ARTICLES

اونٹ یا گائے میں شریک افراد کی جہات مختلفہ

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند افراد کہ جن پر دم لازم تھے مل کر ایک اونٹ یا گائے ذبح کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر چار افراد نے مل کر ایک گائے یا ایک اونٹ خریدا اور ایک کے دو دم تھے دوسرے کے بھی دو اور تیسرے اور چوتھے کا ایک ایک دم تھا، چوتھے شخص نے کہا کہ میرا ایک دم ہے اور ایک حصہ میں اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہوں تو یہ صورت شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

(السائل : ایک حاجی، از مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : چند افراد مل کر دم دینے کے لئے اونٹ یا گائے ذبح کر سکتے ہیں چنانچہ حدیث شریف ہے :

’’البدنۃ عن سبعۃٍ و البقرۃ عن سبعۃٍ‘‘ورد ذلک فی حدیث جابرٍ (95)، و ابن عباس و ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم

یعنی، اونٹ سات کی طرف سے اور گائے سات کی طرف سے ۔ اور دوسری صورت جائز ہے جب کہ کسی کا گوشت کھانے کا ارادہ نہ ہو یعنی چھ دم اور ساتواں حصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہی ہو، چنانچہ علامہ ابو منصور کرمانی لکھتے ہیں :

و لو اشترک جماعۃ فی بدنۃٍ او بقرۃٍ یریدون القربۃ اجزاھم، سواء اختلفت بھم الجہات، او اتحدت، بان یذبح واحد عن تمتعٍ و الاخر احصارٍ و غیر ذلک من القرب، فان کان احدھم یرید اللحم، او کان ذمیا یرید القربۃ لم یجز عن احدٍ منہم (96)

یعنی، اگر ایک جماعت اونٹ یا گائے میں شریک ہوئی سب قربت الی اللہ کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کو جائز ہے چاہے ان کی جہات مختلف ہوں یا متحد، اس طرح کہ ایک حج تمتع کی طرف سے ذبح کرتا ہے دوسرا دم احصار اور اس کے علاوہ اور قربتیں (97) پس اگر ان میں سے کوئی ایک گوشت کا ارادہ رکھتا ہے یا ذمی کافر ہے جو قربت چاہتا ہے تو ان میں سے کسی کی طرف سے بھی جائز نہیں ہو گا۔ (98) لہٰذا اس طرح کرنے سے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے سب کے دم ادا ہو جائیں گے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم السبت، 18ذوالحجۃ 1433ھ، 3 نوفمبر 2012 م 823-F

حوالہ جات

95۔ حدیث جابرٍ اخرجہ مسلم فی ’’صحیحہ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب الاشتراک فی الھدی و اجزاء البقرۃ الخ، برقم : 350۔ (1318)، 2/955) و ابو داود فی ’’سننہ‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الضحایا، باب فی البقرۃ و الجزور، عن کم تجزی؟ برقم : 2809، 3/164) و الترمذی فی ’’سننہ‘‘ (سنن الترمذی، کتاب الاضاحی، باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنۃ، برقم : 1502، 2/447) و ابن ماجۃ فی ’’سننہ‘‘ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الاضاحی، باب عن کم تجزی البدنۃ و البقرۃ، برقم : 3132، 3/536)

96۔ المسالک فی المناسک، فصل فیما یجزی و ما لا یجزی بالاسنان، 2/994

97۔ المبسوط (کتاب الذبائح، باب الاضحیۃ، 6/12/11)، و البدائع الصنائع (بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، فصل فی شروط جواز اقامۃ الواجب، 6/306)

98۔ الجامع الصغیر، کتاب الذبائح، ص231۔ و بدایۃ المبتدی، کتاب الاضحیۃ، 3۔4/356۔ البحر الرائق، کتاب الاضحیۃ، تحت قولہ : و ان مات احد الخ، 8/325

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button