اور اہل شرف مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے کہ برے کام کی طرح برے نام سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

(فتاوی بحر العلوم، جلد4، صفحہ100، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button