شرعی سوالات

اپنے حق کے حصول کے لئے جو کچھ خرچ کرے وہ مدعی علیہ پر لازم نہیں ہوتا

اپنے حق کے حصول کے لئے جو کچھ خرچ کرے وہ مدعی علیہ پر لازم نہیں ہوتا

مدعی علیہ  کے  غا صب ہونے کی صورت میں  زمین کی آمدنی فقراء پر تصدق  ہو گی

سوال:

انگریزی سن 1900ء میں مولوی فخرالدین مہاجر مدنی نے مدینہ طیبہ میں انتقال کیا۔ان کی زمین ضلع بریلی میں واقع ہے۔اس پر مولوی حامد حسین 1890ء سےمختار عام  تھے۔1900ء میں مولوی حامد حسین نے مصلحتاً حقیت مذکورہ پر اپنے نام کا داخل خارج کرالیا تھا۔سن 1900ء سے سن1916ء  تک حقیت مذکورہ پر خود متصرف رہے ۔آخر سن1916ء میں مولوی حامد حسین کا انتقال ہوگیا۔1911ء میں غفورالدین نے حقیت مذکورہ پر مولوی فخر الدین کے ورثاء مسماۃ نصیر النساء  ،ومشکورالنساء ہمشیرگان ولطف النساء زوجہ پر دعوی عصوبۃ کیا کہ میں فخر الدین کا عصبہ ہوں۔1918ء میں غفورالدین کو اس دعوی میں کامیابی ملی۔ آخر 1916 ء میں جب حامد حسین کا انتقال ہوگیا،حقیت مذکورہ کے تحصیل کاغذات میں نام حامد حسین کا تھا۔اسی وجہ سے غلط داخل خارج حامد حسین کے ورثاء کا ناجائز ،روپیہ پر دس فیصد ہوگیا۔اور 1916ء سے 1918ء کا منافعہ بھی ناجائزحقیت مذکورہ روپے میں سے دسواں حصہ حامد حسین کی وراثان پاتی رہیں ۔اب 1921ء میں ورثاء مولوی فخر الدین کی اولاد نے دعوی کیا کہ جائیداد مذکورہ مولوی فخر الدین کی ہے ،حامدحسین کی نہیں لہذا حامد حسین کے ورثاء سے واپس دلائی جائے۔لہذا وہ واپس دلائی گئی۔وراثان نصیرا لنساء ومشکور النساء میں حامد حسین مذکور بھی حصہ دار تھے۔اس وجہ سے دعوی استقرار یہ مذکورہ میں وہ ترکہ حامد حسین کا ان کی دختر امت الرحیم اور وعباسی بیگم  وحکیم النساء زوجگان ومحمود حسین برادر کو ملا ۔اب غفور الدین نے دعوی عصوبۃ مندرجہ بالا1911ء کا خرچہ  و زر واصلات چاہا ہے۔وارثان لطف النساء کہتے ہیں ہم پر نہیں پڑنا چاہیے۔وراثان نصیرالنساء ومشکور النسا کہتے ہیں کہ 1911 سے 1916ء تک کی آمدنی حقیت متنازعہ مندرجہ بالا کی حامد حسین کے تحت وتصرف میں رہی اور اس سے مستفیض دخر وزوجگان حامد حسین رہے اور بعد وفات بھی تین سال تک اس کی وارثان لیتی رہیں جس کو اب وہ واپس نہیں کرتے لہذاخرچہ وزر واصلات حامد حسین کے ترکہ مندرجہ بالا پڑھنا چاہیے۔ورثاء حامد حسین کہتے ہیں کہ سب پر پڑنا چاہیے۔اس بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ملخصاً

جواب:

اپنے حق کے حاصل کرنے میں جو کچھ صرف ہوگا وہ شرعاً اسی پر ہے نہ کہ مدعاعلیہ پر ۔یہ صرف مدعاعلیہ سے کسی عقد کے معاوضہ میں لیا جاسکتا ہے۔شرع سے وہ چیز مدعی کو ملے گی جس کا اس نے دعوی کیا ہے اگر اپنے دعوی کو ثابت کردے۔یونہی زر واصلات بھی مدعی کو نہیں مل سکتے بلکہ اگر مدعا علیہ غاصب ہے تو اس پر واجب  ہے کہ جو کچھ آمدنی ہے وہ فقراء پر تصدق  کرے اور اگر حقیقہ غاصب نہیں ہے تو ملک خبیث بھی نہیں  نہ تصدق واجب ۔ بہرحال مدعی کو زر واصلات کا شرعا بالکل استحقاق نہیں کہ وارثان لطف النساء سے لینا جنھوں نے نہ غصب کیا نہ منافع جائداد مغصوبہ سے انھیں سروکار رہا ان سے یا ہمشیرگان حامد حسین سے خرچہ و زر واصلات لینا سراسر ظلم ۔اگر غفور الدین کا حق غصب کیا تھاتو حامد حسین نے کہ انھوں نے اپنے نام داخل خارج کرایا اگر پڑتا تو حامد حسین کی جائیداد پر پڑتا نہ کہ دوسروں پر اورشرعا حامد حسین یا حامد حسین کی جائداد پر بھی نہیں ۔                

                                           (فتاوی امجدیہ، کتاب الغصب ،جلد3،صفحہ 285تا286،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی) 

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button